- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرتِ سَیِّدُنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھاکر اپنے منہ میں ڈال دی تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’تھو! تھو! اسے پھینک دو کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟‘‘ ایک روایت میں ہے کہ (آپ نے فرمایا) : ’’بے شک ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔ ‘‘
حدیث پاک میں مذکور کلمہ’’کَخْ کَخْ‘‘ بچوں کو ڈراتے ہوئے میلی یا گندی چیزوں سے روکنے کے لیے بولا جاتا ہے یا ایسی چیزوں سے روکنے کے لے بولا جاتا ہے جن سے گھن کھائی جاتی یا نفرت کی جاتی ہے۔ حدیث پاک میں مذکور یہ واقعہ سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بچپن کا ہے۔
عَنْ اَبِی ْ ھُرَیْرۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِيْ فِيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَخْ كَخْ ، اِرْمِ بِهَا ، اَمَا عَلِمْتَ اَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ!؟. وَفِیْ رِوَایَۃِ : اَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ. ( )
وَقَوْلُہُ : کَخْ کَخْ یُقالُ بِاِسْکَانِ الْخَاءِ ، ویُقَالُ بِکَسْرِھَا مَعَ التَّنْوِیْنِ وَھِیَ کَلِمَۃُ زَجْرٍ للصَّبِیِّ عَنِ المُسْتَقْذَرَاتِ ، وَکَانَ الحَسَنُ رَضِی اللہ عَنْہُ صَبِیًّا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 298 ، اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےسوتیلے بیٹےحضرتِ سیدنا ابو حفص عمر بن ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پرورش میں تھا ، میرا ہاتھ (کھانا کھاتے ہوئے )پیالے میں اِدھر اُدھر گھومتا تھا تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’اے لڑکے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لو ، اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ ‘‘ (عمر بن ابو سلمہ فرماتے ہیں) پھر اس کے بعد میں ہمیشہ اسی طریقے سے کھاتا رہا۔
وَعَنْ اَبِیْ حَفْصٍ عُمَرَ ابْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْاَسَدِ رَبِیْبِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ غُلاَمًا فِى حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِىْ تَطِيْشُ فِى الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِىْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: يَا غُلاَمُ! سَمِّ اللَّهَ ، وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ. فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِى بَعْدُ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 299 ، اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا : “ تم میں سے ہر ایک ذمہ دارہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم اپنی رعایا کا ذمہ دارہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہےاس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ، خادم اپنے آقاکے مال کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، الغرض تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَقُوْلُ : کُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، اَلْاِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِىْ اَهْلِهِ وَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِىْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 300 ، اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
حضرت سیدنا عَمرو بن شعيب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا پنے والد اور وہ ان کے داداسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ تمہاری اولاد جب سات سال کی ہوجائے تو انہیں نماز کا حکم دواور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھیں تو انہیں مارو اور انہیں الگ الگ سُلاؤ۔ “
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُرُوْا اَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ اَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ اَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 301 ، اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
حضرت سیدنا ابو ثریہ سَبْرَہ بن مَعْبَد جُہَنِیْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ بچہ جب سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سکھاؤ اور جب دس سال کی عمر کو پہنچ کر نماز نہ پڑھے تو اسے مارو۔ “
عَنْ اَبِیْ ثُرَیَّۃَ سَبْرَۃَ بْن مَعْبَدٍ الجُھَنِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمُوْا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ لِسَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرِ سِنِیْنَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 302 ، اہل و عیال کی اصلاح کا بیان