- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- حدیث نمبر 660
باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 660
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: اِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ :الَّذِينَ يَعْدِلُوْنَ في حُكْمِهِمْ واَهْلِيْهِم وَمَا وَلُوْا.
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان المقسطين عند الله على منابر من نور :الذين يعدلون في حكمهم واهليهم وما ولوا.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بے شک اِنصاف کرنے والےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے (یہ وہ لوگ ہیں)جو اپنی حکومت،اپنے اہل و عیال اور اپنے ما تحت لوگوں میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ “
شرح حدیث
نور کے منبروں سے مراد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مَنَابِرَیہ منبر کی جمع ہے بلندی کی وجہ سے اس کو منبر کہا جاتا ہےہوسکتا ہے یہاں حقیقی نور کا منبر ہی مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بلند مقام و مرتبہ سے کنایہ ہو اور اِس سےمراد اُن حضرات کی عزت وشرافت ہو،اسی لیے فرمایا کہعنداللّٰہیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےنزدیک اور یہ بارگاہِ خداوندی میں بلندیٔ درجات سے کنایہ ہے۔علامہ عاقولیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ یہ فضیلت اس شخص کو حاصل ہوگی جس پر دِینی،دُنیوی،کُلی یا جُزوی طور پر اس کے اہل و عیال یا دیگر لوگوں کی ذمہ داری ڈالی گئی ہو اور وہ اُن میں عدل کرے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’نور کے منبر پر ہوں گے۔‘‘مراد یا تو اس قدر منور ہوں گے گویا کہ وہ نور سے بنائے گئے ہیں یا مبالغہ کے طور پر انہیں نور کہا گیا ہے۔ علامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ وہ ظاہر حدیث کے مطابق حقیقی طور پر نور کے منبروں پر ہوں گے اور یہ بلند منازل سے کنایہ بھی ہوسکتا ہے۔“ان دونوں اقوال میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ جو لوگ منبر پر ہوں گے وہ لازماً اعلیٰ اور بلند مرتبہ والے بھی ہوں گےنیز ماتحت افراد میں خود اپنا نفس بھی داخل ہے۔حضرت اشرفرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:آدمی کا اپنے نفس کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اوقات کو ایسی چیزوں میں ضائع نہ کرے جن میں وقت صَرف کرنے کااللّٰہتعالیٰ نے حکم نہیں دیا ہےبلکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اَحکام کی فرمانبرداری اور ممنوع چیزوں سے اِجتناب پر مُدَاوَمَت اختیار کرے جیساکہ اولیائے کرام کا طریقہ ہے یا اپنے وقت کا اکثر حصہ ان چیزوں میں صَرف کرےجیساکہ مؤمنین صالحین کا طریقہ ہے۔محشر میں مؤمنوں کے مقامات:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”محشر میں مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے، کوئی مشک کے ٹیلوں پر،کوئی نور کے منبروں پر۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں منبر اپنے حقیقی معنیٰ میں ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔حُكْمِهِمْسے مراد ہے سلطنت و حکومت و قضا جس کا تعلق عام رعایا سے ہے اوراَهْلِيْهِمسے مراد اپنے بال بچے نوکر چاکر ہیں جن کا تعلق گھر سے ہے اورمَا وَلُوْاسے مراد وہ یتیم بیوگان وغیرہ ہیں جن کی پرورش اس کے ذمہ آن پڑی ہے۔غرضکہ سیاستِ مدنی اور تدبیرِ منزل سب میں عدل و انصاف کرتے ہیں،بعض شارِحین نے فرمایا کہمَا وَلُوْامیں خود اپنی ذات بھی داخل ہے یعنی اپنے متعلق بھی انصاف سے کام لیتے ہیں۔اللّٰہتعالیٰ نے اپنے محبوب کی اُمَّت کی تین قسمیں فرمائیں:ظالِم،مقتصد اور سابق ،سابق وہ ہے جو اپنے اندر عدل و اِحسان دونوں جمع کرے۔“اپنے اہل کے متعلق اِنصاف :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 856 صفحات پرمشتمل کتاب فیضانِ فاروقِ اعظم،جلددوم کے صفحہ 322 پر ہے :امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِ خلافت میں مُساوات کا یہ عالَم تھا کہ ایک بار آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دو بیٹے مصر گئے تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے وہاں کے گورنر حضرت سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے بیٹوں کے ساتھ خصوصی رویے کی سختی سے ممانعت فرما دی۔ بعد ازاں سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی اتفاقاً آپ کے بیٹوں سے ملاقات ہوگئی اور کسی معاملے میں ان کو سزا دینے کی ترکیب بنی۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ خبر پہنچی کہ سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے سزا کے معاملے میں ان کے بیٹے کے ساتھ نرمی کی ہے تو آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں نہایت ہی سخت الفاظ میں ان کی سرزنش کی۔اس مکتوب کا مضمون کچھ یوں تھا:’’اے عاصی ابن عاصی! مجھے تمہاری جُرأت اور میرے عَہد کی خلاف ورزی پر سخت تعجب ہوا ہے ، میں نے گورنری کے لیے تمہارا انتخاب کیا حالانکہ اب مجھے شاید تمہیں معزول کرنا پڑے، کیونکہ تم نے میرے بیٹے کے ساتھ عدل وانصاف کے قیام میں نرم رویہ رکھا، حالانکہ اس وقت وہ امیر المؤمنین کا بیٹا نہیں بلکہ تمہاری رعایا کا ایک عام شخص تھا، جو سلوک تم دیگر لوگوں کے ساتھ کرتے تھے اس کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہیے تھا، لیکن تم نے سوچا کہ یہ امیر المؤمنین کا بیٹا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ میرے نزدیک مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں کی جاتی ، جب میرا مکتوب تمہارے پاس پہنچے تو فوراً میرے بیٹے کو میرے پاس بھیج دو۔‘‘بعد ازاں سیِّدُنا عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ فاروقی میں اپنے فیصلے پر وضاحتی معذرت نامہ بھی لکھنا پڑا۔ لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے انتقال کے بعد جب آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاس واقعے کو یاد کیا کرتے تھے توسیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش فرماتے تھے:’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر رحم فرمائے، میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بعد آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ ربّعَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔آپ صِرف درست فیصلہ کرتے تھے اور اِس بات کی قطعاً پروا نہ کرتے تھے کہ یہ فیصلہ باپ کے خلاف ہے یا بیٹے کے خلاف۔‘‘مدنی گلدستہ’’عرفات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انصاف کرنے والے حکمراناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے ۔
(2) نور کے منبروں پر بیٹھنے کی فضلیت ہر اس شخص کو حاصل ہوگی جس پر دِینی،دُنیوی ،کُلی یا جُزوی طور پر اُس کے اَہل و عیال یا دیگر لوگوں کی ذمہ داری ڈالی گئی ہو اور وہ اُن میں عدل کرے۔
(3) بروزِ محشر مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے کوئی مشک کے ٹیلوں پر ہو گا تو کوئی نور کے منبروں پر۔
(4) آدمی اپنی ذات کے ساتھ بھی عدل وانصاف کرے یوں کہ اپنے اوقات کو غیر ضروری اور غیر شرعی کاموں میں خرچ نہ کرے،اَحکامِ خُداوندی کی فرمانبرداری کرے اور ممنوعات سے بچے۔
(5) فیصلہ کرنے میں ہمیں اپنے بھائی ، باپ،بیٹے یا کسی بھی رشتہ دار کے ساتھ نرمی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اُن کے جرم کی جو سزا بنے وہ دینی چاہیے اور یہی شریعت مُطَہَّرَہ کا حکم ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور شریعت مُطَہَّرَہ کے حکم کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 660