- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُنا زید بن خالد جہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا اُس کے لیے روزہ دار جیسا ثواب ہے اور روزہ دار کے ثواب سے بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔“
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ اَجْرِ هِ غَيْرَ اَنَّهُ لَا يُنْقَصُ مِنْ اَجْرِ الصَّائِـمِ شَيْءٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1265 ، باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
حضر ت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمارہ اَنصاریہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”سَیِّدِ عالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے پاس تشریف لائے توانہوں نے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں کھانا پیش کیا ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:’’تم بھی کھاؤ۔‘‘انہوں نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جب تک روزہ دار کے سامنےکچھ کھایا جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کھانے والے فارغ ہوجائیں۔“اور(کسی روایت میں یہ)فرمایاکہ” کھانے والے جب تک پیٹ نہ بھر لے۔‘‘( اُس وقت فرشتےروزہ دار کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔)
عَنْ اُمِّ عُمَارَةَ الْاَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَدَّمَتْ اِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ:كُلِيْ فَقَالَتْ:اِنِّيْ صَائِمَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّيْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ اِذَا اُكِلَ عِنْدَهُ حَتّٰى يَفْرُغُوْا وَرُبَّمَا قَالَ : حَتّٰى يَشْبَعُوْا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1266 ، باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سعد بن عبادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکےپاس تشریف لائے تو انہوں نے روٹی اور زیتون پیش کیا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تناول کیا پھر ارشاد فرمایا:’’تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا ،تمہارا کھانا نیکوں نے کھایااور فرشتوں نے تمہارے لیے رحمت کی دعا کی۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ اِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَاَكَلَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَاَكَلَ طَعَامَكُمُ الْاَبرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1267 ، باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت