Main Icon

باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 912

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وسَلَّم وَهُوَ بِالْمَوْتِ عِنْدَهُ قَدحٌ فِيْهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِی الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمّ يَقُوْلُ: اللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ.

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت رایت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وهو بالموت عنده قدح فيه ماء وهو يدخل يده فی القدح ثم يمسح وجهه بالماء ثم يقول: اللهم اعني علی غمرات الموت وسكرات الموت.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :”میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بوقتِ وِصال دیکھا، آپ کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ تھا جس میں آپ اپنا دستِ مبارک داخل کرتے اور پھر اپنے چہرۂ اَنور پرمَلتے اور یہ فرماتے جاتے:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!موت کی سختیوں اور سکراتِ موت پر میری مدد فرما۔“

شرح حدیث

حدیث کی باب سے مناسبت:اس حدیث میں اس بات کا بیان ہےکہ آخری وقت میں بندے کو چاہیےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے یہ دعا مانگے کہ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّموت کی سختیوں کو مجھ پر آسان فرمادے ۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی اس بارے میں ہے کہ آخری وقت انسان کیا کہے؟اسی لیےاِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے یہ حدیث اِس باب میں ذِکر فرمائی۔بوقتِ موت گرمی اور پیاس محسوس ہوتی ہے:وقتِ وصال نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اپنے چہرۂ انور پر پانی مَلنے کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:غشی یا تپش دور کرنے کے لیے یہ عمل فرماتے تھےکیونکہ بوقتِ موت بہت گرمی محسوس ہوتی ہے اسی لیے اکثر اس وقت میت کو پسینہ آجاتا ہے اور پیاس کا غلبہ ہوتا ہے اسی لیے اس وقت منہ میں پانی ٹپکانے کا حکم ہے اگرچہ سردی کا موسم ہو۔ سکرات سکرۃ کی جمع ہے،بمعنی غشی،رب تعالیٰ فرماتاہے:”وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى“۔یہاں وہ تکلیف مراد ہے جوعقل زائل کردے یعنی سخت تکلیف اور یہ دعا امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ اس وقت یہ دعا کیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ مجھے ان تکالیف کو برداشت کرنے کی طاقت دے یا انہیں کم فرمادے۔نبی پاکصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر سکراتِ موت کی وجوہات:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ہمارے بزرگ شىخ محمد البَکرِى مصرىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سکرات موت کے سبب مىں بہت سى وجوہ بىان کى ہىں:
(1)اىک ىہ کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مزاج شرىف تمام مزاجوں سے بڑھ کر حالتِ اعتدال پر تھا جس کی وجہ سے آپ کو تکلیف کا احساس بھی زیادہ ہوتا تھا اس سبب سے موت کا احساس والم زىادہ ہوا اور اس کا اثر بھى زىادہ محسوس کىا جیساکہ حدیث پاک میں ہےکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مجھے اتنا بخارہوتا ہے جتنا تمہارے دو آدمىوں کو ہوتا ہے۔“
(2) دوسرى وجہ ىہ ہے کہ آپ کى روح مبارک کا آپ کے جسد لطىف سے تعلق وعشق بہت قوى اور بہت زىادتھا تو اس کى جدائى سے آپ کو درد و تکلىف بھى زىادہ ہوئى۔
(3)تىسرى وجہ ىہ کہ اس مىں آپ کى امت کو تسلى دىنا مطلوب ہے کہ جب وہ دىکھىں گے کہ آپ کى رُوحِ پاک کے جسمِ اطہر سے منتقل ہونے کى کىفىت و صورت ىہ ہے تو پھر ہر امتى پر جان نکلنے کا معاملہ آسان محسوس ہوگا۔
(4)چوتھى وجہ ىہ بىان فرمائى کہ چونکہ حضور انور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى حقىقت شرىف تمام جہانوں کى جامع تھى تو آپ کى روح پاک کا آپ کے جسد اطہر سے الگ ہونا گوىا تمام ارواح اور تمام ا جسام کے اىک دوسرے سے جدا ہونے کى طرح تھا۔
(5)پانچوىں وجہ ىہ کہ حضور پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلطنت الٰہیہ کے متولی اورمنتظم ہیں،کون و مکان کے سارے احکام آپ کےسپرد ہیں،تمام جہان حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دائرہ حکومت میں ہیں،ایسی ذمہ دارہستی جب احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جائے تو اسے ہیبت زیادہ ہوتی ہے،اس وقت حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر ہیبتِ اِلٰہیہ کا غلبہ تھا جس کی یہ کیفیت تھی۔ہمارے شىخ عبدالوہاب متقیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے شىخ حضرت على متقىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیسے نقل کرتے ہىں کہ وہ وفات کے وقت فرمارہے تھے :”اگر مجھ سے شدّتِ سکرات کا مشاہدہ کرو تو پرىشان اور غمناک نہ ہونا کہ ىہ شدت مقام و منصب قطبىت کو لازم ہے۔“
(6)چھٹیوجہ ىہ ہے کہ حضورِ اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اس وقت تنزلاتِ اَحدیت ، تجلىاتِ صمدىت اور اسرارِانوارِ ربوبیت کا نزول ہورہا تھا جیساکہ نزول وحی کے وقت ہوتا تھااور یہ آپ کے اوقات زندگی میں سب سے اتم واکمل حال تھا۔یہ سکرات دراصل ان مشاہدات وافاضات کا معائنہ تھا جوکہ جسمانیت کے رشتہ کی برداشت ومجاہدات کی صورت میں ظاہر ہوا۔یہ آخری وجہ گزشتہ تمام وجہوں سے بہتر اور آپ کے مقام وحال شریف کے زیادہ موافق ہے ۔وَاللّٰہ اَعْلَم
فائدہ حدیث:جسم سے روح کے جُدا ہوتے وقت شدت وتکلیف محسوس ہوتی ہے لہٰذا ایسے وقت ربّ تعالیٰ سے نرمی وآسانی کی دعا مانگنا مستحب ہے۔
مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) آخری وقت میں بندے کو چاہیے کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے موت کی سختیوں پر آسانی کی دعامانگے۔
(2) موت کے وقت بندے کو بہت گرمی محسوس ہوتی ہے لہٰذا ایسے وقت میں اس کے منہ میں پانی ٹپکانے کا کہا گیا ہے۔
(3) ہمارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مزاج شرىف تمام مزاجوں سے بڑھ کر حالتِ اعتدال پر تھا ۔
(4) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا تھا۔(5) ∞نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر سکراتِ موت کی ایک حکمت آپ کى اُمَّت کو تسلى دىنا ہے کہ جب وہ دىکھىں گے آپ کى روح پاک کے جسمِ اطہر سے منتقل ہونے کى کىفىت و صورت ىہ ہے تو پھر ہر اُمَّتى پر جان نکلنے کا معاملہ آسان محسوس ہوگا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہم پر موت کی سختیوں میں آسانی فرمائے اور ہمیں اس دنیا سے اپنا اِیمان سلامت لے جانے میں کامیابی عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 912