ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں اورجب تک وہ نماز قائم نہ کرلیں اور زکوٰۃ ا دا نہ کردیں اور جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کرلیں گے مگر جو اسلام کا حق ہو اور ان کا حساب وکتاباللہ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے ۔ ‘‘

عَن اِبْنِ ِعُمَررَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَيُقِيْمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكاَةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلىَ اللهِ تَعَالٰى. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 390 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہطارق بن اشیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ’’جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ جن باطل خداؤں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوگئے اور اس کا حساباللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اَحکامِ شرعیَّہ کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے ، باطنی اور پوشیدہ معالات کے ساتھ نہیں ہے جیسے کوئی فاسد عقیدہ رکھتا ہو یا چُھپ کر بُرے اعمال کرتا ہو تو ایسے شخص کے معاملے کواللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیکے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ :

مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُ وْنِ اللهِ حَرُمَ مَا لُہُ وَ دَمُہُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ تَعَالٰى . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 391 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو مَعْبَد مِقداد بن اَسودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا : ’’اگر کافروں میں سے کسی کافر سے میری ملاقات ہو ، پھر آپس میں ہماری جنگ ہو اور وہ تلوار سے مجھ پر حملہ کرتے ہوئے میرے ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالے ، پھر وہ درخت

کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے کہ میں اسلام لاتا ہوں تو کیا میں اس کو قتل کردوں؟ ‘‘ تو دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ نہیں ! اسے قتل مت کرو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’اس نے تو میرے ہاتھ کو کاٹنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے ۔ ‘‘ توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ نہیں ! تم اُسے قتل نہ کرنا ، اگر تم نے اسے قتل کردیا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہوگا اور تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اِسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ مَعْبَدِ المِقْدَادِ بْنِ الاَسْوَدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَرَاَيْتَ اِنْ لَقِيْتُ رَجُلاً مِّنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ اِحْدٰى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّيْ بِشَجَرَة فَقَالَ : اَسْلَمْتُ لِلّٰہِ اَاَقْتُلُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ ! بَعْدَ اَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! قَطَعَ اِحْدٰى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذٰلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَاِنْ قَتَلْتَهُ فَاِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ اَنْ تَقْتُلَهُ وَاِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ اَنْ يَقُوْلَ كَلِمَتَهُ الَّتِيْ قَالَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 392 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ہمیں رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبیلہ جہینہ کی بستی کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا ۔ پس ہم صبح سویرے ان بستیوں میں پہنچ گئے ۔ میں نے اورایک انصاری صحابی نے ایک کافر کا تعاقب کیا ، جب ہم نے اسے گھیرلیا تو وہ کہنے لگا :لَاِالٰہَ اِلَّااللہُ۔ انصاری صحابی نے تو اسے قتل کرنے کے ارادے سے اپنے آپ کو روک لیا لیکن میں نے نیزے کا وار کرکے اسے موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ جب ہم واپس لوٹے اور یہ بات حضور نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سنی تو آپ نے ارشادفرمایا : ’’اے اسامہ ! تم نے اس شخص کولَااِلٰہَ اِلَّااللہُکہنے کے بعد قتل کردیا ؟ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ تو اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہہ رہاتھا ۔ ‘‘ لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبرابریہی فرماتے رہے ۔ پس میں شرمندہ

ہوتے ہوئے دل میں یہ خواہش کرنے لگا : اے کاش ! میں آج ہی مسلمان ہو ا ہوتا ۔
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کیا اس نےلَاِالٰہَ اِلَّااللہُکہا اور تم نے اسے قتل کر ڈالا ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے تو ہتھیار کے خوف سے کہا تھا ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ہوتا تا کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں ؟ ‘‘ آپ بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش ! میں آج کے دن مسلمان ہوا ہوتا ۔

عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلٰى الْحُرْقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَحْنَا الْقَوْم عَلٰى مَيَاهِهِمْ وَلَحِقْتُ اَنَا وَرَجُلٌ مِّنَ الاَنْصَارِ رَجُلًا مِّنْهُمْ فَلَمَّا غَشَيْنَاهُ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَكَفَّ عَنْهُ الاَنْصَارِي وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِيْ حَتّٰى قَتَلْتُهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ بَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِيْ : يَا اُسَامَةُ ! اَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ؟ قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! اِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا فَقَالَ : اَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ؟ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتّٰى تَمَنَّيْتُ اَنِّيْ لَمْ اَكُنْ اَسْلَمْتُ قَبْلَ ذٰلِكَ الْيَوْمِ . ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَقَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَقَتَلْتَهُ؟ قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! اِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السَّلَاحِ قَالَ : اَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتّٰى تَعْلَمَ اَقَالَهَا اَمْ لَا؟ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتّٰى تَمَنَّيْتُ اَنِّیْ اَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 393 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا جُنْدُبْ بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالِک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کی ایک فوج کو مشرکین سے جہاد کرنے کے لئے روانہ فرمایا ، مسلمانوں اور مشرکوں کا جب آمنا سامنا ہوا تو مشرکوں میں سے ایک آدمی ایسا بھی تھا کہ جب وہ کسی مسلمان کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے موقع پاکر فوراً ہی قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس

پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا اور ابھی ہم اسی شخص کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ وہ اسامہ بن زید تھے تو جب انہوں نے اس مشرک کو قتل کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تو اس نے کہا :
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُلیکن اس کے باوجود سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو قتل کردیا ۔ پھر جب حضور نبی اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گا ہ میں فتح کی خوشخبری سنانے والا پہنچا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں اِستفسار فرمایا تو اس نے آپ کو ساری صورت حال بیان کر دی ، یہاں تک کہ اس نے اس آدمی کا واقعہ بھی بیان کر دیا کہ اس نے کیا کیا تھا اور حضرت سیدنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور ان سے پوچھا : ’’تم نے اسے قتل کیوں کیا؟ ‘‘ سیدنا اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچائی اور فلاں فلاں کو شہید کردیا ۔ ‘‘ اور چند صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نام بھی ذکرکیے ’’تو میں نے اس پر حملہ کردیا اور جب اس نے تلوار دیکھی تولَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکہنے لگا ۔ ‘‘رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’کیا تم نے اسے قتل کردیا ؟ ‘‘ تو سیدنا اسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’قیامت کے دن جبلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟ ‘‘ حضرت سیدنا اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے ۔ ‘‘ لیکنرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبار بار یہی فرماتے رہے : ’’قیامت کے دن جبلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُکا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟ ‘‘

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِميْنَ اِلٰى قَوْمٍ مِنَ المُشْرِكِيْنَ وَاَنَّهُمْ اِلْتَقَوْا فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اِذَا شَاءَ اَنْ يَقْصِدَ اِلٰى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَاَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ قَصَدَ فَقَتَلَهُ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّهُ اُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ السَّيْفَ قَالَ : لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ فَجَاءَ الْبَشِيْرُ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَهُ وَاَخْبَرَهُ حَتّٰى اَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَاَلَهُ فَقَالَ : لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! اَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ وَقَتَلَ فُلاَناً وَفُلَاناً وَسَمّٰى لَهُ نَفرًا وَ اِنِّيْ حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَاَى السَّيْفَ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ : يَارَسُوْلَ اللهِ ، اِسْتَغْفِرْ لِيْ . قَالَ : وكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَجَعَلَ لَا يَزِيْدُ عَلٰى اَنْ يَقُوْلَ : كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 394 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء

ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عتبہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عہد میں وحی کے ذریعے لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کیا جا تا تھا لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے ، اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کو دیکھ کر تمہارا مؤاخذہ کریں گے لہٰذا جو ہمارے لئے خیر اور اچھائی کا پہلو ظاہر کرے گا ، ہم اسے امن دیں گے اور اسے اپنے قریب کرلیں گے اور ہمیں اس کے باطن سے کوئی غرض نہیں کیونکہ دلوں کا حساب لینے والااللہ عَزَّ وَجَلَّہے اور جو ہمارے لیے بُرائی ظاہر کرے گا ، ہم اُسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی تصدیق کریں گے اگر چہ وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا ہے ۔ ‘‘

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ : اِنَّ نَاسًا كَانُوْا يُؤْخَذُوْنَ بِالْوَحْيِ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ اِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ وَاِنَّمَا نَاخُذُكُمُ الْاٰنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ اَعْمَالِكُمْ فَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا اَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاه ُ وَلَيْسَ لَنَا مِنْ سَرِيْرَ تِه شَيْءٌ اَللهُ يُحَاسِبُهُ فِيْ سَرِيْرَ تِهِ وَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا سُوْ ءًا لَمْ نَامَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ وَاِنْ قَالَ : اِ نَّ سَرِيْرَتَهُ حَسَنَةٌ . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 395 ، ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء