باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 570
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ: بَيْنَا اَيُّوبُ عَلَیْہِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَاناً، فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ اَيُّوبُ يَحْثِيْ في ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّوَجَلَّ: يَا اَيُّوبُ! اَ لَمْ اَكُنْ اَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرٰى؟ قَالَ: بَلٰى وَعِزَّ تِكَ! وَلٰكِنْ لَا غِنَى بِيْ عَنْ بَرَكَتِكَ.
عن ابي هريرة رضی اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال: بينا ايوب علیہ السلام يغتسل عريانا، فخر عليه جراد من ذهب، فجعل ايوب يحثي في ثوبه، فناداه ربه عزوجل: يا ايوب! ا لم اكن اغنيتك عما ترى؟ قال: بلى وعز تك! ولكن لا غنى بي عن بركتك.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسےمَروی ہےکہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ایک مرتبہ حضرت ایوبعَلَیْہِ السَّلاملباس اُتار کرغسل فرما رہے تھے کہ اُن پر سونے کی ٹڈیاں گریں، وہ اُنہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےاُن سے اِرشاد فرمایا :’’اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اِس سے غنی نہیں کردیا جسے تم دیکھ ر ہے ہو؟‘‘عرض کی:’’ کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم ! لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں۔‘‘
شرح حدیث
ربّ کا فضل وکرم اور برکت ورحمت:حدیثِ مذکور میں بیان کیاگیا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپر جب آسمان سے سونے کی ٹڈیاں گریں تو آپ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔آ پعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ ٹڈیاں لالچ یا کسی دُنیاوی غرض کی وجہ سے نہ اٹھائیں بلکہاللّٰہعَزَّ وَجَلَّکافضل و کرم اوراس کی برکت و رحمت سمجھ کر اُٹھائیں۔ اسی لئے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’الٰہی! میں تیرے کرم سے دنیاوی مال سے تو بے نیاز ہو ں لیکن تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہوں۔‘‘سونے کی ٹڈیوں کی وضاحت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حضرت سَیِّدُنَاایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپرٹڈیوں کی بارش ظاہر یہی ہے کہ اوپر سے ہوئی تھی اور یہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ان کے لیے اِکرام تھا اور اُن کے حق میں معجزہ تھا۔ سونے کی ٹڈیوں کے بارے میں دو قول ہیں: ایک تو یہ کہ وہ حقیقتاً روح والی ٹڈیاں تھیں بس ان کا جسم سونے کا تھا، دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سونا ٹڈیوں کی شکل میں تھا ان میں روح نہ تھی، دوسرا معنی زیادہ ظاہر ہے۔‘‘ٹڈیوں کےبابرکت ہونے کی وُجوہات:دلیل الفالحین میں ہے:’’اللّٰہعَزَّ وَجَلَّکا حضرتِ سَیِّدُناایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامپر خاص کرم تھا کہ آسمان سے ٹڈیوں کی شکل میں اُن پرسونا برسا۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنےحُصُولِ برکت کے لئے وہ ٹڈیاں اٹھائی تھیں۔اُن کے بابرکت ہونے کی کئی وجوہ بیان کی گئی ہیں:(1)وہ عالَم ِتکوین سے قریب تھیں اس لئے بابرکت تھیں۔ جیسا کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جسمِ اَقدس سے کچھ کپڑ ا ہٹا لیا اور بارش کا پانی جسمِ نازنین پر آنے دیا ۔ (2) یہ خلافِ عادت ایک نئی نعمت تھی اور نئی نعمت کا حق ہے کہ اسے چاہت سے لیا جائے کہ ایسی نعمت سےاِعراض کرناناشکری شمار ہوتا ہے۔ (3) یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ ٹڈیاں حضرت سَیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکے لئے بطورِمعجزہ ظاہر ہوئیں اور جواشیاء کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَامکے معجزے سے ظاہر ہوں وہ بابرکت ہوتی ہیں۔ جیسا کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمعجزات کو باعِثِ برکت شمار کرتے تھے۔‘‘میں تیری عطا سے بے نیاز نہیں:مرآۃ المناجیح میں حدیثِ مذکور کی جو شرح کی گئی ہے اس کا خلا صہ یہ ہے: یہ واقعہ حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکے مرض سے شفا پانے کے بعد کا ہے ۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکی شفا یابی کے بعد رب تعالیٰ نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکی زوجہ محترمہ کو جوانی و صحت بخشی، کثیر مال واَولاد سے نوازا۔ ایک روز آپعَلَیْہِ السَّلَامغسل فرما رہے تھے کہ آسمان سے سونے کی ٹڈیوں کی برسات ہوئی، آپ انہیں جمع کرنے لگے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں نےتمہیں مال و اولادکے ذریعے بے نیاز نہیں کر دیا؟‘‘عرض کی :’’الٰہی! میں دُنیاوی مال سے بے نیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بے نیاز نہیں۔یعنی میں بہت مالدار ہوکر بھی تیری عطا سے بے نیاز نہیں، تیری عطا بھاگ دوڑ کرقبول کروں گا۔‘‘ اس میں ربّ کی نعمت کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ہے۔حدیثِ پاک سے ماخوذ چند مسائل:(1)خَلْوَت میں برہنہ ہو کر نہانا جائزہے۔امام مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’حضرت سَیِّدُنَا موسیٰ وسَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی حدیث میں خلوت میں برہنہ ہو کر نہانے کے مباح ہونے کی دلیل ہے، جبکہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑے، کیونکہ حضرت سیدنا موسیٰ وایوبعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماُن میں سے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کہا گیا کہ ہم ان کی ہدایت سے ہدایت پائیں لہٰذااللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلَیْہِ السَّلَامسے ٹڈیاں جمع کرنے کے بارے میں پوچھا لیکن برہنہ نہانے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبندوں کو خلوت میں بھی ستر کامُکَلَّففرماتا تو اس میں بندوں پر حرج واقع ہوتا، کیونکہ جب جُنبی غسل کرتا ہے تو اسے پورے کپڑے اتارنے پڑتے ہیں اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے اس کی مخلوق میں سے کوئی پوشیدہ نہیں ہے چاہےوہ برہنہ ہویا اس نے کپڑے پہنے ہوں ، البتہ خلوت میں بھی سِتر ڈھانپ کر نہانا حُسنِ ادب میں سے ہے۔حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے بارے میں مروی ہے کہ’’آپ دریا یا نہر وغیرہ کہیں بھی کبھی بغیر اِزار(یعنی چادر یا تہبند)کے نہیں نہائے۔‘‘ایک اور حدیثِ پاک میں سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی رات کو کھلی فضا میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی شرمگاہ کے بارے میں محتاط رہے، اگر اس نے ایسا نہ کیا اور اسےجنون لاحق ہوگیا تو پھر وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔‘‘ (2)حلال مال کی حرص جائز ہے، غنا یعنی مال داری باعثِ فضیلت ہے اسی وجہ سے حضرت سَیِّدُنَا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے برکت کا نام دیا۔(3)ربّ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کے ساتھ قسم اٹھانا جائز ہے۔مدنی گلدستہ’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے دنیاوی لالچ سے دُور رہتے ہیں، اُن کی نظر مال ودولت پر نہیں بلکہ ربّ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رَحمت پر ہوتی ہے ۔
(2) جب بندے کو ربّ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو اُس کی قدر کرنی چاہیے، بسا اوقات کسی نعمت سے اِعراض کرنا ناشکری کے زُمرے میں آتا ہے۔
(3) جو اشیاء کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَامکے معجزے سے ظاہر ہوں وہ بابرکت ہو تی ہیں ۔
(4)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت سےکوئی بے نیاز نہیں ہوسکتا سب اُس کے محتاج ہیں وہ غنی ہے۔(5) ∞خلوت میں برہنہ ہو کر نہانا جائز ہے جبکہ لوگوں کی نظر نہ پڑے البتہ خلوت میں بھی ستر ڈھانک کر نہانا حُسنِ ادب سے ہے اور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکا طریقہ ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیوی مال ودولت کے لالچ سےبچاکراُخروی اِنعامات اوراپنا فضل و رحمت عطا فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 570