Main Icon

باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 684

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبيْ سَعَيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ اَشَدَّ حَيَاءً مِّنَ الْعَذْرَاءِ في خِدْرِهَا فَاِذَارَاٰى شَيْئًا يَكْرَ هُهُ عَرَفْنَاهُ فِيْ وَجْهِهِ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشد حياء من العذراء في خدرها فاذاراى شيئا يكر هه عرفناه في وجهه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابوسعیدخُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تو ہم آپ کے چہرۂ انور سے اُسے پہچان لیتے۔‘‘

شرح حدیث

حیا کی تعریف:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے فرمایا: حقیقت میں حیا ایسی خصلت ہے جو انسان کو بری چیزوں کے چھوڑنے پر اُبھارتی ہے اور کسی حقدار کے حق میں کمی کرنے سے روکتی ہے۔حضرت ابوالقاسم جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو دیکھنے سے جو حالت پیدا ہو وہ حیا کہلاتی ہے۔انسان کا خاص جوہر:مذکورہ حدیث پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”کنواری لڑکی کی جب شادی ہونے والی ہوتی ہے تو اسے گھر کے ایک گوشہ میں بٹھادیا جاتا ہے، اسے اردو میں ”مائیوں بٹھانا“ کہا جاتا ہے،اس جگہ یعنی گھر کےگوشہ کو”مائیں“ کہتے ہیں عربی میںخِدْراور اس زمانہ میں لڑکی بہت ہی شرمیلی ہوتی ہے،گھر والوں سے بھی شرم کرتی ہے،کسی سے کھل کر بات نہیں کرتی،حضور(صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کی شرم اس سے بھی زیادہ تھی۔ حیاانسان کاخاص جوہر ہے،جتنا ایمان قوی اتنی حیا زیادہ۔“رسولِ خدا کی شرم وحیا:حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالِکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ نبیِّ اکرم، نورِمُجَسّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب قَضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اُس وقت تک بدن مبارک سے کپڑا نہ ہٹاتے جب تک زَمین سے قریب نہ ہو جاتے۔( )حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک شخص کوميدان میں بے پردہ نہاتے دیکھا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر اَقدس پر تشريف فرما ہوئے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:”بے شکاللّٰہتعالیٰ حیادار اور پردہ پوش ہے لہذاحیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے چاہیے کہ پردہ کرے۔‘‘ناپسندیدگی کے آثار چہرۂ انور پر:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”دنیاوی باتوں میں سے کوئی بات یا کوئی چیز حضورِانور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کو ناپسند ہوتی تو زبان مبارک سے نہ فرماتےمگرچہرۂ اَنورپرناپسندیدگی کے آثار نمودار ہوجاتے تھے خدام ِبارگاہ پہچان لیتے تھے۔ایک دعوتِ ولیمہ پر دو تین آدمی حضور(صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے گھر شریف میں کھانے کے بعد بیٹھے باتیں کررہے تھے حضور کو ان کے بیٹھنے سے تکلیف ہوئی مگر ان سے نہ فرمایا کہ چلے جاؤ،رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘)(پ۲۲،الاحزاب:۵۳)تمہارا یہ عمل ہمارے نبی کی تکلیف کا باعث ہے مگر وہ تم سے حیا فرماتے ہیں، رب تعالیٰ نہیں شرماتا۔یہ ہے حضور(صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کی حیا۔“اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ناپسندیدہ شے دیکھتے تو حیا کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام نہ فرماتے بلکہ چہرہ اَنْور متغیر ہوجاتا جسے دیکھ کر صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی ناراضی کو سمجھ جاتے۔عمدۃ القاری میں ہے :”شدَّتِ حَیا کی وجہ سے آپ کسی کو اس کے منہ پر نہ ڈانٹتے بلکہ جب کوئی ناپسندیدہ شے دیکھتے توچہرۂ اَنورپر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوجاتے ۔ آپ کسی کو مُعیَّن کر کے سب کے سامنے نہ ڈانٹتے بلکہ عمومی طور پر اصلاح فرماتے اور یہ بات اُمَّت پر رحم وکرم اور ان کی عیب پوشی کے باب سے ہے۔“مصطفےٰکریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ حیا:شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ حیا یہ تھی کہ کسی کے چہرے پر بھر پورنگاہ نہ ڈالتے۔ اگر کسی کی کوئی بات پسند نہ آتی تو معین کرکے یہ نہ فرماتے کہ فلاں نے یہ کیا ہے یا یہ کہابلکہ فرماتےکہ اس قوم کی کیا حالت ہوگی جو ایسا کرتی ہے یا ایسا کہتی ہے۔اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ توفحش گوتھے، نہ کسی کو برا کہتے، نہ اونچی آواز میں بولتے ، نہ بازاروں میں شور کرتے ، نہ برائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتے۔“مدنی گلدستہ’’بیت اللّٰہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت زیادہ حیا فرمایا کرتے۔
حیاانسان کاخاص جوہر ہے،جس قدر ایمان قوی ہوتا ہے اتنی حیا زیادہ ہوتی ہے ۔
قضائے حاجت کے وقت جسم سے کپڑا اس وقت اٹھانا چاہئے جب زمین سے قریب ہو جائے۔
تنہائی میں بھی حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
نبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کوئی ناپسندیدہ شے دیکھتے تو حیا کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام نہ فرماتے بلکہ چہرۂ اَنورمتغیر ہوجاتا جسے دیکھ کر صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی ناراضی سمجھ جاتے۔
رسولِ اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کو مُعیَّن کر کے سب کے سامنے نہ ڈانٹتے بلکہ عمومی طور پر اِصلاح فرماتے۔
حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحیا کی وجہ سے کسی کے چہرے پر بھر پورنگاہ نہ ڈالتے ۔اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ ہمیں حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شرم وحیا کے واسطے شرم وحیا کی دولت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 684