Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 852

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:قَالَ لِیْ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: هٰذَا جِبْرِيْلُ يَقْرَاُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ:قُلْتُ:وَعَلَيْهِ السَّلَا مُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال لی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: هذا جبريل يقرا عليك السلام قالت:قلت:وعليه السلا م ورحمة الله وبركاته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”یہ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) ہیں جو تجھے سلام کہہ رہے ہیں ۔“ فرماتی ہیں : میں نے عرض کی :وَعَلَيْهِ السَّلَا مُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُیعنی ان پر بھی سلام،اللّٰہکی رحمت اور برکتیں ہوں۔

شرح حدیث

کسی کے ذریعے سلام کہلوانا مستحب ہے:اِمَا م نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:اِس حدیث میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی بہت واضح فضیلت موجود ہے کہ فرشتوں کے سردار حضرت سَیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامانہیں سلام کہتے ہیں۔اس حدیثِ پاک سے اور بھی کئی مسئلے معلوم ہوئے مثلاً: کسی کے ذریعے سلام کہلوانا مستحب ہے۔جو سلام پہنچانے پررضامند ہوجائے اسے سلام پہنچانا لازم ہے۔ اجنبی نیک خاتون جس سے فتنے کاخوف نہ ہواسے سلام بھجوانا جائز ہے ۔ جو کسی کا سلام لے کر آئے اسے بھی جواب میں شامل کرلینا چاہئے ۔جب کسی سے کہا جائے کہ”فلاں نے تجھے سلام کہا ہے۔“ تو فوراً جواب دینا ضروری ہے ۔ سلام کا جواب”وَعَلَیْکَ السَّلامُ“یا ”وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ“کے ساتھ دیاجائے۔ اگرعَلَیْکُمُ السَّلامُیا صرفعَلَیْکُمُکہہ دیا جب بھی کفایت کرے گا لیکن افضل کا ترک ہوگا ۔( ) جب کوئی کسی کا سلام لائے تو اس طر ح جواب دیں”عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام“ یعنی تجھ پر بھی اور اس پر بھی سلام ہو۔مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:حضور!میرے والدنے آپ کو سلام کہا ہے۔رحمتِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:عَلَیْکَ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَامُیعنی تجھ پر اور تیرے والد پر سلام ہو ۔سلام پہنچانے کا حکم :کسی سے کہہ دیا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا تو اس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور جب اس نے سلام پہنچایاتوجواب دینے والا پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے سلام کہے یعنی یہ کہےوَعَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام۔جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو اگرچہ یہ کہنا افضل ہےکہعَلَیْكَ وَعَلَیْہِ السَّلَاممگر یہ کہنا بھی درست ہےوَعَلَیْہِ السَّلَام۔ کسی کا سلام پہنچانا اسی وقت واجب ہوتاہے جب اس نے اس کا التزام کر لیا ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ ہاں تمہارا سلام پہنچادوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضورِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے۔
سلامِ شوق کہنا حاجیو میرا بھی رو رو کر ……… تمہیں آئے نظر جب روضۂ اَنور مدینے میں
خط میں لکھے سلام کا حکم:
بہار ِشریعت میں ہے:خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔ مگر چونکہ جواب سلام فوراً دینا واجب ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اگر فوراً تحریری جواب نہ ہو جیسا کہ عموما ً یہی ہوتا ہے کہ خط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا خواہ مخواہ کچھ دیر ہوتی ہے تو زبان سے جواب فوراً دے دے، تاکہ تاخیر سے گناہ نہ ہو۔اعلیٰ حضرت قبلہ
قُدِّسَ سِرُّہُجب خط پڑھا کرتے تو خط میں جواَلسَّلامُ عَلَیْکُمْلکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔مدنی گلدستہ’’بھلائی‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی شان بہت بلند ہے فرشتوں کے سردار حضرت جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامبھی انہیں سلام کہتے ہیں ۔
(2) جب فتنے کا خوف نہ ہو تواجنبی نیک خاتون کو سلام بھجوانا جائز ہے ۔
(3) کسی کے ذریعے سلام کہلوانا مستحب ہے، جو سلام پہنچانے پرراضی ہوجائے اس پر سلام پہنچانا لازم ہے۔
(4) جب کوئی کسی کا سلا م لے کر آئے تو اس کاجواب بھی فوراًدینا واجب ہے ۔
(5) جب کوئی کسی کا سلام لائے تو افضل یہ ہے کہ
عَلَیْكَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُکے ذریعے جواب دیا جائےمگر صرفوَعَلَیْہِ السَّلَامُکہنے سے بھی جواب ہوجائے گا ۔
(6) خط میں لکھے سلام کا بھی جواب دینا واجب ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام کا جوا ب جلدی دینےاور اس میں تاخیر کرنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 852