Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 196

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اَوَّلَ مَادَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنَّہُ کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا ہَذَا! اِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَاِ نَّہُ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ وَہُوَ عَلٰی حَالِہِ فَلا یَمْنَعُہُ ذلِکَ اَنْ یَکُوْنَ اَکِیْلَہُ وَشَرِیْبَہُ وَقَعِیْدَہُ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ : )لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ( اِلٰی قَوْلِہٖ)فٰسِقُوْنَ (ثُمَّ قَال : کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْہَوُنَّ عَنِِ الْمُنْکَرِ وَلَتَاْخُذُنَّ عَلٰی یَدِ الظَّالِم وَلَتَاْطِرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ بِقُلُوْبِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ثُمَّ لَیَلْعَنَنَّکُمْ کَمَا لَعَنَہُمْ. ( )ہَذَا لَفْظُ اَبِیْ دَاوُدَ
وَلَفْظُ التِّرْمِذِیِّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ نَہَتْہُمْ عُلَمَاؤُہُمْ فَلَمْ یَنْتَہُوْا ، فَجَالَسُوْہُمْ فِیْ مَجَالِسِہِمْ وَ وَاکَلُوْہُمْ وَشَارَبُوْہُمْ فَضَربَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبعْضٍ وَلَعَنَہُمْ عَلٰی لِسانِ دَاوُدَ وَعِیْسَی ابْنِِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مُتَّکِاً فَقَالَ : لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی تَاْطِرُوْہُمْ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا. ( )

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل انہ کان الرجل یلقی الرجل فیقول : یا ہذا! اتق اللہ ودع ما تصنع فا نہ لا یحل لک ثم یلقاہ من الغد وہو علی حالہ فلا یمنعہ ذلک ان یکون اکیلہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلوا ذلک ضرب اللہ قلوب بعضہم ببعض ثم قال : )لعن الذین كفروا من بنی اسرآءیل على لسان داود و عیسى ابن مریم-ذلك بما عصوا و كانوا یعتدون(۷۸) كانوا لا یتناهون عن منكر فعلوه-لبئس ما كانوا یفعلون(۷۹) ترى كثیرا منهم یتولون الذین كفروا-لبئس ما قدمت لهم انفسهم( الی قولہ)فسقون (ثم قال : کلا واللہ لتامرن بالمعروف و لتنہون عن المنکر ولتاخذن علی ید الظالم ولتاطرنہ علی الحق اطرا ولتقصرنہ علی الحق قصرا او لیضربن اللہ بقلوب بعضکم علی بعض ثم لیلعننکم کما لعنہم. ( )ہذا لفظ ابی داود
ولفظ الترمذی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لما وقعت بنو اسرائیل فی المعاصی نہتہم علماؤہم فلم ینتہوا ، فجالسوہم فی مجالسہم و واکلوہم وشاربوہم فضرب اللہ قلوب بعضہم ببعض ولعنہم علی لسان داود وعیسی ابن مریم ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون فجلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان متکا فقال : لا والذی نفسی بیدہ حتی تاطروہم علی الحق اطرا. ( )

حدیث ترجمہ

: حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں داخل ہوئی وہ یہ تھی کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور تو جو بُرے کام کرتا ہے اُسے چھوڑ دے

کیونکہ یہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔ پھر دوسرے دن اسے اسی حالت میں پاتا تو اسے منع نہ کرتا کیونکہ وہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے میں شریک ہو جاتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل آپس میں ایک دوسرے کے موافق کردیے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(۸۰) وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۱)(پ۶ ، المائدۃ : ۷۸تا۸۱)
ترجمۂ کنزالایمان : لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا۔ جوبُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی بُرے کام کرتے تھے۔ ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ کیا ہی بُری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گےاور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جوان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر اُن میں تو بہتیرے فاسق ہیں۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم! تم ضرور بہ ضرور نیکی کا حکم دوگے اور برائی سے منع کروگے اور ظالم کا ہاتھ پکڑوگے اور اسے حق کی طرف مائل کروگے اور اسے حق پر ہی روکے رکھو گے ، ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سب کے دل ایک دوسرے کے موافق کردے گا اور پھر تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی۔ ‘‘
یہ ابو داؤد کے الفاظ ہیں جبکہ ترمذی کے الفاظ یہ ہیں : ’’جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے پھر ان کے علماء ان کی مجالس میں شامل ہوئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے لگے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل ایک جیسے کردیے اور ان کی نافرمانیوں اور حد سے تجاوز کرنے

کے سبب حضرت سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھ گئے حالانکہ پہلے آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جب تک تم انہیں حق کی طرف نہ پھیرو چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ ‘‘

شرح حدیث

گناہگاروں کی صحبت کی نحوست:مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں : پہلے جز میں ایک آدمی کا دوسرے کو گناہ سے روکنے کا ذکر ہے جبکہ دوسرے جز میں بنی اسرائیل کے علماء کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب بنی اسرائیل بدکاری ، ہفتے کے دن شکار کرنے اور ان کے علاوہ دیگر گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ابتدا میں انہیں روکا ، مگر جب وہ لوگ باز نہ آئے اور اپنے علماء کی بات نہ مانی اور نہ ہی ممنوع چیزوں کو ترک کیا تو وہ علماء بھی اپنی قوم کی مجلسوں کے ہم نشین ہو گئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوگئے ، جب ان لوگوں نے ایسا کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل آپس میں خلط ملط کردیے۔ ‘‘ ابن الملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یعنی گناہگاروں کی نحوست کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان لوگوں کے دل بھی سیاہ کردیے جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا تھا تو ان سب کے دل گناہوں اور دل کی سیاہی کے سبب حق اور خیر قبول کرنے سے یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے دور ہوگئے اور پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان تمام نافرمانوں اور ان کے ہمراہیوں پر حضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبان سے لعنت فرمائی اور ان پر یہ لعنت اعلانیہ گناہوں کا ارتکاب کرنے ، گناہوں کو حلال سمجھ کر کفر کی حد سے تجاوز کرنے ، گناہوں پر رضامند ہونے اور گناہ کرنے والوں کو اچھا سمجھنے کی وجہ سے تھی۔ ‘‘( )بنی اسرائیل کے علماء کا کردار:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس

حدیث شریف میں بنی اسرائیل کے علماء کا کردار ذکر کرنے کے بعد اُس راستے پر چلنے سے روکا گیا ، نیز یہ بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کے علماء نے اپنی قوم کو بُرائی سے منع کیا ، جب وہ باز نہ آئے تو بجائے اس کے کہ وہ ان کا بائیکاٹ کرکے اُن کو برائی چھوڑنے پر مجبور کرتے ، خود ان کے ہم مجلس اور ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئے اور ان کے دل ایک جیسے ہوگئے جس کی بنیاد پر وہ لعنت کے مستحق ہوئے۔ ‘‘( )
گناہ گاروں کی صحبت بھی گناہ ہے:حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ’’جو لوگ گناہ نہیں کرتے تھے ان لوگوں کے دل بھی نافرمانوں کی طرح سیاہ کردیے گئے۔ ‘‘ یہاں گناہ نہ کرنے سے مراد ظاہری گناہ یعنی بدکاری اور ہفتے کے دن شکار نہ کرنا ہے۔ ورنہ اصلاً تو یہ لوگ بھی ایک طرح سے خطاکار تھے کہ ان لوگوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانیوں میں مبتلا لوگوں کے ساتھ بغیر کسی کراہیت اور ناپسندیدگی کے کھانا پینا اور ان کی صحبت اختیار کرنا بالکل واضح گناہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر بغض رکھنا اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ نافرمانوں سے دور رہا جائے ، ان سے ہجرت کی جائے ، ان سے تعلق ختم کیا جائے اور ان سے میل جول نہ رکھا جائے جبکہ بنی اسرائیل نے ان تقاضوں پر عمل نہ کیا جس کی وجہ سے ان کے دل سیاہ کردیے گئے۔ ‘‘( )نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے کی نصیحت:بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان پر عذاب نازل ہونے کا تذکرہ کرنے کے بعد حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حدیث پاک کے آخر میں اپنی امت کو تلقین فرمائی کہ تم ہرگز ان جیسے اعمال مت کرنا اور ہمیشہ نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برائی سے منع کرنا ، اگر تم نے یہ فریضہ صحیح طور پر ادا نہ کیا تو پھر تم پر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہوگی اور تم برباد ہوجاؤگے لہذا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنا۔ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :

’’سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت کے ارباب اختیار اور علماء کو متنبہ کیا کہ تمہیں اس (بنی اسرائیل کے) طریقہ کار سے بچنا ہوگا اور برائی کا ارتکاب کرنے والوں کا ہاتھ روکنا ہوگا ، منافقت و مداہنت سے کام لینے کے بجائے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنا اور امربالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا ۔ ظالم کا ہاتھ روک کر اسے راہِ حق پر لانا ہوگا ، ورنہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح لعنت کے مستحق ہوجاؤگے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’امام اعظم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)بنی اسرائیل میں بگاڑ پیدا ہونے کی ابتداء امربالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنے کی وجہ سے ہوئی۔
(2)گناہ گاروں کی صحبت اختیار کرنے کی نحوست سے گناہ نہ کرنے والوں کا دل بھی سیاہ ہوجاتا ہے۔
(3)علماء پر لازم ہے کہ استقامت کے ساتھ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں تعطل کا شکار نہ ہوں۔
(4)اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ گناہگار شخص کو پہلے برائی سے منع کیا جائے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے تاکہ اسے گناہوں کا احساس ہواور وہ انہیں چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔
(5)کفار ومشرکین کبھی بھی مسلمانو ں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ، لہذا کفار سے دوستی کرنا ناجائز وحرام اور اللہ عَزَّوَجَلَّ غضب کا سبب ہے اور مشرکین سے دوستی کرنا علامتِ نفاق ہے۔
(6)اعلانیہ گناہ کرنا گناہوں کو عام کرنے اور دوسروں کوگناہوں پر اُبھار نے کا سبب ہے۔
(7)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر بغض رکھنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ نہ کلام کیا جائے ، نہ کھایاجائے ، نہ پیاجائے اور نہ ہی ان کی صحبت اختیار کی جائے۔

(8)مسلمان جب تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے ، عذاب الٰہی سے امان میں رہیں گے اور جب اسے ترک کردیں گے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجائیں گے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں دیگر تمام گناہوں سے خود بھی بچنےا ور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 196