Main Icon

باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 660

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ :الَّذِينَ يَعْدِلُوْنَ في حُكْمِهِمْ واَهْلِيْهِم وَمَا وَلُوْا.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان المقسطين عند الله على منابر من نور :الذين يعدلون في حكمهم واهليهم وما ولوا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک اِنصاف کرنے والےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے (یہ وہ لوگ ہیں)جو اپنی حکومت،اپنے اہل و عیال اور اپنے ما تحت لوگوں میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ “

شرح حدیث

نور کے منبروں سے مراد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مَنَابِرَیہ منبر کی جمع ہے بلندی کی وجہ سے اس کو منبر کہا جاتا ہےہوسکتا ہے یہاں حقیقی نور کا منبر ہی مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بلند مقام و مرتبہ سے کنایہ ہو اور اِس سےمراد اُن حضرات کی عزت وشرافت ہو،اسی لیے فرمایا کہعنداللّٰہیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےنزدیک اور یہ بارگاہِ خداوندی میں بلندیٔ درجات سے کنایہ ہے۔علامہ عاقولیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ یہ فضیلت اس شخص کو حاصل ہوگی جس پر دِینی،دُنیوی،کُلی یا جُزوی طور پر اس کے اہل و عیال یا دیگر لوگوں کی ذمہ داری ڈالی گئی ہو اور وہ اُن میں عدل کرے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’نور کے منبر پر ہوں گے۔‘‘مراد یا تو اس قدر منور ہوں گے گویا کہ وہ نور سے بنائے گئے ہیں یا مبالغہ کے طور پر انہیں نور کہا گیا ہے۔ علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ وہ ظاہر حدیث کے مطابق حقیقی طور پر نور کے منبروں پر ہوں گے اور یہ بلند منازل سے کنایہ بھی ہوسکتا ہے۔“ان دونوں اقوال میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ جو لوگ منبر پر ہوں گے وہ لازماً اعلیٰ اور بلند مرتبہ والے بھی ہوں گےنیز ماتحت افراد میں خود اپنا نفس بھی داخل ہے۔حضرت اشرفرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:آدمی کا اپنے نفس کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اوقات کو ایسی چیزوں میں ضائع نہ کرے جن میں وقت صَرف کرنے کااللّٰہتعالیٰ نے حکم نہیں دیا ہےبلکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکام کی فرمانبرداری اور ممنوع چیزوں سے اِجتناب پر مُدَاوَمَت اختیار کرے جیساکہ اولیائے کرام کا طریقہ ہے یا اپنے وقت کا اکثر حصہ ان چیزوں میں صَرف کرےجیساکہ مؤمنین صالحین کا طریقہ ہے۔محشر میں مؤمنوں کے مقامات:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”محشر میں مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے، کوئی مشک کے ٹیلوں پر،کوئی نور کے منبروں پر۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں منبر اپنے حقیقی معنیٰ میں ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔حُكْمِهِمْسے مراد ہے سلطنت و حکومت و قضا جس کا تعلق عام رعایا سے ہے اوراَهْلِيْهِمسے مراد اپنے بال بچے نوکر چاکر ہیں جن کا تعلق گھر سے ہے اورمَا وَلُوْاسے مراد وہ یتیم بیوگان وغیرہ ہیں جن کی پرورش اس کے ذمہ آن پڑی ہے۔غرضکہ سیاستِ مدنی اور تدبیرِ منزل سب میں عدل و انصاف کرتے ہیں،بعض شارِحین نے فرمایا کہمَا وَلُوْامیں خود اپنی ذات بھی داخل ہے یعنی اپنے متعلق بھی انصاف سے کام لیتے ہیں۔اللّٰہتعالیٰ نے اپنے محبوب کی اُمَّت کی تین قسمیں فرمائیں:ظالِم،مقتصد اور سابق ،سابق وہ ہے جو اپنے اندر عدل و اِحسان دونوں جمع کرے۔“اپنے اہل کے متعلق اِنصاف :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 856 صفحات پرمشتمل کتاب فیضانِ فاروقِ اعظم،جلددوم کے صفحہ 322 پر ہے :امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِ خلافت میں مُساوات کا یہ عالَم تھا کہ ایک بار آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دو بیٹے مصر گئے تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے وہاں کے گورنر حضرت سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے بیٹوں کے ساتھ خصوصی رویے کی سختی سے ممانعت فرما دی۔ بعد ازاں سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی اتفاقاً آپ کے بیٹوں سے ملاقات ہوگئی اور کسی معاملے میں ان کو سزا دینے کی ترکیب بنی۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ خبر پہنچی کہ سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے سزا کے معاملے میں ان کے بیٹے کے ساتھ نرمی کی ہے تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں نہایت ہی سخت الفاظ میں ان کی سرزنش کی۔اس مکتوب کا مضمون کچھ یوں تھا:’’اے عاصی ابن عاصی! مجھے تمہاری جُرأت اور میرے عَہد کی خلاف ورزی پر سخت تعجب ہوا ہے ، میں نے گورنری کے لیے تمہارا انتخاب کیا حالانکہ اب مجھے شاید تمہیں معزول کرنا پڑے، کیونکہ تم نے میرے بیٹے کے ساتھ عدل وانصاف کے قیام میں نرم رویہ رکھا، حالانکہ اس وقت وہ امیر المؤمنین کا بیٹا نہیں بلکہ تمہاری رعایا کا ایک عام شخص تھا، جو سلوک تم دیگر لوگوں کے ساتھ کرتے تھے اس کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہیے تھا، لیکن تم نے سوچا کہ یہ امیر المؤمنین کا بیٹا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ میرے نزدیک مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں کی جاتی ، جب میرا مکتوب تمہارے پاس پہنچے تو فوراً میرے بیٹے کو میرے پاس بھیج دو۔‘‘بعد ازاں سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ فاروقی میں اپنے فیصلے پر وضاحتی معذرت نامہ بھی لکھنا پڑا۔ لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے انتقال کے بعد جب آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاس واقعے کو یاد کیا کرتے تھے توسیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش فرماتے تھے:’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر رحم فرمائے، میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ ربّعَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔آپ صِرف درست فیصلہ کرتے تھے اور اِس بات کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے کہ یہ فیصلہ باپ کے خلاف ہے یا بیٹے کے خلاف۔‘‘مدنی گلدستہ’’عرفات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انصاف کرنے والے حکمران
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے ۔
(2) نور کے منبروں پر بیٹھنے کی فضلیت ہر اس شخص کو حاصل ہوگی جس پر دِینی،دُنیوی ،کُلی یا جُزوی طور پر اُس کے اَہل و عیال یا دیگر لوگوں کی ذمہ داری ڈالی گئی ہو اور وہ اُن میں عدل کرے۔
(3) بروزِ محشر مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے کوئی مشک کے ٹیلوں پر ہو گا تو کوئی نور کے منبروں پر۔
(4) آدمی اپنی ذات کے ساتھ بھی عدل وانصاف کرے یوں کہ اپنے اوقات کو غیر ضروری اور غیر شرعی کاموں میں خرچ نہ کرے،اَحکامِ خُداوندی کی فرمانبرداری کرے اور ممنوعات سے بچے۔
(5) فیصلہ کرنے میں ہمیں اپنے بھائی ، باپ،بیٹے یا کسی بھی رشتہ دار کے ساتھ نرمی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اُن کے جرم کی جو سزا بنے وہ دینی چاہیے اور یہی شریعت مُطَہَّرَہ کا حکم ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور شریعت مُطَہَّرَہ کے حکم کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 660