امربالمعروف ونہی عن المنکر

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرتِ سَیِّدُناابوسعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ ’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھےتو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتاتوزبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل ہی میں بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے۔ ‘‘

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ رَاَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 184 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اس کی اُمّت میں مبعوث فرمایا ، اس کے اس اُمّت میں سےایسے حواری(یعنی مددگار) اور رفیق ہوئے ، جواس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے طریقے پرعمل کرتے اور اس کے حکم کی اِتباع کرتے۔ پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئے جوایسی بات کہتے جس پر خودعمل نہ کرتے اور ایسے کام کرتے جن کاانہیں حکم نہیں دیاگیا۔ پس جس شخص نےان کے ساتھ ہاتھ سے جہادکیا وہ مؤمن ہے ، جس نے اُن کے ساتھ زبان سے جہادکیا وہ بھی مؤمن ہے اور جس نے اُن کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ بھی مؤمن ہے۔ اوراس سے نیچے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ ‘‘

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّہَا تَخْلُفُ مِنْ

بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِیَدِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِلِسَانِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِقَلْبِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَیْسَ وَرَاء َ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 185 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُناابو ولید عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ ہم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےخوشی ، ناخوشی ، تنگی ، خوشحالی اور ہم پر (دوسروں کو) ترجیح دئیے جانے کی حالت میں(سلطان کی)بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اقتدار کے اہل لوگوں سے جھگڑا نہیں کریں گے۔ ‘‘ اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہاں مگر اس صورت میں کہ تم ان میں ایسا واضح کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے واضح دلیل ہو۔ ‘‘(تو انکی مخالفت کرو) ’’اور ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ الْوَلِیْدِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال : بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلیَ السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ وَعَلَی اَثَرَ ۃٍ عَلَیْنَا وَعَلَی اَنْ لَا نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَہْلَہُ اِلَّا اَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَـوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ تَعَالٰی فِيْهِ بُرْهَانٌ وَعَلَی اَنْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِـمٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 186 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے تقسیم کر لیے ، بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا توجو لوگ نچلے حصے میں تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا ۔ نچلے حصے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو) اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گےاور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ ‘‘

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْقَائِمِ فِی حُدُوْدِ اللَّہِ ، وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلَی سَفِیْنَۃٍ ، فَصَارَبَعْضُہُمْ اَعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ اَسْفَلَہَا ، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِی اَسْفَلِہَا اِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاء ِ مَرُّوْا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ ، فَقَالُوْا : لَوْ اَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ، فَاِنْ تَرُکُوْہُمْ وَمَا اَرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعًا ، وَاِنْ اَخَذُوْا عَلَی اَیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 187 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عنقریب تم پر ایسے حاکم بنائے جائیں گے کہ تم اُن کے کچھ اَعمال کو (شریعت کےموافق ہونے کی وجہ سے) اچھا سمجھو گے اورکچھ (خلاف شرع) اُمور کا انکار کرو گے ، تو جس نے (اُن کے برے کاموں سے) نفرت کا اظہارکیا وہ بری الذمہ ہو گیا اور جس نےانکار کیا وہ سلامت رہا مگر جو راضی ہوا اور اُن کی اتباع کی (وہ ہلاک ہوگیا)۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم اُن سے جنگ نہ کریں؟‘‘ فرمایا : ’’نہیں !جب تک وہ تم میں نماز ادا کرتے رہیں۔ ‘‘

عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ ہِنْدٍ بِنْتِ اَبِیْ اُمَیَّۃ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ : اِنَّہُ یُسْتَعْمَلُ عَلَیْکُمْ اُمَرَاءُ فَتَعْرِفُوْنَ وتُنْکِرُوْنَ ، فَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ بَرِءَ ، وَمَنْ اَنکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ !اَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ : لَا مَا اَقَامُوْا فِیْکُمُ الصَّلاۃَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 188 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ حَکَمْ زینب بنت جَحَشْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دن گھبراہٹ کی حالت میں اُن کے ہاں تشریف لائےاورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرما رہے تھے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، عرب کے لیے اُس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے۔ ‘‘اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنایا۔ حضرتِ سَیِّدَتُنازینبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں نے عرض کیا : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے ؟حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہاں جب خبث (یعنی فسق وفجور اور کفر وشرک)کی کثرت ہو جائے گی۔ ‘‘

عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ الْحَکَم زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیََّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَزِعاً یَقُوْلُ : لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ مِثْلَ ہٰذِہِ وَحَلَّقَ بِاُصْبُعَیْہِ الْاِبْہَامِ وَالَّتِیْ تَلِیْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَہْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ : نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 189 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !بعض اوقات ہمارے لیے ان مجالس میں بیٹھناضروری ہوتا ہے ، ہم وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے ہیں۔ ‘‘رسولِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اگر تمہیں وہاں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کاحق ادا کرو۔ ‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! راستے کا حق کیا ہے؟ ‘‘فرمایا : ’’نگاہیں نیچی رکھنا ، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِ یَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِیْ الطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْہَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَاذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہُ قَالُوْا : وَمَا حَقُّ الطَّریْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الاَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہیُ عَنِ الْمُنْکَرِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 190 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور فرمایا : ’’تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ لینے کا قصد کرتا ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس سے (کوئی دوسرا) فائدہ حاصل کرلو۔ لیکن اس نے کہا : ’’نہیں ، خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اُٹھاؤں گا کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پھینکاہے۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ فِیْ یَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَہُ فَطَرَحَہُ وَقَالَ : یَعْمِدُ اَحَدُکُمْ اِلٰی جَمْرَۃٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُہَا فِیْ یَدِہِ فقِیْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَہَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذْ خَاتَمَکَ انْتَفِعْ بِہ قَالَ : لَا وَاللّٰہِ لَا اٰخُذُہُ اَبَدًا وَقَدْ طَرَحَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 191 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عُبَیْدُاللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے لڑکے! میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سناہے کہ : بدترین حاکم وہ ہیں جو ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لہذا تو اس بات سے بچنا کہ تیرا شمار ان بدترین حاکموں میں ہو۔ ‘‘ابنِ زیاد نے( گستاخانہ لہجے میں)کہا : ’’بیٹھ جاؤ !تم تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں بھوسے کی طرح ہو۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’کیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب میں بھی بھوسہ ہے؟ بیشک بھوسہ تو ان کے بعد یا ان کے غیر میں ہوگا۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ : اَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ فَقَالَ : اَیْ بُنَیَّ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ شَرَّ الرِعَاء ِ الحُطَمَۃُ فَاِیَّاکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنْہُمْ ، فَقَالَ لَہُ : اِجْلِسْ فَاِنَّمَا اَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ نُخَالَۃٌ؟ اِنَّمَا کَانَتِ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ وَفِیْ غَیْرِہِمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 192 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اُس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اوربُرائی سے منع کرتے رہنا ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے ، پھر تم اُس کی بارگاہ میں دُعا کرو گے ، لیکن تمہاری دُعا قبول نہیں کی جائے گی۔ ‘‘

عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِِ المُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا مِنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہُ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَکُمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 193 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 194 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ سَیِّدُناابو عبداللہ طارق بن شہاب بَجَلی اَحْمَسِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس وقت پوچھا کہ جب آپ نے اپنا پاؤں مبارک رکاب میں رکھ دیا تھا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون سا جہاد افضل ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا۔‘‘

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ البَجَلِیِّ الْاَحْمَسِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ

عَلَیْہِ وَسَلَّم وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَہُ فِیْ الْغَرْزِ : اَیُّ الْجِہادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ : کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 195 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

: حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں داخل ہوئی وہ یہ تھی کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور تو جو بُرے کام کرتا ہے اُسے چھوڑ دے

کیونکہ یہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔ پھر دوسرے دن اسے اسی حالت میں پاتا تو اسے منع نہ کرتا کیونکہ وہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے میں شریک ہو جاتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل آپس میں ایک دوسرے کے موافق کردیے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ(۸۰) وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۱)(پ۶ ، المائدۃ : ۷۸تا۸۱)
ترجمۂ کنزالایمان : لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبان پر یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا۔ جوبُری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی بُرے کام کرتے تھے۔ ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔ کیا ہی بُری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گےاور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جوان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر اُن میں تو بہتیرے فاسق ہیں۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم! تم ضرور بہ ضرور نیکی کا حکم دوگے اور برائی سے منع کروگے اور ظالم کا ہاتھ پکڑوگے اور اسے حق کی طرف مائل کروگے اور اسے حق پر ہی روکے رکھو گے ، ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سب کے دل ایک دوسرے کے موافق کردے گا اور پھر تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی۔ ‘‘
یہ ابو داؤد کے الفاظ ہیں جبکہ ترمذی کے الفاظ یہ ہیں : ’’جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے پھر ان کے علماء ان کی مجالس میں شامل ہوئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے لگے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل ایک جیسے کردیے اور ان کی نافرمانیوں اور حد سے تجاوز کرنے

کے سبب حضرت سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھ گئے حالانکہ پہلے آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جب تک تم انہیں حق کی طرف نہ پھیرو چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ ‘‘

عَنِ ابْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اَوَّلَ مَادَخَلَ النَّقْصُ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنَّہُ کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُوْلُ : یَا ہَذَا! اِتَّقِ اللّٰہَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَاِ نَّہُ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ وَہُوَ عَلٰی حَالِہِ فَلا یَمْنَعُہُ ذلِکَ اَنْ یَکُوْنَ اَکِیْلَہُ وَشَرِیْبَہُ وَقَعِیْدَہُ فَلَمَّا فَعَلُوْا ذٰلِکَ ضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ : )لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹) تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ( اِلٰی قَوْلِہٖ)فٰسِقُوْنَ (ثُمَّ قَال : کَلَّا وَاللّٰہِ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَتَنْہَوُنَّ عَنِِ الْمُنْکَرِ وَلَتَاْخُذُنَّ عَلٰی یَدِ الظَّالِم وَلَتَاْطِرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا اَوْ لَیَضْرِبَنَّ اللّٰہُ بِقُلُوْبِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ثُمَّ لَیَلْعَنَنَّکُمْ کَمَا لَعَنَہُمْ. ( )ہَذَا لَفْظُ اَبِیْ دَاوُدَ
وَلَفْظُ التِّرْمِذِیِّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ نَہَتْہُمْ عُلَمَاؤُہُمْ فَلَمْ یَنْتَہُوْا ، فَجَالَسُوْہُمْ فِیْ مَجَالِسِہِمْ وَ وَاکَلُوْہُمْ وَشَارَبُوْہُمْ فَضَربَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِہِمْ بِبعْضٍ وَلَعَنَہُمْ عَلٰی لِسانِ دَاوُدَ وَعِیْسَی ابْنِِ مَرْیَمَ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مُتَّکِاً فَقَالَ : لَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ حَتّٰی تَاْطِرُوْہُمْ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 196 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرمایا : ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو : )یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-( (پ۷ ، المائدۃ : ۱۰۵) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔ “ اور میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا) دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو قریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سب کو عذاب میں مبتلا کردے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَااَیُّہَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تَقْرَؤُوْنَ ہٰذِہِ الٰایَۃِ ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- ( وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ یاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہ ِاَوْشَکَ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ مِّنْہُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 197 ، امربالمعروف ونہی عن المنکر