Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 187

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْقَائِمِ فِی حُدُوْدِ اللَّہِ ، وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلَی سَفِیْنَۃٍ ، فَصَارَبَعْضُہُمْ اَعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ اَسْفَلَہَا ، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِی اَسْفَلِہَا اِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاء ِ مَرُّوْا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ ، فَقَالُوْا : لَوْ اَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ، فَاِنْ تَرُکُوْہُمْ وَمَا اَرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعًا ، وَاِنْ اَخَذُوْا عَلَی اَیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا. ( )

عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : مثل القائم فی حدود اللہ ، والواقع فیہا کمثل قوم استہموا علی سفینۃ ، فصاربعضہم اعلاہا وبعضہم اسفلہا ، فکان الذین فی اسفلہا اذا استقوا من الماء مروا علی من فوقہم ، فقالوا : لو انا خرقنا فی نصیبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا ، فان ترکوہم وما ارادوا ہلکوا جمیعا ، وان اخذوا علی ایدیہم نجوا ونجوا جمیعا. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے تقسیم کر لیے ، بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا توجو لوگ نچلے حصے میں تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا ۔ نچلے حصے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گےاور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ ‘‘

شرح حدیث

حُدُوْدُاللہپر قائم رہنے اور اس میں مبتلا ہونے والا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود پر قائم رہنے والے سے مراد وہ ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں میں پڑنے سے لوگوں کو روکنے کے لیے کمربستہ ہوجائے۔ اور یہ بھی کہاگیاہےکہ ایساشخص جوحکم خداوندی کونافذ کرنے کے لیے کھڑاہوجائے یعنی بھلائی کا حکم دینے والااور برائی سے منع کرنے والاشخص ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود میں مبتلا ہونے والےسے مرادوہ شخص ہے جو بھلائی کا حکم دینا ترک کردے اور گناہوں کا ارتکاب کرے۔ ‘‘( )چند اَفراد کا جُرم پورے مُعاشرے کا ناسور:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذریعہ برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کوواضح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ، ہمارا کیا نقصان ہے؟ تو یہ سوچ غلط ہے ، اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جوکشتی میں سوار ہیں۔ اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ ‘‘( )

علامہ سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں دنیا کی مثال ایک کشتی سے دی گئی ہے کہ اگر کشتی کو نقصان پہنچے گا تو اس میں سوار سب ہی متاثر ہوں گے ۔ یہی حال دنیا کا ہے کہ اگر مسلمانوں نے حدودِ الٰہیہ کو قائم کیا اور امربالمعروف ونہی عن المنکرکے فریضہ کو ادا کیا تو نجات پائیں گے ورنہ گناہگارگناہوں کی وجہ سے اور نیکوکار بھلائی کا حکم اور برائی سے نہ روکنے کی وجہ سے گرفتارِ بلا ہوں گے۔ ‘‘( )
حدیث پاک سے ماخوذ چند اَہم اُمور کا بیان:(1) فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے ثابت ہواکہ گناہوں کی وجہ سے دُنیوی بلائیں بھی نازل ہوتی ہیں۔ نیزیہ بھی معلوم ہواکہ ایک طبقے کے گناہ کی وجہ سے پوری قوم بلامیں مبتلا ہوسکتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ بشرطِ استطاعت امر بالمعروف ، نہی عن المنکر واجب ہے۔ استطاعت ہوتے ہوئے اس سے اجتناب گناہ ہے۔ ‘‘( )
(2) شارح حدیث علامہ سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے واضح ہوا کہ تقسیم کے وقت محض تطییبِ نفس کے لیے قرعہ ڈالنا جائزہےجیساکہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام جب سفر کے لیے روانہ ہوتے تو جس بی بی کانام قرعہ میں آجاتااسے ہمراہ لے لیتے تھے۔ ‘‘( )
(3) عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو شخص شرکاء کے درمیان عدل کے ساتھ تقسیم کرناچاہتاہواس کے لئے قرعہ اندازی کرنا سنت ہےاور تمام فقہاء کا اس کے مسنون ہونے پر اتفاق ہے۔ ‘‘
(4) جب کسی زمین یامکان کو شرکاء کے درمیان تقسیم کرناواجب ہوجائےتو ان پر لازم ہے کہ وہ دیانت داری کے ساتھ اس کی قیمت مقررکریں ، پھر قرعہ اندازی کریں اور ہر ایک کے لیےاس مشترک زمین سے وہ حصہ ہوجائے جو اس کے نام قرعہ سے نکلاہے اور یہ حصہ اس کے لیے اس قیمت کے عوض ہوگا جو قیمت معین کی گئی ہے۔ اور قرعہ اندازی اس چیز کو منع کرتی ہے کہ شرکاء میں سے ہر ایک زمین کے کسی

معین حصہ کو حاصل کرے۔ یہ قرعہ اندازی اس وقت کی جاتی ہے کہ جب زمین کے کسی حصہ میں سب شرکاء کی رغبت ہواور اس حصہ کی قیمت متعین کردی گئی ہوتو اس وقت قرعہ اندازی ہی کے ذریعے یہ فیصلہ ہوگاکہ کون زمین کے اس حصہ کوخریدے گا۔
(5) دو منزلہ مکان میں اوپروالی منزل کامالک کوئی اور ہے اور نیچے والی منزل کامالک کوئی دوسرا شخص۔ امام اشہب مالکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ اگر نیچے رہنے والااپنی منزل کومنہدم کرناچاہے تو اس کے لیے جائزنہیں کہ وہ اپنی منزل کو منہدم کرےکیونکہ اس کے منہدم کرنے کی وجہ سے اوپروالی منزل منہدم ہوجائے گی ہاں بقدرضرورت اتناکام کرواسکتاہےکہ جس سے اوپروالوں کو بھی فائدہ ہو۔ اسی طرح اوپر والوں کے لیے بھی اوپرایک اور منزل بناناجائزنہیں کیونکہ اس سے نیچے والی منزل کو نقصان پہنچ سکتا ہےالبتہ ایسی معمولی تعمیرجائز ہے کہ جس سے نچلی منزل کو نقصان نہ پہنچے۔ ‘‘( )
(6) علامہ سید محمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اسی حدیث کی روشنی میں یہ بھی واضح ہواکہ ہر شخص اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے ، دوسرے کو منع کرنے کا اختیارنہیں ہے ، لیکن اگر کوئی ایساتصرف کرے جس سے شریک کو یا ہمسایہ کو کھلاہوانقصان پہنچے تو اب اسے تصرف سے روک دیا جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص اپنے مکان میں تنور گاڑنا چاہتا ہے جس میں ہر وقت روٹی پکے گی جس طرح دکانوں میں ہوتا ہے یا اجرت پر آٹا پیسنے کی چکی لگانا چاہتا ہے یا دھوبی کا پاٹا رکھوانا چاہتا ہے جس پر کپڑے دھلتے رہیں گے ان چیزوں سے منع کیا جا سکتا ہے کہ تنور کی وجہ سے ہر وقت دھواں آئے گا جو پریشان کرےگا ، چکی اور کپڑے دھونے کی دھمک سے پڑوسی کی عمارت کمزور ہوگی اس لیے ان سے مالک مکان کو منع کرسکتا ہے۔ ‘‘( )
(7) حدیث پاک میں اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ عالِم مثالوں سے مسائل کو بیان کرے تاکہ عوام آسانی سے سمجھ سکیں۔ نیز اس حدیث پاک میں پڑوسی کی اذیت پر صبرکرنے کا درس ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ

بے صبری کرنے کی وجہ سے اس سے بڑی مصیبت میں مبتلا ہوجائے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کوئی بھی اہم بات ذہن نشین کروانے کے لیے مخاطب کو ایسی چیز سے مثال دینا جس کا تعلق ہماری روز مرہ کی زندگی سے ہو بہت مفیدہے۔
(2) گناہوں کی نحوست صرف گناہگار کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہےبلکہ بسا اوقات چند افراد کا جرم پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہےاورجس طرح گناہوں کا اثر پورے معاشرے پر ہوتا ہے اسی طرح برائیوں کو ترک کرنے کا فائدہ بھی صرف ترکِ معاصی کرنے والے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام لوگوں کو پہنچتا ہے کہ معاشرہ میں بے راہ روی نہیں پھیلتی۔
(3) دو افراد کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لیے قرعہ اندازی کرنا سنت ہے۔
(4) اپنے گھر میں ایسی کوئی تبدیلی نہ کریں جس سے پڑوسی کی عمارت کو نقصان پہنچے اور نہ ہی کوئی ایسا کام کریں جس سے انہیں تکلیف ہو۔
(5) برائی کو مٹانے کی قدرت ہونے کے باوجود شرم ، طمع اور گھبراہٹ کی بنا پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنا شریعت میں ناپسندیدہ فعل ہےالبتہ اگر کسی سے واقعی نقصان پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہے تو پھر اسے ترک کرنے میں مضائقہ نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا والے کا م کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، حقوق العباد کی صحیح ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 187