باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُناعلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم جنت البقیع میں ایک جنازے کے ساتھ تھے اتنے میںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ہم بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گِرد بیٹھ گئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک چھڑی تھی۔آپ نے سر مبارک جھکایا اورچھڑی سے زمین کُریدنے لگے،پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانادوزخ اور جنت سے لکھ دیا گیا ہے۔‘‘صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا ہم اپنے لکھےہوئے پر بھروسہ نہ کر لیں(اور عمل چھوڑ دیں)؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”عمل کرو ہر شخص کے لیے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ۔“

عَنْ عَليٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا فِيْ جَنَازَةٍ فِي بَقِيْعِ الْغَرْقَدِ فَاَتَانَا رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَسَ وَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ:مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالُوْا:يَارَسُوْلَ اللَّهِ اَفَلَا نَـتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا؟فَقَالَ:اعْمَلُوْا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 945 ، باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان