Main Icon

باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 824

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الشَّرِيْدِ بنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا جَالِسٌ هٰكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَاْتُ عَلَى اَلْيَةِ يَدِيْ فَقَالَ:اَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ؟

عن الشريد بن سويد رضي الله عنه قال:مر بی رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا جالس هكذا وقد وضعت يدي اليسرى خلف ظهري واتكات على الية يدي فقال:اتقعد قعدة المغضوب عليهم؟

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا شَرید بن سُوَیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے پاس سے گزرے تو میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر ٹیک لگائی ہوئی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہوا۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !مذکورہ حدیث پاک میں بیٹھنے کے ایک نا پسندیدہ طریقے کو بیان کیا گیا ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ الٹا ہاتھ پیٹھ پر رکھ کر ہتھیلی کے اس گوشت پر ٹیک لگائی جائے جو انگوٹھے کی جڑ سے آخری کنارہ تک ہے۔اس طرح بیٹھنےو الے کو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہوا ۔‘‘یہودیوں کی بیٹھک:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس طرح یہود بیٹھا کرتے ہیں اور یہودپراللّٰہکا غضب ہے تو یہ بیٹھکاللّٰہتعالیٰ کو ناپسند ہے تم مؤمن انعام والے بندے ہو تم ان سے تشبیہ کیوں کرتے ہو۔خیال رہے کہ ایک ہاتھ پیٹھ پر رکھنا دوسرے ہاتھ پر ٹیک لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ داہنا ہاتھ پیٹھ پر بایاں زمین پر یا برعکس بلکہ دونوں یا ایک ہاتھ کوکھ پر رکھنا یا پیٹھ سے لگانا ہی ممنوع ہے یوں ہی دونوں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کھڑے کرنا ان پر ٹیک لگانا ممنوع ہے۔“اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جن پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہوا ان سے مراد یہود ہیں۔ان کا ذِکر کرنے میں دو فائدے ہیں:(1)اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ایسا بیٹھنااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو پسند نہیں خواہ کوئی بیٹھے۔(2)چونکہ مسلمان پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا اِنعام ہے لہٰذا اسے اس شخص کے ساتھ مشابہت اختیار نہیں کرنی چاہیے جس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب اور لعنت ہے۔“مشابہت کی ممانعت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جمہور مفسرین سورۂ فاتحہ کے آخر میں ذِکر کرتے ہیں کہ جن پرغضب ہوا ان سے مراد یہود ہیں۔اس حدیث سے پتا چلا کہ جن پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہوا ان سے ہیئت یا اَفعال واَحوال میں مشابہت اختیار کرنا ممنوع ہے۔مدنی گلدستہ’’اِحْتِبَاء‘‘کے6حروف کی نسبت سےاَ حادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
اِحْتِبَاءسنتِ مبارکہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں،پاؤں کے تلوے زمین سے لگے ہوں،سُرین زمین پر ہوں اور دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں کے گِرد حلقہ بنایا ہو۔
(2)
اِحْتِبَاءکے طریقے پر بیٹھنے میں عجزو انکسارکا اظہار ہے۔
(3) ہمارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَیِّدُالمُرْسَلِیْنہونے کے باوجودعاجزی فرمایا کرتے۔
(4) الٹا ہاتھ پیٹھ کے پیچھےرکھ کر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر ٹیک لگانا منع ہے کہ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے جن پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہے۔
(5) ایک ہاتھ پیٹھ پر رکھنا دوسرے ہاتھ پر ٹیک لگانا مطلقًا ممنوع ہے۔
(6) جن پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا غضب ہوا اُن سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بیٹھنے کی سنّتوں اورآداب پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 824