Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 186

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ الْوَلِیْدِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال : بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلیَ السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ وَعَلَی اَثَرَ ۃٍ عَلَیْنَا وَعَلَی اَنْ لَا نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَہْلَہُ اِلَّا اَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَـوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ تَعَالٰی فِيْهِ بُرْهَانٌ وَعَلَی اَنْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِـمٍ. ( )

عن ابی الولید عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ قال : بایعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی السمع والطاعۃ فی العسر والیسر والمنشط والمکرہ وعلی اثر ۃ علینا وعلی ان لا ننازع الامر اہلہ الا ان تروا كفرا بـواحا عندكم من الله تعالی فيه برهان وعلی ان نقول بالحق اینما کنا لا نخاف فی اللہ لومۃ لائـم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو ولید عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےخوشی ، ناخوشی ، تنگی ، خوشحالی اور ہم پر (دوسروں کو) ترجیح دئیے جانے کی حالت میں(سلطان کی)بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اقتدار کے اہل لوگوں سے جھگڑا نہیں کریں گے۔ ‘‘ اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہاں مگر اس صورت میں کہ تم ان میں ایسا واضح کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے واضح دلیل ہو۔ ‘‘(تو انکی مخالفت کرو) ’’اور ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ‘‘

شرح حدیث

بیعت کے پانچ نکات:صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک پر پانچ اُمور پر بیعت کی : (1)وہ تنگی و فراخی کی حالت میں حاکم کی اطاعت کریں گے۔ (2)خوشی نا خوشی میں حاکم کی اطاعت کریں گے۔ (3)دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی صورت میں حاکم کی اطاعت کریں گے۔ (4)اہل اقتدار کے معاملات میں اُن سے جھگڑا نہیں کریں گے جب تک کہ اُن سے واضح کفر نہ دیکھ لیں۔ (5)ہم ہر حال میں کلمۂ حق بلند کریں گے اور دِین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔حاکم کی اطاعت کرنے کا سبب اور حکمت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی حضرتِ سَیِّدُنا عبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نے تنگی و فراخی کی حالت میں حاکم کی بات سننے اور اُس کی اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اُن معاملات میں اِطاعت کرنے پر بیعت کی جو ہمارے نفس پر شاق ہوں اور ہمارانفس اُسے ناپسند کرے تو جب تک وہ گناہ کی حد تک نہ پہنچ جائیں اس وقت تک ہم ان کی اطاعت کریں گے۔ پس اگر اُمراء کےحکم معصیت یعنی گناہ پر مبنی ہوں تو ہم اس میں نہ ان کی بات سنیں گے اور نہ ہی ان کی اطاعت

کریں گےکہ حدیث پاک میں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ ‘‘اور ان تمام امور میں حاکم کی اطاعت کرنے کی وجہ مسلمانوں کے کلمہ کا ایک ہوناہے اور اس معاملے میں اختلاف کرنا دِین میں فساد پیداہونے کا سبب ہے۔‘‘( )
دوسروں پر ترجیح کی صورت میں بھی اطاعت:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اگر حکام دنیاوی اُمور میں دوسروں کو تم پر ترجیح دیں اور اُن کو اُمورِ دنیا کے ساتھ مختص کریں اور تمہارے حقوق تمہیں نہ دیں تو تم ان کی نافرمانی نہ کرو ، ان کی بات سنو اور جمیع اَحوال میں اُن کی اطاعت کرو کیونکہ حکام کے حکم کی خلاف ورزی مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی احوال میں فساد پیدا ہونے کا سبب ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ : ’’اگر تمہارا امیر کمزور نسب حبشی غلام ہو حتی کہ اس کے ناک کان بھی کٹے ہو ئے ہوں ، تب بھی تم پر اس کی اطاعت کرناواجب ہے۔ ‘‘( )
اہل اقتدار سے جنگ نہ کرنا:شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس بات پر بیعت کی کہ اقتدارجن لوگوں کے سپردکیا جائے گاان سے جنگ نہیں کریں گے ، ان کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے ، ان کے خلاف دنیا کے اموراور سلطنت کے احکام میں نہ کچھ کہیں گےاور نہ کریں گےلیکن جہاں تک احکامِ دِین اور شریعت کے حق کا تعلق ہے تو اس معاملے میں ہم خاموشی اختیارنہیں کریں گےاور نہ ہی چاپلوسی سے کا م لیں گے۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا کہ اقتدار کے سلسلہ میں نہیں جھگڑوگےجب تک تم ایسا کھلاہواکفر نہ دیکھ لوجس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے روشن دلیل ہویعنی قرانِ پاک کی آیت اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

وَسَلَّم کی سنت جس میں تاویل نہ کی جاسکے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ حاکم فسق اور ظلم کی بناپر معزول نہیں ہوتا ، اگر بغیر فتنہ وفسادکے اسے معزول کرنا ممکن نہ ہوتو اسے معزول نہیں کرنا چاہیےاور اگر فساد کے بغیر ممکن ہوتواسے معزول کرنا اولیٰ اور زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘( )
کفر کی صورت میں اہل اقتدار کی اطاعت نہ کرنا:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہاں کفر سے مراد معاصی (یعنی گناہ) ہیں۔ حدیث پاک کا معنیٰ یہ ہے کہ جو حکام تمہارے امور کے والی ہیں ان کی ولایت میں ان سے جھگڑا نہ کرو اور نہ ہی ان پر کوئی اعتراض کرو ، ہاں اگر تم ان سے ایسا کھلا کفر دیکھوجس کے بارے میں تمہیں یقینی ہو کہ یہ قواعد اسلام کے خلاف ہے تو تم اس کا انکارکرواور جہاں کہیں بھی ہو حق بات کہو۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یعنی کسی دنیاوی معاملہ میں اگرتمہاری رائےیہ ہوکہ اس میں تمہارا حق ہے تو تم اس رائے پرعمل نہیں کروگے بلکہ حاکم کی بات سنو گےاور اس سے بغاوت کیے بغیر اس کی اطاعت کرو گے۔ البتہ اگر تم ان سے ایسی بری بات دیکھوجوقواعد اسلامیہ کے خلاف ہوتو ایسی صورت میں تمہارے لیے ان سے نزاع یعنی جھگڑا کرناجائز ہےاور تم پر ان کی اطاعت لازم نہیں۔ ‘‘( )
کافر اور فاسق کی خلافت کا حکم:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر کی امامت منعقد نہیں ہوتی اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر حاکم کافر ہوجائے (نَعُوْذُ بِاللّٰہ) تو وہ خلافت سے معزول کردیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس نے نماز قائم کرنا ترک کردی یا کسی بدعت کو اختیار کر لیا تو بھی وہ معزول ہو جائے گا۔ نیز اگر خلیفہ کافر ہو جائے یا شریعت کو تبدیل کرے یا کسی بدعت کا ارتکاب کرے تو اس کی ولایت اور اطاعت ساقط ہو جائے گی اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں

اور اسے منصب سے ہٹاکرکسی دوسرے عادل شخص کوامام یاولی مقررکریں اور اگر ان سےیہ ممکن نہ ہوتوجس جماعت سےیہ ممکن ہووہ اسے منصب سے ہٹانے کی جدوجہدکرے۔ بہرحال کافرکو معزول کرنا مطلقاًواجب ہےاور بدعتی کوہٹانااس وقت واجب ہے کہ جب اس پر غلبے کا یقین ہواور اگر بدعتی پر قدرت نہ ہواور اس پر غلبہ حاصل کرنے کاعجز متحقق ہوجائے تواس کے خلاف خروج کرناواجب نہیں اور ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیےکہ اس جگہ سے دوسری جگہ کی طرف ہجرت کرلیں اور اپنے دِین کو بچائیں ۔ نیز فاسق کو ابتداًخلیفہ بنانا جائزنہیں اور اگر خلیفہ بعد میں فاسق ہوجائے تو جمہوراہلسنت ، فقہااورمحدثین نے یہ کہا ہے کہ ظلم ، فسق اورلوگوں کے حقوق ضبط کرنے سے خلیفہ معزول نہیں ہوتااور اس کی بیعت توڑنا جائز نہیں اور نہ اس کے خلاف خروج اور جنگ کرناجائز ہے۔ البتہ اسے وعظ ونصیحت کرنااوراللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرانا چاہیے اورخلافِ شرع اُمورمیں اس کی اطاعت ترک کرنی چاہیے۔ ‘‘( )
جہاں بھی ہو حق بات کہو:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس بات پر بھی بیعت کی کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں حق بات کہیں گے یعنی کسی بھی جگہ پر ہوں اور کسی بھی زمانے میں ہوں بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور دین کے معاملے میں نہ کسی کی خوشامد کریں گے ، نہ کسی سے ڈریں گے اور نہ ہی کسی کے اقتدار کا لحاظ رکھیں گے۔ پس اس حدیث پاک میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر قائم کرنے کا حکم ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’طیبہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مختلف نیک اُمور کی انجام دہی پر بھی بیعت فرمایا کرتے تھے۔
(2) تنگی وفراخی ، خوشی وغمی ہرحال میں حاکم اسلام کی اطاعت کرنا ضرور ی ہے۔
(3) حاکم ایسے شخص کو بنا نا چاہیے کہ جو عادل ہو ، علم دِین کی صفت سے آراستہ ہو اور خوف خدا رکھنے والاہو کیونکہ ایسا شخص لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے گا۔
(4) جہاں بھی ہوں حق بات کہیں ، نیکی کی دعوت دیتے رہیں اور برائی سے منع کرتے رہیں ، دِین کے معاملے میں کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کی قطعاً پرواہ نہ کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں ہرحال میں حاکم اسلام کی اطاعت کرنے اور اس کے حکم کی بجاآوری کرنے کی توفیق عطافرمائے ، عادل ومنصف حکمران عطافرمائے ، ظالم وجابر حکمرانوں سے محفوظ فرمائے ، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 186