- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- حدیث نمبر 395
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ : اِنَّ نَاسًا كَانُوْا يُؤْخَذُوْنَ بِالْوَحْيِ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ اِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ وَاِنَّمَا نَاخُذُكُمُ الْاٰنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ اَعْمَالِكُمْ فَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا اَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاه ُ وَلَيْسَ لَنَا مِنْ سَرِيْرَ تِه شَيْءٌ اَللهُ يُحَاسِبُهُ فِيْ سَرِيْرَ تِهِ وَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا سُوْ ءًا لَمْ نَامَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ وَاِنْ قَالَ : اِ نَّ سَرِيْرَتَهُ حَسَنَةٌ . ( )
عن عبد الله بن عتبة بن مسعود قال : سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : ان ناسا كانوا يؤخذون بالوحي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم و ان الوحي قد انقطع وانما ناخذكم الان بما ظهر لنا من اعمالكم فمن اظهر لنا خيرا امناه وقربناه وليس لنا من سرير ته شيء الله يحاسبه في سرير ته ومن اظهر لنا سو ءا لم نامنه ولم نصدقه وان قال : ا ن سريرته حسنة . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عتبہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عہد میں وحی کے ذریعے لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کیا جا تا تھا لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے ، اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کو دیکھ کر تمہارا مؤاخذہ کریں گے لہٰذا جو ہمارے لئے خیر اور اچھائی کا پہلو ظاہر کرے گا ، ہم اسے امن دیں گے اور اسے اپنے قریب کرلیں گے اور ہمیں اس کے باطن سے کوئی غرض نہیں کیونکہ دلوں کا حساب لینے والااللہ عَزَّ وَجَلَّہے اور جو ہمارے لیے بُرائی ظاہر کرے گا ، ہم اُسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی تصدیق کریں گے اگر چہ وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
ختم نبوت کا بیان :وحی نبوت صرف انبیاء کے لیے خاص ہے ، جو اسے کسی غیر نبی کے لیے مانے وہ کافر ہے ، نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں ۔ ولی کے دل میں بعض اوقات سوتے یا جاگتے میں کوئی بات القا ہوتی ہے اس کو الہام کہتے ہیں اور وحی شیطانی کہ القا من جانب شیطان ہو ، یہ کاہن ، ساحر اور دیگر کفار وفساق کے لیے ہوتی ہے ۔ ( ) وحی نبوت کا سلسلہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوچکا ہے کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے آخری نبی اور خاتم النبیین ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نبوت ختم ہوچکی ہے ۔ البتہاولیاء اللہکو رب تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتا ہے وہ منقطع نہیں ہوا بلکہ یہ الہام قیامت تک جاری وساری رہے گا ۔ مذکورہ حدیث پاک میں بھی سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ فرمان کہ وحی منقطع ہوچکی ہے ۔ دراصل سرکار دوعالم نور مجسم شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عظیم الشان ختم نبوت کا واضح بیان ہے ۔عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فرمان کا معنیٰ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے فرشتے ( یعنی حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام) کا بعض افراد ( یعنی انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے
لیے جاگتے میں خبریں لانا منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے ساتھ ہی وحی منقطع ہوگئی تو اباللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے کسی بھی بشر کے لیے فرشتہ ( یعنی سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام) نہیں آئے گاکیونکہ نبوت ختم ہوچکی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥رسولُ اللہکے مختلف فیصلے :مذکورہ حدیث پاک میں سیدنا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ بیان فرمایا کہ ’’عہد رسالت میں وحی کے ذریعے لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کیا جاتا تھا ۔ ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ حضور نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّوحی کے ذریعے لوگوں کے باطنی معاملات پر بھی مطلع فرمادیتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ظاہر اور باطن دونوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا وسیع اختیار عطا فرمایا تھا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات طیبہ میں لوگوں کے مابین ظاہرکے اعتبار سے بھی فیصلے فرمائے ، باطن کے اعتبار سے بھی فیصلے فرمائے ، اور بسا اوقات ظاہر وباطن دونوں کے اعتبار سے بھی فیصلے فرمائے ۔ ان فیصلوں کی مکمل تفصیل کے لیے حدیث نمبر 390کی شرح ملاحظہ کیجئے ، نیز دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۸صفحات پرمشتمل امام جلال الدین سیوطی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکی مایہ ناز تصنیف ’’اَلْبَاھِرْفِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ‘‘ کا ترجمہ بنام ’’مدنی آقا کے روشن فیصلے ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
¥ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم :امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مذکورہ حدیث میں فرمان سے بالکل ظاہر ہے کہ اب اس امت کو فقط ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ، کسی بھی شخص کا باطنی معاملہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کردیا جائے گا ۔ اب جو شخص اچھائی والا عمل کرے گا ، یعنی اس کا ظاہر اچھائی پر ہوگا تو اس کے ساتھ ویسا ہی
سلوک کیا جائے گا اگرچہ حقیقت میں اس کا برعکس ہو ، اسی طرح اگر کوئی شخص بُرا معاملہ کرے گا یا اس سے بُرا معاملہ ظاہر ہوگا اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا اگرچہ وہ کہتا ہو کہ میں باطنی طور پر بہت اچھا ہو ں یا میں نے حقیقتاً کوئی بُرائی نہیں کی ۔ قاضی ، حاکم ، جج یا فیصلہ کرنے والا فقط ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا ۔عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جو شخص ہمارے لیے خیر کو ظاہر کرے گا ہم اسے امن دیں گے یعنی شراور برائی سے امن دیں گے یا یہ مراد ہے کہ وہ شخص ہمارے نزدیک امین اور عادل ہوگا اور ہم اسے اپنا قرب دیں گے یعنی ہم اسے عزت وتکریم اور عظمت وبڑائی دیں گے کیونکہ ہم ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ ‘‘ ( )
¥بھلائی کا ظہور عدل کی علامت ہے :مذکورہ حدیث پاک میں سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس بات کی صراحت فرمائی کہ’’جو ہمارے لئے خیر اور اچھائی کا پہلو ظاہر کرے گا ، ہم اس پر اعتماد کریں گے اور اسے اپنے قریب کرلیں گے ۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ بھلائی کا ظہور عدل کی علامت ہے لہٰذا جس شخص سے بھلائی ظاہر ہووہ عادل ہے اور اس کی شہادت قبول ہے ۔ چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جس شخص سے بھلائی ظاہر ہو تو وہ عادل ہے اور اس کی گواہی کو قبول کیا جائے گانیزامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فرمان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے زمانے یعنی حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں لوگ عادل نیک ہوا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’طیبہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے آخری نبی ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر نبوت ختم ہوچکی ہے ، آپ خاتم النبیین ہیں ۔
(2) حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّوحی کے ذریعے لوگوں کے باطنی معاملات سے بھی آگاہ فرمادیتا ہے ۔
(3) اب اُمَّت کے لیے قیامت تک یہی حکم ہے کہ فقط ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائے اور باطنی معاملات کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کردیا جائے ۔
(4) اگر کسی شخص سے بھلائی کا ظہور ہو تو یہ اس کے عدل کی علامت ہے ایسے شخص کی گواہی مقبول ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں لوگوں کے مابین ان کے ظاہرکے مطابق شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سچے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں بھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں نیک ، پرہیزگار اور اطاعت گزار بنائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدظاہر کے مطابق فیصلہ کی مزیدوضاحت وفوائد :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ باب میں ذکر کردہ تمام احادیث مبارکہ کا باب کے اعتبار سے یہی مفہوم ہے کہ لوگوں کے مختلف معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا ، باطنی معاملات کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کردیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں چند اہم مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
( 1 ) مسلمانوں کے مختلف معاملات کا فیصلہ کرنے کا ہر ایک کو اختیارنہیں ہے بلکہ حاکم وقت ، قاضی ، گورنر ، مفتیان کرام ، علمائے کرام یا جو اہل ہو اور شریعت جسے اجازت دے وہی اس کا مجاز ہے ۔
( 2 ) اگر کسی شخص کو یہ ذمہ داری دی جائے اور وہ اس کا اہل نہ ہوتو اسے چاہیے کہ واضح انکار کردے کہ اب اس کے لیے یہ منصب قبول کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے ۔
( 3 ) منصب قضا کا حق ادا کرتے ہوئے شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا بڑا ہی جان جوکھوں والا کام ہے اور بہت سے سلف صالحینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناس حساس منصب سے بچنے میں ہی عافیت جانتے تھے ۔
( 4 ) اگر کوئی شخص منصب قضا کا اہل ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر وہ اس منصب کو قبول نہیں کرے گا تو ہوسکتا ہے کسی نااہل شخص کو یہ منصب دے دیا جائے گا تو اسے چاہیے کہ اب یہ منصب قبول کرلے ۔
( 5 ) بعض لوگ اپنے طور پر مخصوص حلقہ بنا کر لوگوں کے مختلف معاملات کے غیر شرعی فیصلہ کرنے لگ جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کو خوف خدا سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کل بروز قیامت غیر شرعی فیصلہ کرنے کی وجہ سے رب تعالیٰ ناراض ہوگیا تو تباہی وبربادی مقدر ہوگی ۔
( 6 ) مذکورہ باب کی مختلف احادیث میں جو یہ بیان فرمایا گیا کہ ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ فیصلہ کرنے کے جو بھی شرعی تقاضے ہیں وہ پورے کرتے ہوئے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ۔
( 7 ) اس سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ کسی نے واقعی کوئی جرم کیا ہو اور اب وہ قاضی کے سامنے جھوٹ بولے اور قاضی اس کے جھوٹ کی بنا کر اسے چھوڑ دے بلکہ قاضی اس کے بارے میں ہر طرح کی مکمل تفتیش کرے گا اور بالآخر جو بھی صورت حال واضح ہوگی اس کے مطابق فیصلہ کرے گا ۔
( 8 ) ہاں اگر کوئی شخص واقعی مجرم ہے مگر قانونی وشرعی تفتیش کے بعد بھی اس کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی ثبوت نہ ملا اور وہ اپنے جرم سے انکاری ہے تو اب قاضی اس کے ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا لیکن ایسے شخص کو خوف خدا سے ڈرنا چاہیے کہ مختلف حیلے بہانے کرکے یا مکروفریب کے ذریعے دنیا میں تو اس نے اپنے آپ کو بچا لیا لیکن کل بروزِ قیامت اس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پکڑ سے اپنے آپ کو کیسے بچائے گا؟ جو اس کے تمام ظاہری وباطنی معاملات سے باخبر ہے ۔ لہذا جرائم اور مختلف گناہوں کو فقط قاضی ، حاکم وقت یا کسی بھی دنیوی حکمران یا دنیوی سزا کے خوف سے چھوڑنے کی بجائےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے ترک کردیجئے ، اس کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرلیجئے ، وہ بڑا غفور رحیم ہے ، آئندہ نہ کرنے کا عہد کرلیجئے اور نیکیوں پر کمربستہ ہوجائیے ، بُرے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کش ہو کر نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرلیجئے ۔
( 9 ) شریعت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اگر حاکم فقط ظاہر کے مطابق فیصلہ کردے تو اس کے فیصلے
کو قبول کرلینا چاہیے اور باطنی گناہوں یعنی غیبت ، تہمت ، بہتان ، حسد وتکبر وغیرہ سے بچتے ہوئےاللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ بسا اوقات قدرتی طور پر فریقین کے حق میں وہ فیصلہ مفید ہوتا ہے ، اگر اس معاملے کے باطن کی طرف بامشقت کوشش کی جائے تو فریقین میں سے کسی کو کوئی ظاہری یا باطنی طور پر نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ اس سلسلے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ ۲۲۷سے اعلی حضرت ، عظیم البرکت ، عظیم المرتبت ، مجدد دِین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکا ایک وضاحتی فرمان اوراس کے تحت بیان ہونے والی حکایت پیش خدمت ہے : ’’شریعتِ مُطَہَّرہ کے دو حکم ہیں : ظاہر وباطِن ۔ قاضی وعامّۂ ناس ( یعنی عام لوگ ) اُن کی رَسائی ظاہِر اَحوال ہی تک ہے ( کہ وہ فقط ظاہری احوال مطابق ہی لوگوں کے مابین فیصلے کرتے ہیں ) اُن پر اُس کی پابندی لازِم ۔ اگرچِہ واقِفِ حقیقتِ حال ( یعنی وہ جسے باطنی اور حقیقی حال کا علم ہو اس ) کے نزدیک حکم بِالعکس ( یعنی اُلٹ ) ہو ۔ ‘‘
¥قتل کا حیرت انگیزمقدمہ :( مزید فرمایا ) اس کی نَظیر ( یعنی مثال ) زمانۂ سیِّدُنا داودعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں واقِع ہو چکی ۔ ایک فقیر مُفلِس ، بے نوا ، نانِ شَبِینہ ( یعنی رات کی روٹی ) کو محتاج ، شب کو دُعا کیا کرتا کہ ’’الٰہی (عَزَّ وَجَلَّ) رزقِ حلال عطا فرما ۔ ‘‘ اِتِّفاقًا کسی شب ایک گائے اُس کے گھر میں گھس آئی ، یہ سمجھا کہ میری دعا قَبول ہوئی ، یہ رزقِ حلال غیب سے مجھے عطا ہوا ہے ، گائے پچھا ڑ کر ذَبح کی ، اُس کا گو شت پکایا اور کھایا ۔ صُبح کو مالِک کو خبر ہوئی ۔ وہ سرکارِنُبَوَّت (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) میں نالِشی ( نا ۔ لِ ۔ شی یعنی فریادی ) ہوا ۔ سیِّدُنا داودعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ’’جانے دے ! تُومال دار ہے اُس محتاج نے ایک گائے ذبح کرلی تو کیا ہوا ؟ ‘‘ وہ بگڑا اور کہا : ’’یا نبیَّ اللہ! میں حق چاہتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’اگر حق چاہتا ہے تو گائے اُسی کی تھی ۔ ‘‘ وہ اوربَرہَم ( یعنی غصّے ) ہوا ۔ فرمایا : ’’نہ صرف گائے ( بلکہ ) جِتنا مال تیرے پاس ہے ، سب اُسی کا ہے ۔ ‘‘ وہ اور زیادہ فریادی ہوا تو فرمایا : ’’تُو بھی اُسی کی مِلک ہے اور اُسی کا غلام ہے ۔ ‘‘ اب تو اُس کی بے تابی کی حد نہ تھی ۔ فرمایا : ’’اگر تصدیق چاہتا ہے ابھی ہمارے ساتھ چل ۔ ‘‘ اُس فقیر اور اُس گائے والے کو ہمراہ رِکاب ( یعنی ساتھ ) لے کر جنگل کو
تشریف لے گئے ۔ واقِعہ عجیب تھا ، خَلق کا ہُجُوم ساتھ ہولیا ۔ ایک دَرَخت کے نیچے حکم دیا کہ یہاں کھودو ۔ کھودنے سے انسان کا سر اور ایک خنجر جس پر مقتول کا نام کَنْدَہْ ( یعنی لکھا ) تھا ، برآمد ہوا ۔نبیُّ اللہ(عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) نے اُس دَرَخت سے اِرشاد فر مایا : ’’شہادت ( یعنی گواہی ) ادا کرتُو نے کیا دیکھا ؟ ‘‘ پیڑ نے عَرض کی : ’’یانَبِیَّ اللہ! (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) یہ اِس فقیر کے باپ کاسَر ہے ، یہ گائے والا اُس کا غلام تھا ۔ اِس ( یعنی گائے والے ) نے موقع پاکر میرے نیچے اپنے آقا ( یعنی فقیر کے والِد ) کو اُسی کے خنجر سے ذَبح کیا اور ز مین میں مَع خنجر ( یعنی خنجر کے ساتھ ) دبادیا اور اس کے تمام اَموال پرقابِض ہوگیا ۔ اُس کا یہ بیٹا بَہُت صغیر سِن ( یعنی کم عمر ) تھا ، اس نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو بے کس وبے زَر ( یعنی مفلس و تنگدست ) ہی پایا اور یہ بھی نہ جانا کہ اس کا باپ کون تھا اور اُس کا کچھ مال بھی تھا یا نہیں؟ ‘‘ حکمِ باطِن ثابِت ہوا ، غلام ( یعنی گائے والا چونکہ فقیر کے باپ کا قاتل تھا اس لئے ) گردن مارا گیا ( یعنی قتل کیا گیا ) اور وہ تمام اَموال ( جو گائے والے کے تھے )وِراثَۃً فقیر کو ملے ۔ ( )
¥فیصلہ کرنے کے مدنی پھول :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس باب میں مسلمانوں کے معاملات کے ظاہر کے مطابق فیصلے کرنے کا بیان ہوا ، واضح رہے کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کرنا ایک بہت ہی نازک اور اہم معاملہ ہے ، تھوڑی سی بے احتیاطی سے کسی کا بھی حق ضایع ہونے اور آخرت میں اس پر پکڑ ہونے کا سخت اندیشہ ہے ، لہذا ہر وہ شخص جسے یہ ذمہ داری دی جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سے متعلق ضروری اَحکامِ شرعیّہ کو سیکھے اور پھر اُن کے مطابق فیصلہ کرے ۔ فیصلہ کرنے کے مختلف اَحکام اور آداب کی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۵۶ صفحات پر مشتمل رسالے ’’فیصلہ کرنے کے مدنی پھول ‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید ہے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 395