Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 189

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ الْحَکَم زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیََّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَزِعاً یَقُوْلُ : لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ مِثْلَ ہٰذِہِ وَحَلَّقَ بِاُصْبُعَیْہِ الْاِبْہَامِ وَالَّتِیْ تَلِیْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَہْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ : نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ. ( )

عن ام المؤمنین ام الحکم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل علیہا فزعا یقول : لا الہ الا اللہ ، ویل للعرب من شر قد اقترب فتح الیوم من ردم یاجوج وماجوج مثل ہذہ وحلق باصبعیہ الابہام والتی تلیہا فقلت : یا رسول اللہ انہلک وفینا الصالحون؟ قال : نعم اذا کثر الخبث. ( )

حدیث ترجمہ

: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ حَکَمْ زینب بنت جَحَشْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن گھبراہٹ کی حالت میں اُن کے ہاں تشریف لائےاورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرما رہے تھے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، عرب کے لیے اُس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے۔ ‘‘اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنایا۔ حضرتِ سَیِّدَتُنازینبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں نے عرض کیا : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے ؟حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہاں جب خبث (یعنی فسق وفجور اور کفر وشرک)کی کثرت ہو جائے گی۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت:اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب خبث یعنی فسق وفجور اور کفروشرک کی کثرت ہوگی تو سب قہر الہی میں گرفتار ہوں گے۔ کثرت تبھی ہوگی جب لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیں گے ، جب تک لوگ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے رہیں گے عذاب الٰہی سے بچے رہیں گے۔ یہ باب بھی امربالمعروف ونہی عن المنکر کا ہے اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے یہ حدیث ذکر فرمائی۔ہلاکت اور اس کا استحقاق:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’عرب کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے۔ ‘‘ہلاکت کے لیے عربی میں “ وَیْلٌ “ اور “ وَیْحٌ “ دونوں استعمال ہوتے ہیں لیکن ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ “ وَیْلٌ “ اس شخص کے لیےبولا جاتا ہے جو اس ہلاکت میں پڑے جس کا وہ مستحق ہے اور “ وَیْحٌ “ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اس ہلاکت میں پڑے جس کا وہ مستحق نہیں۔( )
تو مذکورہ حدیث پاک میں “ وَیْلٌ “ کے الفاظ اس بات پر دال ہیں کہ مسلمان جس ہلاکت میں مبتلا ہوں گے وہ اس کے مستحق بھی ہوں گے اور اس استحقاق کی وجہ کثرتِ خبث یعنی فسق وفجور اور کفروشرک کا زیادہ ہونا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان اگر امر بالمعروف ونہی عن المنکریعنی نیکی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دیں تو وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہوں گے۔
عرب سے کون مراد ہیں۔۔۔؟شارحین حدیث نے مسلمانوں کو عرب کے ساتھ خاص کرنے کی مختلف وُجوہات بیان فرمائی ہیں : (1)مسلمانوں کی اکثریت عربوں اور اُن کے آزاد کردہ غلاموں کی ہے ۔ ( ) (2)اِسلام میں پھیلنے والے بڑے بڑے فتنے اور فساد عرب میں پھیلیں گے اس لیے عرب کا خاص طور پر ذکر کیا۔ ( ) (3)عرب اِسلام میں داخل ہونے والی پہلی قوم ہے اور ڈرانے کے لیے بھی اُن کا نام لیا کیونکہ جب فتنہ واقع ہوگا تو ہلاکت و تباہی سب سے پہلے اُن کا رُخ کرے گی۔ ( )شر سے کیا مراد ہے؟حدیث پاک میں فرمایا گیا : ’’عرب کے لیے اُس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔ ‘‘شر کےبارے میں بھی شارحین حدیث کے مختلف اَقوال ہیں : (1) اِس شر سے مراد وہ جنگیں اورفتنے ہیں جو حضورِ انور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) بلکہ عہد فاروقی کے بعد عرب میں ظاہر ہوئے ، حضور نے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے ، حضور کی یہ گھبراہٹ اُن لوگوں پر شفقت کی وجہ سےتھی۔ ‘‘( )(2) اس سے مراد وہ فساد ہے جو عنقریب یاجوج ماجوج برپا کریں گے۔ (3) اس سے مراد وہ بڑا فساد ہے جوچنگیزی تُرکوں نے مسلمانوں کے شہروں میں کیا۔ ( ) (4)اِس شر سے وہ اختلاف مراد ہے جو امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے واقعے سے مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوا اور وہ اختلاف جو امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے درمیان وقع ہوا۔ ( )
یاجوج ماجوج اور اُن کا خروج:تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں میں پھیلنے والے شر کے بارے میں خبر دینے کے بعد فرمایا : ’’آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ دوسری آفت کی خبر ہے۔ دیوار سے مراد وہ آہنی دیوار ہے جو سکندر ذوالقرنین نے قوم یا جوج ماجوج کو بند کرنے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان بنائی تاکہ وہ لوگ اس دنیا میں نہ آسکیں۔ یاجوج ماجوج کافر انسان ہیں جو بہت قوی بڑے جسامت والے قد آور ہیں ، قریب قیامت یہ دیوارگرے گی اور یاجوج ماجوج نکل کر اس دنیا میں آکر آفت ڈھادیں گے۔ آج اس دیوار میں سوراخ ہوجانا اس کے گرنے کا قُرب بتانا ہے یہ بھی علامت قیامت ہے۔ اس سے پتہ لگا کہ حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی نظر سارے جہان پر ہے کہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یاجوج ماجوج کی دیوار کا سوراخ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ ‘‘( )صالحین کی موجودگی میں عذاب آنا:شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانی مستقبل میں درپیش آنے والے حالات و واقعات کے بارے میں جاننے کے بعد اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنازینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہاں! جب خبث کی کثرت ہو جائے گی۔ ‘‘
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ سوال پہلے فرمان کے متعلق ہے کہ حضور نے فرمایا : شر قریب آگئی۔ سوال کا مقصد یہ ہے کہ ہم اہل عرب میں مؤمنین صالحین ہیں اور رہیں گے تو کیا ان کے ہوتے ہوئے بھی عرب میں یہ شر پھیل جاوے گی؟ (فرمایا : ہاں جب خبث کی کثرت ہو جائے گی) یعنی جب مسلمانوں میں فسق و فجور عام ہوجاوے تو نیک بندوں کی

موجودگی انہیں ان آفات سے بچا نہ سکے گی ، کبھی نیک لوگوں کی نیکی بُروں کو عذاب سے بچالیتی ہے اور کبھی بُروں کی کثرت نیکوں کوعذاب میں گرفتار کردیتی ہے۔ ‘‘( )
خبث سے کیا مراد ہے؟اس کےبارے میں شارحین کےکئی اقوال ہیں : (1) خبث سے مراد فسق و فجور اور کفر و شرک ہے۔ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جب آگ اپنی شدت پر ہو تی ہے تو خشک و ترکو کھا جاتی ہے ، پاک و نجس پر غالب آجاتی ہے اور مؤمن و منافق ، موافق و مخالف کے درمیان فرق نہیں کرتی۔ ( ) (2) جمہور علماء نے خبث کی تفسیر فسق و فجور سے کی ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد خاص طورپر بدکاری ہے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد بدکاری سے پیدا ہونے والی اولاد ہے۔ ( ) (3) عرب بدکاری کے لیے خبث کا لفظ استعمال کرتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : (اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ) (پ۱۸ ، النور : ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان : “ گندیاں گندوں کے لیے ہیں۔ “ ( ) (4) ظاہر اور واضح بات یہی ہے کہ خبث سے مراد مطلق گناہ ہیں۔ اب حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ جب لوگوں میں گناہ عام ہوجائیں تو ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نازل ہوگا اورعام ہلاکت ہوگی اگرچہ اُس وقت اُن میں نیک لوگ بھی ہوں۔ ‘‘ ( )آخرت میں اپنے اپنے اَعمال پر حشر:اگر کسی قوم پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں عذاب نازل ہوتو اس کا تعلق فقط دنیا کے ساتھ ہی ہوتا ہے البتہ قیامت میں تمام لوگ اپنے اپنے اعمال پر اٹھائے جائیں گے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہ اس قوم

کے ہر نیک و بد کو پہنچتا ہےلیکن بروز قیامت وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال پر اٹھائےجائیں گے۔ ‘‘( )
یاجوج ماجوج کے متعلق عجیب وغریب معلومات:(1)یاجوج ماجوج بالاتفاق حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولادہیں لیکن نسب میں اختلاف ہے ۔
(2)یاجوج اور ماجوج دو مرد ہیں جو سیدنایافث بن نوح عَلَیْہِ السَّلَامکے بیٹے ہیں۔ مروی ہے کہ اگر تمام انسانوں کو دس حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج ہوں گے اور ایک حصہ بقیہ لوگ۔ یہ بھی مروی ہےکہ یاجوج ایک گروہ ہے اور ماجوج چار سو گروہ ہیں ، ہر گروہ میں چارلاکھ افراد ہیں اور ان میں کوئی نہیں مرتا جب تک اپنی پشت سے ایک ہزار مرد نہ دیکھ لے اور وہ ہتھیار نہ اٹھالے۔ ایک قول کے مطابق یاجوج ماجوج بیس(20)قومیں ہیں۔ یاجیج ، اجیج ، غیلانین ، غسلین ، قرانین ، قوطنیین یہ وہ قبیلہ ہے جو اپنے کانوں کو لحاف بنا کر اوڑھتا ہے ، قریطیین ، کنعانیین ، دفرانین ، جاجونین ، انطارنین ، یعاسین وغیرہ۔ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک ایسی مخلوق ہیں جن کی سال میں بہت تیزی سے نشو و نما ہوتی ہے اتنی تیزی سے کسی دوسری مخلوق کی نشوو نما نہیں ہوتی۔ ( )
(3)یاجوج ماجوج ربیع(یعنی موسم بہار)میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھا جاتے ، خشک چیزیں لاد کر لے جاتے ، آدمیوں کو بھی کھالیتے تھے ، درندوں اور وحشی جانوروں ، سانپوں اور بچھوؤں تک کھا جاتے تھے۔ ( )یہ تمام حشرات الارض وغیرہ کھاجاتے ہیں ، اسی طرح تمام جاندارپرندوں کو کھا جاتے ہیں۔ مروی ہے کہ جب کوئی اژدھا اہل زمین کو اذیت پہنچا تاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس اژدھے کو یاجوج ماجوج کی طرف منتقل فرماتا ہے اور ان کی خوراک بناتا ہے تو وہ اسے اونٹ اور گائے کی طرح ذبح کردیتے ہیں۔ ان کی غذااکثر شکار ہیں یہ کچا گوشت کھاجاتے ہیں ، بعض اوقات یہ ایک دوسرے کو بھی کھا لیتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو کبوتروں کی طرح بلاتے اور کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔ ان کے چالیس گروہ ہیں جن کی خلقت

ایک دوسرے سے نہیں ملتی اور ہر گروہ کا بادشاہ اور زبان الگ الگ ہے۔
(4)ان کے سر کتوں کے سروں کی طرح ہیں۔ ان میں بعض کے سینگ ، دم ، اور لمبے لمبے دانت ہیں۔ منقول ہے کہ ان کی ایک قسم کا قد صرف ایک بالشت ہے ، ان کے چرندوں جیسے پنجے اور درندوں جیسے دانت ہیں اور ان کے لمبے لمبے بال ہیں جو انہیں گرمی ، سردی سے بچاتے ہیں ۔ ان کے کان لمبے لمبے ہیں ، ایک کان میں گرمی اور دوسرے میں سردی بسر کرتے ہیں اور ایک قسم ایسی ہے جو سوتے وقت ایک کان نیچے بچھا لیتے ہیں اور دوسرا اوپر اوڑھ لیتے ہیں اور جو کوئی ان میں سے مرجائے اس کو کھاجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک قسم ایسی بھی ہے جن کے قد بہت لمبے ہیں اور ان میں سے ایک قسم ایسی ہے کہ جو چار گز لمبے اور چار گز چوڑے ہیں۔ ( )
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یاجوج ماجوج کی طرف بھیجا ، میں نے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دِین کی دعوت دی تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا وہ جہنم میں حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی نافرمان اولاد اور ابلیس کی اولاد کے ساتھ ہوں گے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب کوئی قوم امربالمعروف ونہی عن المنکر کو ترک کردے اور اس قوم میں گناہوں و فسق وفجور کی کثرت ہوجائے تو پھر اس پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔
(2) جب کسی قوم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نازل ہوتاہے تو اس قوم کے صالحین و فاسدین یعنی نیک وبد سب

کو لپیٹ میں لے لیتا ہے لیکن قیامت کے دن سب کا حشر اُن کے اپنے اپنے اَعمال کے مطابق ہوگا۔
(3) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آئندہ پیش آنے والے تمام حالات سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ آپ انہیں اپنی آنکھوں سے ملاحظہ بھی فرمارہے ہیں۔
(4) قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یاجوج ماجوج کا خروج بھی ہے ، یاجوج ماجوج اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت ہی عجیب وغریب مخلوق ہے ، مگر کافر ہونے کے سبب یہ تمام جہنم میں جائیں گے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینے ، برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں یاجوج ماجوج کے فتنے سے محفوظ فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 189