Main Icon

باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 662

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن عِياضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ: اَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلاَثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيْمٌ رَقِيْقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِيْ قُرْبَى ومُسْلِـمٍ وَعَفِيْفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِيَالٍ.

عن عياض بن حمار رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اهل الجنة ثلاثة: ذو سلطان مقسط موفق ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى ومسلـم وعفيف متعفف ذو عيال.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عِیاض بن حِماررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”جنتی لوگ تین (قسم کے) ہیں:(1)عدل کرنے والا حاکم جسے توفیق دی گئی ہو(2)رحم دل انسان جو اپنے رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے نرم دل ہواور (3)وہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کےباوجود سوال کرنے سے بچنے والا ہو۔‘‘

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:تین قسم کے لوگ جنتی ہیں :پہلامسلمانوں کے کسی معاملے پر ذمہ دار بنایا گیا وہ حاکم ہے جو عدل وانصاف کرنے والا اور توفیق یافتہ ہو یعنی اسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے رضا والے کام کرنے اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچنےکی توفیق حاصل ہو۔دوسرا وہ رحم دل انسان جو اپنے رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے نرم دل ہویعنی دل کی صفائی اور نرمی کے سبب اُس میں درشتی اور سختی نہ کرے بلکہ وہ ان پر شفیق اور ان کے احوال پر مہر بان ہو۔یہاں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کی طرف اشارہ بھی ہے۔تیسرا وہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے بچنے والا ہو۔ یعنی اسے اپنے مولیعَزَّ وَجَلَّپر کامل یقین اور وثوق ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے رزق کا ذمہ لیا ہے لہٰذا وہ کسی سے مانگتا نہیں۔حاکم کی درستی سے رعایا خود دُرست ہو جاتی ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:’’ یعنی میری اُمَّت میں تین قسم کے لوگ یقیناً جنتی ہیں۔(عدل کرنے والا حاکم جسے توفیق دی گئی ہو) یعنی جسےاللّٰہحکومت بھی دے تو وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور سلوک کرے اسے خیر کرنے خیر کرانے کی توفیق ملے کہ حاکم درست ہوجانے سے رعایا خود درست ہوجاتی ہے۔(رحم دل انسان جو اپنے رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے نرم دل ہو) یعنی عوام مسلمانوں پر عمومًا اور اپنے عزیز قرابت داروں پر خصوصًا مہربان ہو۔(اوروہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے بچنے والا ہو)یعنی وہ مسلمان جو باوجود عیالدار ہونے کے کسی سے بھیک نہ مانگے گناہ کے قریب نہ جاوے۔‘‘جنت کی طرف سبقت کرنے والے:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’یہ تین قسم کے جنتی لوگ اس لائق ہیں کہ ان کو جنت کی طرف سبقت کرنے والوں اور مقربین میں شامل کیا جائے۔مُوَفَّقاس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس کے لیے اسبابِ خیر مہیا ہوں اور نیکی کے تمام دروازے اس پر کشادہ ہوں۔رحم دل اور نرم دل ایسا ہو کہ ہر ایک پر مہر بان ہو خواہ اپنا ہو یا بیگانہ۔ان تین قسم کے جنتی لوگوں میں سے وہ پارسا شخص بھی داخل ہے جو تنگ اور عیال دار ہے مگر اس کے باوجود وہ حرام کا ارتکاب نہیں کرتا اور نہ ہی دستِ سوال کسی کے سامنے دراز کرتا ہے۔قرآن پاک نے ایسے ہی بندوں کے بارے میں ارشادفرمایا: (یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ)(پ۳،البقرۃ :۲۷۳)ترجمۂ کنزالایمان: نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب۔مدنی گلدستہ’’اِنصاف ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جنت میں سبقت کرنے والوں میں سے یہ تین قسم کے لوگ بھی ہیں:(۱) عدل کرنے والا حاکم (۲)رحم دل انسان (۳)وہ پاک دامن مسلمان جو عیال دار ہونے کے باجود سوال کرنے سے بچتا ہو ۔
(2) بندہ ربّ تعالیٰ پر کامل یقین اور وثوق رکھے کہ اُس نے رِزق اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے۔
(3)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجسے حکومت دے تو وہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے کہ حاکم کے درست ہو جا نے سے رعایا خود درست ہو جاتی ہے ۔
(4) رشتہ داروں اور عام مسلمانوں کے ساتھ رحم دلی سے پیش آنا چاہیے کہ یہی اسلام کی تعلیم ہے ۔
(5) جس کے لیے اَسبابِ خیر مہیا ہوں اور نیکی کے تمام دروازے اس پر کشادہ ہوں وہ توفیق یافتہ ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انصاف سے کام لینے اورمسلمانوں کے ساتھ اچھا سلو ک کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 662