Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 856

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:عَلَيْكَ السَّلَامُ يَارَسُوْلَ الله.قَالَ:لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلامُ! فَاِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَ مُ تَحِيَّةُ المَوتٰی.

عن ابي جري الهجيمي رضي الله عنه قال:اتيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقلت:عليك السلام يارسول الله.قال:لا تقل عليك السلام! فان عليك السلا م تحية الموتی.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوجُرَیْہُجَیْمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوااور اس طرح سلام کیا:عَلَیْکَ السَّلَامُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ(یارسولَ اللّٰہآپ پر سلام ہو)!آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:عَلَیْکَ السَّلَامنہ کہو، کیونکہ یہ مُردوں کا سلام ہے۔

شرح حدیث

عَلَیْکَ السَّلَامسے سلام کرنے کی ممانعت :حدیث میں”عَلَیْکَ السَّلَام“ کہہ کر سلام کرنے سے منع کیاگیاہے،یہ ممانعت تنزیہی ہے۔ اس ممانعت کی کئی وجہیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:(1)عَلَیْکَ السَّلَامُمُردوں کاسلام ہے،امورِ شرعیہ سے جہالت کی بنا پرزمانہ جاہلیت میںعَلَیْکَ السَّلَامُکے ذریعے مُردوں کو سلام کیا جاتا تھا۔(2)یہ الفاظ جواب کے لئے مشروع ہیں ،سلام کے لئے نہیں ۔(3)سلام کے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہےکہ سلام کرنے والاابتداءً ہی سلام کا لفظ کہےتاکہ مخاطب کوتشویش نہ ہوکیونکہ ابتداءً ہیعَلَیْکَسنے گا توپریشان ہوگا اورگمان کرے گا کہ شاید سامنےوالابددعاکرنےلگا ہے،تو حکم دیاگیا کہ سلام کالفظ پہلے کہہ کراپنے مسلمان بھائی کو تشویش سے بچائے اور اسے اُنس پہنچانے میں جلدی کرے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’عَلَیْکَ السَّلَامنہ کہوکہ یہ مُردوں کا سلام ہے بلکہاَلسَّلَامُ عَلَیْکَکہو۔‘‘ اس جملہ کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں:ایک یہ کہ قبرستان میں جاکر مُردوں کوعَلَیْکَ السَّلَامُکہومگریہ غلط ہے کیونکہ وہاں بھیاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفارِعرب قبرستان جاکر مُردوں کو یہ سلام کرتے تھے۔تیسرے یہ کہ جب مُردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں توعَلَیْکَ السَّلَامکہتے ہیں۔ چوتھے یہ کہعَلَیْکَ السَّلَامکہنا مُردوں کے لیے مناسب ہے زندے سلام تواَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْسے کریں اور جواب میںوَعَلَیْکُمُ السَّلَامُبولیں۔وَاﷲ ُاَعْلَمفقیر کے نزدیک تیسری توجیہ قوی ہے۔مدنی گلدستہجنت کے 8دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جو غلط سلام کرے اس کی اِصلاح کرنی چاہیے۔
(2) غلطی کرنے والا اگرسمجھانےسے سمجھ جائے گا تو اسے سمجھا نا ضروری ہے باوجودِ قدرت نہ سمجھانے والے سے آخر ت میں مواخذہ ہوسکتاہے جبکہ اس غلطی کا تعلق شرعی خلاف ورزی اور گناہ سے ہو۔
(3) جس کی اِصلاح مقصود ہو اسے اَحسن انداز میں غلطی بتا ئی جائے تاکہ آئندہ اس غلطی سے بچ سکے۔
(4)
عَلَیْکَ ا لسَّلامیاعَلَیْکُمُ ا لسَّلَامکہہ کر سلا م نہ کیا جائے۔
(5) شرعی احکام کی تبلیغ کے لئے اپنے زمانے کا عرف معلوم ہونابھی ضروری ہے ۔
(6) جب مُردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو
عَلَیْکَ ا لسَّلامکہتے ہیں۔
(7) جب دو مسلمان آپس میں ملیں تو سنت یہ ہےکہ سلام کرنےوالا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہے اور جواب دینے والاوَعَلَیْکَ السَّلَامیاوَعَلَیْکُمُ ا لسَّلَامکہے ۔
(8) اپنے مسلمان بھائی کو تشویش و پریشانی سے بچا کرخوش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 856