Main Icon

باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 821

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِر ِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي ْ مَجْلِسِهِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ.

عن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر تربع في مجلسه حتى تطلع الشمس حسناء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابر بن سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِفجر کے بعد مسجد میں چار زانوتشریف فرما ہو جاتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح نکل آتا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چارزانو(پالتی والے انداز میں)بیٹھنا بھی سنت مبارکہ ہےجیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں ہے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِفجر کے بعد مسجد میں چار زانو(پالتی والے انداز میں) تشریف فرما ہو جاتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح نکل آتا۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمفجر کی نماز پڑھا کر مصلے شریف پر ہی چہار زانو بیٹھے رہتے جب آفتاب طلوع ہوکر بلند ہوجاتا تب اِشراق وہاں ہی پڑھ کر اٹھتے،سنت بھی یہ ہی ہے۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعد نماز جائز ہوتی ہے اسی وقت سے نمازِ اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے۔حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے نمازِ فجر باجماعت ادا کی پھر طلوع ِآفتاب تک بیٹھ کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کیا پھر دو رکعتیں ادا کیں تو اس کے لئے ایک کامل حج اورعمرے کا ثواب ہے۔“مدنی گلدستہ’’اِشراق‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھ کر چت لیٹنا جائز ہے جبکہ بے پردگی کا اندیشہ نہ ہو ۔
(2) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعموماً چار زانو تشریف فرما ہوتے ۔
(3) حضور نبی اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی نماز پڑھا کر مصلے شریف پر ہی چہار زانو بیٹھے رہتے جب آفتاب طلوع ہوکر بلند ہوجاتا تب نمازِاِشراق پڑھ کر اٹھتے۔
(4) نمازِ اشراق کا وقت آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور ضحوۂ کبریٰ تک رہتا ہے۔
(5) نصف النہار(ضحوۂ کبریٰ)کے وقت میں نماز اورسجدہ حرام ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق لیٹنے اور بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 821