- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- حدیث نمبر 392
ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 392
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ مَعْبَدِ المِقْدَادِ بْنِ الاَسْوَدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَرَاَيْتَ اِنْ لَقِيْتُ رَجُلاً مِّنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ اِحْدٰى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّيْ بِشَجَرَة فَقَالَ : اَسْلَمْتُ لِلّٰہِ اَاَقْتُلُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ ! بَعْدَ اَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! قَطَعَ اِحْدٰى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذٰلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَاِنْ قَتَلْتَهُ فَاِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ اَنْ تَقْتُلَهُ وَاِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ اَنْ يَقُوْلَ كَلِمَتَهُ الَّتِيْ قَالَ. ( )
عن ابي معبد المقداد بن الاسود رضي الله عنه قال : قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم : ارايت ان لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا فضرب احدى يدي بالسيف فقطعها ثم لاذ مني بشجرة فقال : اسلمت للہ ااقتله يارسول الله ! بعد ان قالها؟ فقال : لا تقتله فقلت : يا رسول الله ! قطع احدى يدي ثم قال ذلك بعدما قطعها فقال : لا تقتله فان قتلته فانه بمنزلتك قبل ان تقتله وانك بمنزلته قبل ان يقول كلمته التي قال. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو مَعْبَد مِقداد بن اَسودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا : ’’اگر کافروں میں سے کسی کافر سے میری ملاقات ہو ، پھر آپس میں ہماری جنگ ہو اور وہ تلوار سے مجھ پر حملہ کرتے ہوئے میرے ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالے ، پھر وہ درخت
کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے کہ میں اسلام لاتا ہوں تو کیا میں اس کو قتل کردوں؟ ‘‘ تو دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ نہیں ! اسے قتل مت کرو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’اس نے تو میرے ہاتھ کو کاٹنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے ۔ ‘‘ توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ نہیں ! تم اُسے قتل نہ کرنا ، اگر تم نے اسے قتل کردیا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہوگا اور تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اِسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ ‘‘
شرح حدیث
ظاہری حالت کے مطابق حکم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں بھی اس بات کا بیان ہے کہ کسی بھی شخص کا فیصلہ اس کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا ، اگر وہ مسلمان ہو تو اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کیا جائے گا اور اگر وہ کافر ہو تو کافروں والا سلوک ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جس سے کوئی بھی قولی یا فعلی ایسی بات صادر ہو جو اس کے دین اسلام میں داخل ہونے پر دلالت کرتی ہو تو اس پر اسلام کا ہی حکم لگے گا کیونکہ اسلام میں داخل ہونا زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے پر منحصر نہیں ۔ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قتل سے اس لیے منع فرمایا کہ اَحکامِ شرعیَّہ ظاہر پر جاری ہوتے ہیں اور بظاہر اس نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔ ( )
¥قتل سے قبل اور بعد مَراتِب کا فرق :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اظہارِ اسلام کے بعد اورقتل کرنے سے قبل جو قاتل کا مرتبہ تھا وہ اب مقتول کا ہوجائے گا اور جو مقتول کا مرتبہ تھا وہ قاتل کا ہو جائے گا ۔ اس مرتبے سے مراد کفر کا مرتبہ نہیں ہے کہ جو قتل کردے وہ کافر ہوجائے بلکہ اس سے مراد اباحت دم یعنی خون کا مباح ہونا ہے کہ جس طرح اسلام لانے سے قبل کافر ہونے کی وجہ سے اس کا خون مباح تھا اسی طرح اسلام لانے کے بعد اسے قتل کرنے والے کا اب خون مباح ہوجائے گاکہ اس نے ناحق خون کیا اور اس کا بدلہ خون ہی ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ اس کے اسلام لانے کے بعد اب
تم اسے قتل مت کرنا ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اس کے مثل ہوجاؤ گے ۔ یعنی جس طرح اسلام لانے سے پہلے اس کو قتل کرنا مباح تھا تو اسی طرح تمہیں بھی اس کو قتل کرنے کے بعد قتل کرنا مباح ہوگا ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی جیسے وہ کافر کفر کی وجہ سے مباح الدم مستحق قتل تھا ، ویسے ہی اب تم اس کے قتل کی وجہ سے مستحق قتل ہوجاؤگے ۔ حکم یکساں ہے ، وجہِ حکم میں فرق ہے ۔ کیونکہ وہ مسلمان ہوکر معصوم الدم ہوگیا اور جو ایسے شخص کو قتل کردے اسے قتل کیا جاتا ہے اور جیسے تم پہلے محفوظ الدم تھے ایسے ہی اب وہ محفوظ الدم ہوگیا ۔ یا یہ مطلب ہے کہ اب اس قتل کی وجہ سے تم مستحق عذاب ہوگئے اور وہ کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے مستحق رحمت ہوگیا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کافر ہوگئے ۔ ‘‘ ( )
¥ناحق خون بہانے کی مذمت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں اس با ت کا واضح بیان ہے کہ کسی بھی شخص کے متعلق اس کے ظاہر پر فیصلہ کیا جائے گا ، وہیں اس حدیث پاک سے ایک مسلمان کی عزت وحرمت کا بھی عظیم درس ملا کہ اسلام نے مسلمانوں کی عزت وناموس کا تحفظ کیا ہے ، کسی کو بھی مسلمان کا ناحق خو ن بہانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو مسلمانوں کا نا حق خون بہاتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ ناحق قتل کرنا ان کی عادت بن چکی ہے ۔ مسلمانوں کی جان سے کھیلنے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ طلب مال ، مقام ومرتبے اور عہدہ پانے کے لیے بھی کسی کی جان کی پرواہ تک نہیں کرتے ۔ قرآن وسنت دونوں میں مسلمانوں کی عزت وحُرمت کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے ، چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتا ہے :وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَترجمۂ کنزالایمان: : اورجو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳)(پ۵ ،النساء:۹۳ )
اوراللہنے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب ۔
کسی بھی مسلمان کا ناحق خون بہانے کی احادیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ اس سلسلے میں تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو اوروہ یہ ہیں : ٭اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شریک ٹھہرانا٭جادو کرنا٭اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا٭یتیم کا مال کھانا ٭سود کھانا ٭ جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا اور ٭ سیدھی سادی پاک دامن مؤمن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں : ٭اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شریک ٹھہرانا٭والدین کی نافرمانی کرنا اور ٭کسی جان کوقتل کرنا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’کبيرہ گناہوں ميں سب سے بڑے گناہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ شريک ٹھہرانا ، مؤمن کوناحق قتل کرنا ، سود اوریتیم کامال کھانا ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’اسلام ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)اگر کوئی شخص زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کردے تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا ۔
(2) شریعت نے ہمیں لوگوں کے ظاہری معاملات دیکھ کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کے باطنی وخفیہ معاملاتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے ۔
(3) اسلام ایسا پیارا مذہب ہے جس نے مسلمان کی عزت اور حرمت کو بڑی اہمیت دی ہے ۔
(4) مسلمان ہونے کے بعد اب کسی کو اجازت نہیں کہ اس کی حرمت کو پامال کرے ۔
(5) ناحق قتل کرنے کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 392