- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- حدیث نمبر 188
حدیث مبارکہ
عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ ہِنْدٍ بِنْتِ اَبِیْ اُمَیَّۃ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ : اِنَّہُ یُسْتَعْمَلُ عَلَیْکُمْ اُمَرَاءُ فَتَعْرِفُوْنَ وتُنْکِرُوْنَ ، فَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ بَرِءَ ، وَمَنْ اَنکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ !اَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ : لَا مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلاۃَ. ( )
عن ام المؤمنین ام سلمۃ ہند بنت ابی امیۃ حذیفۃ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال : انہ یستعمل علیکم امراء فتعرفون وتنکرون ، فمن کرہ فقد برء ، ومن انکر فقد سلم ولکن من رضی وتابع قالوا : یا رسول اللہ !الا نقاتلہم؟ قال : لا ما اقاموا فیکم الصلاۃ. ( )
حدیث ترجمہ
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عنقریب تم پر ایسے حاکم بنائے جائیں گے کہ تم اُن کے کچھ اَعمال کو (شریعت کےموافق ہونے کی وجہ سے) اچھا سمجھو گے اورکچھ (خلاف شرع) اُمور کا انکار کرو گے ، تو جس نے (اُن کے برے کاموں سے) نفرت کا اظہارکیا وہ بری الذمہ ہو گیا اور جس نےانکار کیا وہ سلامت رہا مگر جو راضی ہوا اور اُن کی اتباع کی (وہ ہلاک ہوگیا)۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم اُن سے جنگ نہ کریں؟‘‘ فرمایا : ’’نہیں !جب تک وہ تم میں نماز ادا کرتے رہیں۔ ‘‘
شرح حدیث
تین طرح کے لوگوں کا بیان:اِس باب کی ابتدائی احادیث میں بھی بُرائی کو روکنے سے متعلق تین طرح کے لوگوں کا بیان ہوا : (1) برائی کو ہاتھ سے روکنے والے (2)برائی کو زبان سے روکنے والے اور(3) برائی کو دل میں برا جاننے والے۔ اور اس حدیث مبارکہ میں بھی تین قسم کے افراد کا بیان ہے : (1) برے کاموں سے نفرت کا اظہار کرنے والے(2) برے کاموں کا انکار کرنے والے اور(3) برے کاموں پر راضی رہنے والے۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا علم غیب:اس حدیث پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آنے والے زمانے کے متعلق غیب کی خبر ارشاد فرمائی جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ربّ کریم کی طرف سے عطا کردہ علم غیب کا واضح ثبوت ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عنقریب تم پر ایسے حاکم
بنائے جائیں گے جن کے کچھ اَعمال خلاف شرع ہوں گے۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمان غیب کی خبروں سے متعلق ہے۔ ‘‘( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نےاس حدیث پاک کے تحت شرح صحیح مسلم میں ، عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے دلیل الفالحین میں اور اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نےبھی یہی فرمایا ہے۔ ( )حکام کے مختلف اَعمال:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی میں غیب کی خبرہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُن بادشاہوں اور حکام کے اَعمال مخلوط (یعنی ملے جلے) ہوں گے ، کچھ اچھے ، کچھ بُرے ، کہ نماز بھی پڑھیں گے ، داڑھی بھی منڈائیں گے ، اِنصاف بھی کریں گے ، شراب بھی پئیں گے۔ ‘‘( )گناہ وسزاسے بَری ہونے کا طریقہ:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کامعنیٰ یہ ہے کہ جس نے محض اپنے دل میں حاکموں کے بُرے کام کو ناپسند کیا ، جبکہ وہ ہاتھ یا زبان سے اس عمل بدکو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ اس برائی پرملنے والےگناہ اورسزا سےبَری ہوگیا۔ ‘‘مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ’’جس نے ان کے برے کاموں کوپہچان لیاوہ بَری ہوگیا۔ ‘‘علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی اس کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جس نے بغیر کسی شک وشبہ کے حکام کے کسی فعل کابُراہوناجان لیاتو اس کے
لیے گناہ اور سزاسے بَری ہونے کا ایک طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ یا اپنی زبان سے اس برائی کو بدل دے اور اگر وہ اس گناہ کو روکنے سے عاجز ہے تو اسے چاہیے کہ اس فعل کو دل میں برا جانے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’انکار سے مراد زبان سے انکار کردینا ہے اور بَری ہونے سے مراد نفاق اور مداہنت یعنی پِلپلا پَن ہے ، کَرِہَ سے مراد دل سے ناپسندیدگی ہے ، سلامتی سے مراد گناہ اور وبالِ فسق سے محفوظ رہنا ہے۔ یعنی ایسے بادشاہوں کے بُرے اعمال کو زبان سے برا کہہ دینے والا پختہ مسلمان ہے اور اُن کے اَعمال کو صرف دِل سے بُرا سمجھنے والا ، زبان سے خاموش رہنے والا پہلے کی طرح پختہ تو نہ ہوگا مگر گناہ سے وہ بھی بچ جائےگا۔‘‘( )گناہ کو روکنا، حق بات کہنا لازم ہے:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جس نے اِنکار کیا وہ سلامت رہا ۔ ‘‘یعنی گناہ پر اقرارکرنے کی بناپر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے جوعذاب اسے ملنے والاتھا ، وہ اس سےمحفوظ ہوگیااوراس گناہ کودل میں ناپسندکرنے اور اس کی پیروی نہ کرنے کےسبب گناہ سے بری الذمہ ہوگیا۔ نیز اس حدیث پاک میں اس بات پردلیل ہے کہ گناہ کو روکنااورحق بات کہنالازم ہے۔ ‘‘( )گناہ میں اعانت کرنا گناہ ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جو شخص اُن فاسق حکام کے بُرے کاموں سے دل سے راضی ہوا اور عمل میں اُن کے ساتھ شریک ہوگیا کہ وہ بھی اُن کے سے کام کرنے لگا تو وہ بھی گناہ فسق و فجوروبال میں اُن کے ساتھ شریک ہوگیا۔ ‘‘( )
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’جو شخص حکام کےگناہوں پر رضامند ہواور اپنے قول ، فعل یا پیروی کے ساتھ ان کے بُرے افعال میں ان کی اعانت کرے یا وہ اس برائی کو روکنے پر قدرت ہونے کے باوجوداسے نہ روکے تو وہ بھی انہیں کی طرح ہے۔ ‘‘( )نماز کفر و اسلام میں فارق ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے قول (کیا ہم ان سے جہاد نہ کریں؟) کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی ان بادشاہوں حاکموں کو ہاتھ سے اور بذریعہ قوت و طاقت گناہوں سے نہ ردکریں جو کہ تبلیغ کی اعلی قسم ہے۔ (توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : نہیں جب تک وہ تم میں نماز ادا کرتے رہیں) نمازی رہنے سے مراد ہے مسلمان رہنا کیونکہ نماز ہی کفرو اسلام میں فارق(یعنی فرق کرنے والی)ہے۔ لہذا یہ مطلب نہیں کہ بے نمازی بادشاہ و حکام کی بغاوت درست ہے ، دوسرے گناہوں کی طرح ترک نماز بھی ایک گناہ ہے۔ قرآن کریم دوزخی کفار کا ایک قول نقل فرماتا ہے جو وہ فرشتوں سے کہیں گے : (لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ(۴۳)) (پ۲۹ ، المدثر : ۴۳) “ ہم نمازیوں میں سے نہ تھے “ یعنی مسلمان نہ تھے۔ خیال رہےکہ سلطان کی بغاوت بڑے فتنوں ، خون ریزیوں ، ملک کی تباہیوں کا باعث ہے اس لیے بڑے اہتمام کے ساتھ اس سے روکا گیا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’تبلیغ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو غیب کی خبر دی تھی وہ بالکل سچ اور حق واقع ہوئی۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جملہ فضائل سے نوازا ہے ، یہ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزہ ہے کہ آپ غیب کی خبریں ارشاد فرماتے ہیں۔
(3) گناہ روکنے کی استطاعت نہ ہوتے ہوئے اسے دل میں براجان کر خاموش رہنے والا گناہگار نہیں۔
(4) نماز کفراور اسلام کے درمیان فرق کرنے والی ہے ، لہذا جب تک حکام کفر اختیار نہ کریں ان کے خلاف خروج یا بغاوت جائز نہیں۔
(5) اگر کوئی شخص حکام کے بُرے اور خلافِ شرع اَفعال کو روکنے کی استطاعت رکھتا ہو مگر پھر بھی نہ روکے تو وہ بھی ان کے گناہ میں برابر کا شریک ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں پر رضامند ہونے اور کسی بھی طرح اُن کی حمایت کرنے سے محفوظ فرمائے ، اگر برائی کو روکنے کی استطاعت رکھتے ہوں تو اسے روکنے نہیں تو کم ازکم دل میں برا جاننے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 188