Main Icon

اہل و عیال کی اصلاح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 300

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَقُوْلُ : کُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، اَلْاِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِىْ اَهْلِهِ وَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِىْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. ( )

عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال : سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول : کلكم راع ، وكلكم مسئول عن رعيته ، الامام راع ومسئول عن رعيته ، والرجل راع فى اهله و مسئول عن رعيته ، والمرأة راعية فى بيت زوجها ومسئولة عن رعيتها ، والخادم راع فی مال سيده ومسئول عن رعيته ، فكلكم راع ومسئول عن رعيته. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا : “ تم میں سے ہر ایک ذمہ دارہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم اپنی رعایا کا ذمہ دارہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہےاس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ، خادم اپنے آقاکے مال کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، الغرض تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ “

شرح حدیث

حاکم، شوہر، زوجہ اور خادم کی ذمہ داریاں:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حاکم ، شوہر ، زوجہ اور خادم ان تمام افراد کو اگرچہ ایک ہی لفظ یعنی ذمہ دار سے تعبیر فرمایا گیا ہے لیکن ان سب کی ذمہ داریاں مختلف ہیں ، حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ حدود قائم کرے اور لوگوں کے درمیان شرعی طریقے کے مطابق احکام جاری کرے ، مرد پر اپنے گھروالوں کے اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلائے نیز کھانے پینے ، کپڑے اور دیگر ضروریات زندگی کے لحاظ سے ان کے حقوق کو پورا کرے ، عورت کی ذمہ داری ہے کہ

وہ اپنے شوہر کے گھر کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلائے ، اس کی خیر خواہ ہو ، شوہر کے مال اور اپنی ذات میں کسی قسم کی خیانت نہ کرے ، خادم کی ذمہ داری ہے کہ آقا کا جو مال اس کے پاس ہو اس کی حفاظت کرے اور آقا کی خدمت کا جو حق ہے اس پوری طرح ادا کرے۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ جو نہ حاکم ہے ، نہ اس کے اہل و عیال ہیں اور نہ وہ خادم ہے تو ایسا شخص اپنے دوستوں کا ذمہ دار ہے اسے چاہیے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے حُسن معاشرت کرے اور اگر اس کا کوئی دوست بھی نہ ہو تو وہ شخص اپنی جان ، اپنے اعضاء و جوارح ، اپنی قوت اور اپنے حواس کاذمہ دار ہے اور یہی اُس کی رعایا ہیں۔ ( ) (لہٰذا اسے چاہیے کہ انہیں غیر شرعی اُمور میں استعمال نہ کرے کہ کل بروزِ قیامت اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )
رعایا کے ساتھ عدل کرنے والوں کےفضائل:اپنی رعایا یا ماتحت افراد کے ساتھ عدل وانصاف سے کام لینے والوں کے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’بے شک انصاف کرنے والے بروز ِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے جواپنی رعایااور اہل و عیال کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ ‘‘( ) (2) ’’عدل وانصاف کرنے والا حاکم کل بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّکا سب سے پسندیدہ اور سب سے زیادہ اس کا قرب حاصل کرنے والا ہوگا۔ ‘‘( )(3) ’’عدل وانصاف کرنے والا اور عاجزی اختیار کرنے والا حاکم زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا سایہ اور اس کا نیزہ ہے ، اس حاکم کے لیے ستر صدیقین کے عمل کے برابر درجات بلند کیے جاتے ہیں۔ ‘‘( )رِعایا کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کی وعیدیں:اپنی رعایا یا ماتحت افراد کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی رعایا کا نگران بنایا اور پھر اس نےان کےساتھ خیر خواہی نہ کی تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔ ‘‘( )(2) ’’جس حاکم کا انتقال ا س حال میں ہوا کہ اس نے اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لیا تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جنت کو حرام فرمادے گا۔ ‘‘( )(3) ’’جو حاکم اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لے وہ جہنمی ہے۔ ‘‘( )
اِحساسِ ذمہ داری پیدا کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے ، اور کوئی اس ذمہ داری سے سبکدوش بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اِحساسِ ذمہ داری پیدا کریں ، عدل وانصاف سے کام لیں ، شریعت کے احکام کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اِن مدنی پھولوں پر عمل کریں تاکہ ہماری دنیا وآخرت بہتر ہو جائے : (1) آپ کتنے ہی بڑے ذمہ دار کیوں نہ ہو خود کو ماتحت جانیں۔ (2) جو اپنے لیے پسند کریں ، اپنے ماتحت افراد کے لیے بھی وہی پسند کریں۔ (3) اپنے ماتحت افراد کی بیمار ہونے کی صورت میں عیادت ، کسی کے انتقال کی صورت میں تعزیت اور مشکل درپیش ہوتو ان کی مدد کریں۔ (4) چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے عفوودرگزر اورنرمی سے کام لیں۔ (5) غصے کو اپنے قریب نہ آنے دیں کہ غصے کو چھوڑ دینا اچھے اخلاق میں شمار فرمایا گیا ہے۔ (6) سب سے یکساں تعلقات رکھیے ، کسی بھی مخصوص فرد پر آپ کی غیر ضروری اِنفرادی توجہ دوسروں کے لیے تشویش کا باعث بلکہ دل آزاری کا بھی باعث بن سکتی ہےجو شرعاً ممنوع ہے۔ (7) سنی علمائے کرام سے رابطے میں رہیں ، ہرہرمعاملے میں شرعی رہنمائی کو اپناوطیرہ بنالیں۔ (8) اِطاعت کو اپنا شعار بنالیجئے ، جب تک شریعت منع نہ کرے تب تک اپنے ذمہ دار کی ہر ہر معاملے میں اطاعت کی کوشش کیجئے۔ (9) اپنے دنیا میں آنے کےمقصد کو ہرگز نہ بھولیے۔ ‘‘( )
حاکم حمص کااِحساسِ ذمہ داری:(3)ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حمص کے فقراءاور محتاجوں کی فہرست طلب کی تو اس میں حمص کے حاکم حضرت سیدنا سعید بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام بھی تھا ، معلوم ہوا کہ وہ اپنا سارا وظیفہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیتے ہیں ، پھر ان کے رویے کے متعلق اہل حمص نے چار شکایتیں کیں : (1) وہ ہمارے پاس دن چڑھنے کے بعد آتے ہیں۔ (2) رات کے وقت ملاقات نہیں فرماتے۔ (3) مہینے میں ایک دن غائب رہتے ہیں۔ (4) کبھی کبھی انہیں بےہوشی کا طویل دورہ پڑتا ہے۔ سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے جواب طلب کیا تو انہوں نےعرض کی : ’’میرا کوئی خادم نہیں ہے اور میری بیوی بیمار ہے ، سارے کام مجھے خود ہی کرنے پڑتے ہیں ، اس لیے میں دن چڑھنے کےبعد آتا ہوں۔ رات کے وقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتا ہوں ، اس لیے رات میں لوگوں سے ملاقات نہیں کرتا۔ میرے پاس ایک ہی جوڑا ہے مہینے میں ایک دن جب میں اسے دھوتا ہوں تو اس کے سوکھنے سے پہلے باہر نہیں آسکتا اور حضرت سیدنا خبیب بن عدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت جب مجھے یاد آتی ہے تو مجھ پر غشی کا دورہ پڑتا ہے ، مجھ پر رنج واَلم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ ‘‘یہ جوابات سن کر سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس شدت سے روئے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ( )مدنی گلدستہ
’’انصاف‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ہر شخص ذمہ دار ہے اور کل بروز قیامت اس سے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(2)ہرذمہ دار کو چاہیے کہ اپنے ماتحت افراد کے ساتھ عدل وانصاف سے کام لے۔
(3)اپنی رعایا کے ساتھ عدل وانصاف کرنے والے حاکم یا ذمہ دار کے لیے بشارتیں اور ناانصافی یا دھوکہ

دہی کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
(4)بروز قیامت جہاں حقوق اللہ پر باز پرس ہوگی وہاں حقوق العباد کے معاملہ میں بھی پوچھا جائے گا۔
(5)ہرشخص اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے ماتحت افراد کے جملہ حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 300