- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے(عرش کے) سائے میں رکھے گا جس دن اس کے (عرش کے)سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: (1) عدل کرنے والا حاکم (2) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری(3)و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے(4)وہ دو شخص جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےلیے محبت کریں، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں۔ (5)وہ شخص جسےمنصب وجمال والی عورت (برائی کے لئے )بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں۔(6) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا۔ (7)وہ شخص جو تنہائی میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرےاور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ: اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ فِيْ عِبَادَةِ اللهِ تَعَالٰی وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِی الْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: اِنِّي اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَا حَتَّى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 659 ، باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک اِنصاف کرنے والےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے (یہ وہ لوگ ہیں)جو اپنی حکومت،اپنے اہل و عیال اور اپنے ما تحت لوگوں میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ “
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ :الَّذِينَ يَعْدِلُوْنَ في حُكْمِهِمْ واَهْلِيْهِم وَمَا وَلُوْا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 660 ، باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ αآپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘
عَنْ عَوفِ بْنِِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:خِيَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ وشِرَارُ اَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُوْنَهُمْ وَيُبْغِضُوْنَكُمْ وَتَلعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُوْنَكُمْ قَالَ: قُلْنَا:يَارَسُولَ اللهِ اَفَلَا نُنَابِذُهُمْ؟قَالَ:لَا مَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ لَامَا اَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 661 ، باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عِیاض بن حِماررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”جنتی لوگ تین (قسم کے) ہیں:(1)عدل کرنے والا حاکم جسے توفیق دی گئی ہو(2)رحم دل انسان جو اپنے رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے نرم دل ہواور (3)وہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کےباوجود سوال کرنے سے بچنے والا ہو۔‘‘
عَن عِياضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ: اَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلاَثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيْمٌ رَقِيْقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِيْ قُرْبَى ومُسْلِـمٍ وَعَفِيْفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِيَالٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 662 ، باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان