Main Icon

باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 570

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ: بَيْنَا اَيُّوبُ عَلَیْہِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَاناً، فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ اَيُّوبُ يَحْثِيْ في ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّوَجَلَّ: يَا اَيُّوبُ! اَ لَمْ اَكُنْ اَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرٰى؟ قَالَ: بَلٰى وَعِزَّ تِكَ! وَلٰكِنْ لَا غِنَى بِيْ عَنْ بَرَكَتِكَ.

عن ابي هريرة رضی اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال: بينا ايوب علیہ السلام يغتسل عريانا، فخر عليه جراد من ذهب، فجعل ايوب يحثي في ثوبه، فناداه ربه عزوجل: يا ايوب! ا لم اكن اغنيتك عما ترى؟ قال: بلى وعز تك! ولكن لا غنى بي عن بركتك.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسےمَروی ہےکہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ایک مرتبہ حضرت ایوبعَلَیْہِ السَّلاملباس اُتار کرغسل فرما رہے تھے کہ اُن پر سونے کی ٹڈیاں گریں، وہ اُنہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےاُن سے اِرشاد فرمایا :’’اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اِس سے غنی نہیں کردیا جسے تم دیکھ ر ہے ہو؟‘‘عرض کی:’’ کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم ! لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں۔‘‘

شرح حدیث

ربّ کا فضل وکرم اور برکت ورحمت:حدیثِ مذکور میں بیان کیاگیا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپر جب آسمان سے سونے کی ٹڈیاں گریں تو آپ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔آ پعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ ٹڈیاں لالچ یا کسی دُنیاوی غرض کی وجہ سے نہ اٹھائیں بلکہاللّٰہعَزَّ وَجَلَّکافضل و کرم اوراس کی برکت و رحمت سمجھ کر اُٹھائیں۔ اسی لئے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’الٰہی! میں تیرے کرم سے دنیاوی مال سے تو بے نیاز ہو ں لیکن تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہوں۔‘‘سونے کی ٹڈیوں کی وضاحت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپرٹڈیوں کی بارش ظاہر یہی ہے کہ اوپر سے ہوئی تھی اور یہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ان کے لیے اِکرام تھا اور اُن کے حق میں معجزہ تھا۔ سونے کی ٹڈیوں کے بارے میں دو قول ہیں: ایک تو یہ کہ وہ حقیقتاً روح والی ٹڈیاں تھیں بس ان کا جسم سونے کا تھا، دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سونا ٹڈیوں کی شکل میں تھا ان میں روح نہ تھی، دوسرا معنی زیادہ ظاہر ہے۔‘‘ٹڈیوں کےبابرکت ہونے کی وُجوہات:دلیل الفالحین میں ہے:’’اللّٰہعَزَّ وَجَلَّکا حضرتِ سَیِّدُناایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپر خاص کرم تھا کہ آسمان سے ٹڈیوں کی شکل میں اُن پرسونا برسا۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنےحُصُولِ برکت کے لئے وہ ٹڈیاں اٹھائی تھیں۔اُن کے بابرکت ہونے کی کئی وجوہ بیان کی گئی ہیں:(1)وہ عالَم ِتکوین سے قریب تھیں اس لئے بابرکت تھیں۔ جیسا کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جسمِ اَقدس سے کچھ کپڑ ا ہٹا لیا اور بارش کا پانی جسمِ نازنین پر آنے دیا ۔ (2) یہ خلافِ عادت ایک نئی نعمت تھی اور نئی نعمت کا حق ہے کہ اسے چاہت سے لیا جائے کہ ایسی نعمت سےاِعراض کرناناشکری شمار ہوتا ہے۔ (3) یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ ٹڈیاں حضرت سَیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکے لئے بطورِمعجزہ ظاہر ہوئیں اور جواشیاء کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَامکے معجزے سے ظاہر ہوں وہ بابرکت ہوتی ہیں۔ جیسا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمعجزات کو باعِثِ برکت شمار کرتے تھے۔‘‘میں تیری عطا سے بے نیاز نہیں:مرآۃ المناجیح میں حدیثِ مذکور کی جو شرح کی گئی ہے اس کا خلا صہ یہ ہے: یہ واقعہ حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکے مرض سے شفا پانے کے بعد کا ہے ۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکی شفا یابی کے بعد رب تعالیٰ نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکی زوجہ محترمہ کو جوانی و صحت بخشی، کثیر مال واَولاد سے نوازا۔ ایک روز آپعَلَیْہِ السَّلَامغسل فرما رہے تھے کہ آسمان سے سونے کی ٹڈیوں کی برسات ہوئی، آپ انہیں جمع کرنے لگے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں نےتمہیں مال و اولادکے ذریعے بے نیاز نہیں کر دیا؟‘‘عرض کی :’’الٰہی! میں دُنیاوی مال سے بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں۔یعنی میں بہت مالدار ہوکر بھی تیری عطا سے بے نیاز نہیں، تیری عطا بھاگ دوڑ کرقبول کروں گا۔‘‘ اس میں ربّ کی نعمت کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ہے۔حدیثِ پاک سے ماخوذ چند مسائل:(1)خَلْوَت میں برہنہ ہو کر نہانا جائزہے۔امام مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’حضرت سَیِّدُنَا موسیٰ وسَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی حدیث میں خلوت میں برہنہ ہو کر نہانے کے مباح ہونے کی دلیل ہے، جبکہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑے، کیونکہ حضرت سیدنا موسیٰ وایوبعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماُن میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کہا گیا کہ ہم ان کی ہدایت سے ہدایت پائیں لہٰذااللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلَیْہِ السَّلَامسے ٹڈیاں جمع کرنے کے بارے میں پوچھا لیکن برہنہ نہانے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندوں کو خلوت میں بھی ستر کامُکَلَّففرماتا تو اس میں بندوں پر حرج واقع ہوتا، کیونکہ جب جُنبی غسل کرتا ہے تو اسے پورے کپڑے اتارنے پڑتے ہیں اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس کی مخلوق میں سے کوئی پوشیدہ نہیں ہے چاہےوہ برہنہ ہویا اس نے کپڑے پہنے ہوں ، البتہ خلوت میں بھی سِتر ڈھانپ کر نہانا حُسنِ ادب میں سے ہے۔حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے بارے میں مروی ہے کہ’’آپ دریا یا نہر وغیرہ کہیں بھی کبھی بغیر اِزار(یعنی چادر یا تہبند)کے نہیں نہائے۔‘‘ایک اور حدیثِ پاک میں سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی رات کو کھلی فضا میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی شرمگاہ کے بارے میں محتاط رہے، اگر اس نے ایسا نہ کیا اور اسےجنون لاحق ہوگیا تو پھر وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔‘‘ (2)حلال مال کی حرص جائز ہے، غنا یعنی مال داری باعثِ فضیلت ہے اسی وجہ سے حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے برکت کا نام دیا۔(3)ربّ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کے ساتھ قسم اٹھانا جائز ہے۔مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے دنیاوی لالچ سے دُور رہتے ہیں، اُن کی نظر مال ودولت پر نہیں بلکہ ربّ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رَحمت پر ہوتی ہے ۔
(2) جب بندے کو ربّ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو اُس کی قدر کرنی چاہیے، بسا اوقات کسی نعمت سے اِعراض کرنا ناشکری کے زُمرے میں آتا ہے۔
(3) جو اشیاء کسی نبی
عَلَیْہِ السَّلَامکے معجزے سے ظاہر ہوں وہ بابرکت ہو تی ہیں ۔
(4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت سےکوئی بے نیاز نہیں ہوسکتا سب اُس کے محتاج ہیں وہ غنی ہے۔(5) ∞خلوت میں برہنہ ہو کر نہانا جائز ہے جبکہ لوگوں کی نظر نہ پڑے البتہ خلوت میں بھی ستر ڈھانک کر نہانا حُسنِ ادب سے ہے اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکا طریقہ ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیوی مال ودولت کے لالچ سےبچاکراُخروی اِنعامات اوراپنا فضل و رحمت عطا فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 570