Main Icon

باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 854

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ المِقْدَادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في حدِيثهِ الطَّوِيْلِ قَالَ:كُنَّا نَرْفَعُ لِلنَّبيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصِيْبَهُ مِنَ اللَّبَنِ فَيَجِيْءُمِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوْقِظُ نَائِمًاوَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ.

عن المقداد رضي الله عنه في حديثه الطويل قال:كنا نرفع للنبي صلی اللہ علیہ وسلم نصيبه من اللبن فيجيءمن الليل فيسلم تسليما لا يوقظ نائماويسمع اليقظان فجاء النبي صلی اللہ علیہ وسلم فسلم كما كان يسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا مِقدادرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہےکہ ہم نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے آپ کے حصے کا دودھ اٹھا کر رکھ دیاکرتے تھے ۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب رات کو(گھر میں) تشریف لاتے تو اس طرح سلام کرتےکہ سونے والابیدار نہ ہوتا اورجاگنے والا سُن لیتا۔پس نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(اسی طرح ایک مرتبہ)تشریف لائے اورمعمول کے مطابق سلام کیا ۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ جب بندہ اہل خانہ کے پاس آئے تو انہیں سلام کرے، اگر لیٹے ہوئے ہوں تو اتنی آواز سے سلام کرے کہ جاگنے والے سن لیں اور سونے والوں کی نیند میں خلل نہ آئے ۔ حدیثِ مذکور سے جہاں سلام کی اہمیت معلوم ہوئی وہیں دوسروں کے آرام کا لحاظ کرنے کا درس بھی ملا ۔اچھا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کو دینی ودنیوی نفع پہنچائے اور انہیں ہر طرح کےنقصان سے بقدر امکان بچانے کی کوشش کرے ۔ یہی اسلامی تعلیم اور یہی ہمارے اَسلاف کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکا مبارک طریقہ ہے ۔سلام کتنی آواز سے کیا جائے؟اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :”سلام وجواب اتنی آواز سے ہوکہ سامنے والا سن لے۔ اس سے زیادہ آواز نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں اگر سامنے والے تک آواز نہ پہنچنے کا اندیشہ ہوتو بقدرِضرورت آواز بلند کی جائے۔جہاں کچھ لوگ جاگے ہوئے ہوں،کچھ سو رہے ہوں تو وہاں آواز اتنی پست ہونی چاہئے کہ جاگنے والے سن لیں اور سونے والوں کی نیند میں خلل نہ آئے ۔“مدنی گلدستہ’’زم زم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر ادا کو بغور دیکھتے ، اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے اور دوسروں تک پہنچاتے ۔
(2) سلام اور اس کے جواب میں کم از کم اتنی آواز ہونی چاہئےکہ سامنے والا سن لے ۔
(3) جہاں کچھ لوگ سورہے ہوں،کچھ جاگ رہے ہوں وہاں اتنی آواز میں سلام کیا جائے کہ سونے والوں کی نیند میں خلل نہ ہو اور جاگنے والے سن لیں ۔
(4) اچھا مسلمان وہ ہے جودوسروں کو تکلیف دینے کے بجائے انہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے اہل خانہ کو سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 854