Main Icon

باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 683

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الْاِ يمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً فَاَفْضَلُهَا قوْلُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَدْنَاهَا اِمَاطَةُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَالْحَيَاءُشُعْبَةٌ مِنَ الْاِيمَانِ.

عن ابي هر يرةرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الا يمان بضع وسبعون او بضع وستون شعبة فافضلها قول لا اله الا الله وادناها اماطة الاذى عن الطريق والحياءشعبة من الايمان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ایمان کےساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ہیں۔ ا ن میں سے افضللَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکہنا اورسب سے ادنیٰ درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اورحَیا(بھی)ایمان کا ایک شعبہ ہے۔‘‘

شرح حدیث

ایمان کے 77شعبے:حدیثِ مذکور میں فرمایا گیا کہ ایمان کےساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ہیں ۔عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے77شعبوں کو بالتفصیل ذکر فرمایا ہے،آپ بھی ملاحظہ کیجئے:(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپر،اس کی ذات وصفات اوراس کی وحدانیت پر ایمان لاناکہ اس کی مثل کوئی نہیں ہے۔(2)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےعلاوہ سب کو حادِث ماننا(3)اس کےفرشتوں پرایمان لانا(4)اس کی کتابوں پر ایمان لانا (5)اس کے رسولوں پر ایمان لانا(6)اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لانا(7)قیامت، قبر کے سوال وعذاب ، میزان عدل قائم ہونے اور پل صِراط سے گزرنےپرایمان لانا (8)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےجنت کے وعدےاوراس میں ہمیشہ رہنے پریقین رکھنا (9)دوزخ کی وعیدوعذاب اوراس کی ہمیشگی پرایمان لانا(10)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنا (11) رضائے الٰہی کے‏∞لیےمحبت وعداوت رکھنااسی طرح تمام مہاجرین وانصارصحابَۂ کرام اور اہل بیتسےمحبت رکھنارِضْوَانُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن(12)حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسےمحبت کرناآپپر درودِ پاک پڑھنااورآپ کی سنت کی پیروی کرنا (13)اِخلاص اختیار کرنا، ریاکاری ومنافقت ترک کر دینا(14)توبہ وندامت(15)خوفِ خدا(16)اللّٰہکی رحمت کی اُمید ہونا (17) رحمتِ اِلٰہی سے مایوس نہ ہونا (18) شکر ادا کرنا (19) وعدہ پورا کرنا(20)صبر کرنا(21) تواضع و انکساری کرنا، بڑوں کی تعظیم کرنا (22)چھوٹوں پر شفقت کرنا (23)تقدیرپرراضی رہنا(24)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکل وبھرو سہ کرنا (25)خود پسندی میں مبتلا نہ ہونا، اپنی تعریف کرنے سےبچنا،اپنے آپ کوگناہوں سےپاک وصاف نہ سمجھنا (26)حسدنہ کرنا(27) کسی سے کینہ نہ رکھنا(28)غصہ ترک کرنا(29)خیانت،کسی کے متعلق بدگمانی اورمکروفریب سے بچنا (30)دنیا کی محبت ترک کرنا، مال ودولت اور جاہ ومرتبہ کی محبت دل سے نکال دینا (31)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت کا زبان سےاقرار کرنا (32)قرآن پاک کی تلاوت کرنا(33)علم سیکھنا (34)علم سکھانا(35)دعا کرنا (36) ذِکر و اِستغفار کرنا (37) فضول گوئی سے بچنا(38)پاکیزگی یعنی وضو وغسل کے ذریعے بدن کو حَدَث وجَنَابَت اور حَیْض ونِفَاس سے پاک رکھنا، کپڑے اور مکان پاک رکھنا (39) نمازقائم کرنا، اس میں فرائض ونوافل اور قضانمازیں بھی داخل ہیں۔(40)زکوٰۃ وصدقہ فِطر ادا کرنا،سخاوت کرنا، کھانا کھلانا اورمہمان نوازی کرنا (41)فرض و نفل روزے رکھنا (42) حج وعمرہ کرنا(43) اعتکاف کرنا اورلَیْلَۃُ الْقَدْرکی جستجو کرنا(44)دین کی حفاظت کے‏∞لیے بُرے اُمُور سےدُور بھاگنااورمشرکوں کےعلاقے سےہجرت کرنا (45) مانی ہوئی نذر پوری کرنا (46)قسم پوری کرنا (47)کفارہ ادا کرنا (48)نمازاور بیرونِ نماز سِتر چھپانا (49)قربانی کرنا (50) مسلما نوں کےجنازوں کے ساتھ جانا(51)قرض ادا کرنا (52) معاملات میں سچائی برتنا اور ریا کاری سے بچنا (53)سچی گواہی دینا اور اسے نہ چھپانا (54)نکاح کے ذریعے پاک دامنی حاصل کرنا(55)اہل وعیال کے حقوق پورے کرنا اور خادموں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا (56) والدین کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا اور ان کی نافرمانی سے بچنا(57)اولاد کی اچھی تربیت کرنا(58)صلہ رحمی کرنا (59) غلاموں کا اپنے آقا کی اطاعت کرنا (60) عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنا (61)جماعت کی پیروی کرنا (62) حکمرانوں کی اطاعت کرنا (63)لوگوں کی اِصلاح کرنااورخوارج وباغیوں سےجنگ کرنا(64)نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا (65)نیکی کا حکم دینا اوربُرائی سےمنع کرنا(66)حدودقائم کرنا (67)جہادکرنااوراس کے‏∞لیے ہر وقت تیاررہنا(68)امانت اور مال غنیمت کا خُمس ادا کرنا(69)وعدے کے مطابق قرضہ ادا کرنا (70) پڑوسیوں کااحترام کرنا(71)معاملات میں اچھائی برتنا اورحلال روزی کمانا (72)جائز امور میں مال خرچ کرنا فضول خرچی اور اِسراف سے بچنا(73)سلام کا جواب دینا (74) چھینکنے والے کوجواب دینا (75) لوگوں سے نقصان کودورکرنا (76) لہو ولعب سے بچنا(77) راستے سے تکلیف دہ شے ہٹانا۔‘‘سب سے بہترین حیا:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’حیاکوایمان کاشعبہ اس‏∞لیے کہاگیاہےکہ حیا اچھے اعمال کی طرف اُبھارتی اوربُرائیوں سے روکتی ہے۔ایمان کے شعبوں کواجمالاًذکر کرنے کے بعدحضور نبی رحمت،شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےخصوصی طور پر حیا کو ذکر کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ حیا ایمان کے تمام شعبوں کی طرف بلاتی ہے حیا دار بندہ دنیا کی رُسوائی اورآخرت کے خوف سے اپنےآپ کو گناہوں سے بچاتا اوراَحکامِ الٰہی بجا لاتا ہے۔سب سے بہترین حیااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنا ہے، وہ یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتجھے وہاں نہ دیکھے جہاں سے اس نے تجھے منع کیا ہے اور یہ معرفت و مراقبہ ہی کی بدولت ممکن ہے۔حضور نبی کریم ،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس فرمانِ عالی سے یہی مراد ہےکہ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اس طرح عبادت کر گویا تُو اُسے دیکھ رہا ہے ،اگر تُو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تجھے ضرور دیکھ رہا ہے۔‘‘اسی طرح ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسےاس طر ح حیا کروجیسااس سے حیا کرنے کا حق ہے۔“حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم حیا کرتے ہیں اورتمام تعریفیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہی کے لئے ہیں۔ فرمایا:حیا یہ نہیں ہے ،بلکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کا حق یہ ہے کہ سراورجو کچھ اس کے ارد گرد ہے اس کی حفاظت کرو، پیٹ اور جو کچھ اس کے ارد گرد ہے اس کی حفاظت کرو، موت اور موت کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرو ، پس جس نے یہ کر لیااس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کا حق ادا کردیا۔“حیا اورایمان کا باہمی تعلق:حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں :”حیا اورایمان ایک لڑی میں پروئی ہوئی دو چیزیں ہیں، جب ان میں سے ایک نکل جاتی ہے تو دوسری بھی باقی نہیں رہتی۔“اِیمان کااعلیٰ رُکن :مرآۃ المناجیح میں ہے:”شرم وحیااِیمان کا رُکن اعلیٰ ہے۔دنیا والوں سے حیادُنیاوی بُرائیوں سے روک دیتی ہے، دین والوں سے حیادینی بُرائیوں سے روک دیتی ہے۔اللّٰہورسول سے شرم و حیاتمام بدعقیدگیوں، بدعملیوں سے بچالیتی ہے۔ایمان کی عمارت اسی شرم و حیا پر قائم ہے۔درختِ ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں رہتی ہے اس کی شاخیں جنت میں ہیں ۔“راہ سےتکلیف دہ چیز اٹھانے پر مغفرت:حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ایک آدمی کہیں جا رہا تھا ، راستے میں اسے ایک کانٹےدار شاخ ملی تو اس نے اس شاخ کو راستے سے ہٹا دیا، پساللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےاسے اس کا اجر عطا فرمایا اوراس کی مغفرت فرما دی۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا ابنِ رُسلانرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’میں نے بعض مشائخ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامسے سنا کہ جو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائے تو اسے چاہیے کہلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہبھی پڑھ لے تاکہ ایمان کا ادنیٰ اور اعلیٰ شعبہ اورقول وفعل جمع ہوجائیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’اِیمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ایمان کا سب سے اعلیٰ شعبہ ”
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“ کہناہے۔
(2) حیاکوایمان کاشعبہ اس
‏∞لیے کہاگیاہےکہ حیا اچھے اَعمال کی طرف اُبھارتی اوربُرائیوں سے روکتی ہے۔
(3) حیا ایمان کے تمام شعبوں کی طرف بلاتی ہے۔
(4) سب سے بہترین حیا
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنا ہے۔
(5) حیا اورایمان ایک لڑی میں پروئی ہوئی دو چیزیں ہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں ایمان کے شعبوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 683