Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 185

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّہَا تَخْلُفُ مِنْ

بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِیَدِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِلِسَانِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِقَلْبِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَیْسَ وَرَاء َ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ. ( )

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ما من نبی بعثہ اللہ فی امۃ قبلی الا کان لہ من امتہ حواریون واصحاب یاخذون بسنتہ ویقتدون بامرہ ثم انہا تخلف من

بعدہم خلوف یقولون ما لا یفعلون ویفعلون ما لا یؤمرون فمن جاہدہم بیدہ فہو مؤمن ومن جاہدہم بلسانہ فہو مؤمن ومن جاہدہم بقلبہ فہو مؤمن ولیس وراء ذلک من الایمان حبۃ خردل. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اس کی اُمّت میں مبعوث فرمایا ، اس کے اس اُمّت میں سےایسے حواری(یعنی مددگار) اور رفیق ہوئے ، جواس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے طریقے پرعمل کرتے اور اس کے حکم کی اِتباع کرتے۔ پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئے جوایسی بات کہتے جس پر خودعمل نہ کرتے اور ایسے کام کرتے جن کاانہیں حکم نہیں دیاگیا۔ پس جس شخص نےان کے ساتھ ہاتھ سے جہادکیا وہ مؤمن ہے ، جس نے اُن کے ساتھ زبان سے جہادکیا وہ بھی مؤمن ہے اور جس نے اُن کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ بھی مؤمن ہے۔ اوراس سے نیچے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ ‘‘

شرح حدیث

انبیائے کرام اور اُن کے حواری:(1)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ یہاں شریعت اورتبلیغ والے نبی مراد ہیں جن کی باقاعدہ اُمّت تھیں اور یہ اصحاب حواریوں کے علاوہ جماعت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت پیغمبرکو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عام صحابہ بھی بخشے اور خاص صاحب اسراربھی۔ ایسے ہی ہمارے حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے صحابہ ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ، جن میں بعض خاص صاحب اسرار ہیں ، جیسے خلفائے راشدین وغیرہم۔ ‘‘( )
(2) عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : “ حواری اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے طریقے پر عمل کرتےیعنی اس کی دی ہوئی ہدایت وسیرت پر چلتے ہیں ، اس کے حکم کی اِتباع کرتے یعنی جن باتوں کا وہ حکم دیتا ہےاس پر عمل کرتے اور جن سے منع کرتا ہے ان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘( )

(3) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ’’پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان صحابہ کے بعد بدعقیدہ اور بدعمل لوگ پیدا ہوتے تھے ، ایسے ہی میرے صحابہ کے بعد بھی ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ کے فضل سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ بدعملی اور بدعقیدگی سے پاک رہے۔ ‘‘( )
امربالمعروف ونہی عن المنکر کے تین طریقے:اس مذکورہ حدیث پاک میں دراصل امر بالمعروف یعنی نیکی کی دعوت دینےا ور نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کے تین طریقوں کو بیان فرمایا اسے جہاد سے موسوم فرمایا گیا ہے ، نیز اس کے عامل کو مؤمن فرمایا گیا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اور ان کے ظلم و فساد کو دَرہم برہم کردیتا اور بدل کر رکھ دیتا ہے وہ کامل مؤمن ہے اور جو اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرتا ہے کہ انہیں منع کرتا ، بُرابھلاکہتا اور زبان سے انہیں نصیحت کرتاہےتو وہ بھی مؤمن ہے ، ایمانِ کامل سے اسے بھی حصہ ملتا ہے اور جو شخص اپنے دل سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے کہ دل سے انہیں بُراجانتا ہے اور ان کے افعال و حالات کے مشاہدہ سے غم و الم اور دل میں اضطراب و بے چینی محسوس کرتا ہے وہ بھی مؤمن ہے ، اگرچہ بالکل نچلے درجے کا مؤمن ہے اور اس نچلے درجے کے بعد ایمان کی مقدار رائی کا ایک دانہ بھی نہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ (دل میں برا جاننا)ایمان کے مراتب میں سب سے نچلا درجہ ہے۔ ‘‘( )تین جماعتیں تین طرح اصلاح کریں:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بدعقیدہ اور بدعمل لوگوں کی اصلاح تین جماعتیں تین طرح کریں : حکام طاقت سے کہ مجرموں کو سزائیں

دیں۔ اہل علم زبان سے کہ انہیں وعظ کریں۔ عوام مؤمن دل سے کہ ان سے نفرت کریں اور دور رہیں۔ تا قیامت یہ احکام جاری رہیں۔ جو انہیں دل سے برا بھی نہ جانے ان کے عقیدوں سے راضی ہو وہ انہیں کی طرح بے ایمان ہے۔ اسی لیے علماء پر فرض ہے کہ اپنی زبان اورقلم سے مسلمانوں کو بےدینوں سے نفرت دلائیں ، ان کے عقائد بتائیں اور تردید کریں۔ ‘‘( )
ایمان کے تین مراتب:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یہاں ایمان کے تین مرتبے بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا ایمان کے کامل ہونےپر اور آخری ایمان کے ناقص (کم) ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ایمان کے یہ ہی تین درجے ہیں ، اگر کوئی شخص ان تین درجوں میں سے کسی میں بھی نہ ہو یعنی وہ ہاتھ یا زبان سے برائی کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتااور اس برائی کو دل میں بھی برا نہیں جانتا تووہ ایمان کے دائرے سے نکل گیا اور ان لوگوں میں داخل ہوگیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتے ہیں اور اُس کے اَحکامات کوباطل اِعتقاد کرتے ہیں۔ ‘‘( ) مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ ضعیف ایمان کو رائی کے دانے سے مثال دینا بیانِ کیفیت کے لیے ہے ، نہ کہ بیان مقدار کے لیے ، کیونکہ ایمان باعتبار مقدار کم زیادہ نہیں ہوتا ، ہر مؤمن پورا مسلمان ہے آدھا اور چوتھائی مسلمان نہیں۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’حواری‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کے قوی ہونے کی دلیل ہے اور برائی دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا اور فقط دل میں برا جاننا ایمان کے کمزور ہو نے کی علامت ہے۔
(2)ہر انسان کے لیے اس کی طاقت کے مطابق بُرائی کو دور کرنا ضروری ہے اور ہر شخص سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
(3)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بدعقیدگی اور بدعملی سے پاک وصاف ہیں۔
(4)نیک لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیاگیا ہے۔
(5)جیسے جیسے زمانہ گزرتا ہے نئے آنے والے لوگ گزشتہ لوگوں سے نیک اعمال میں پیچھے اور برائیوں میں آگے ہوتے جاتے ہیں ، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح سے برائیوں کےخلاف جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کی اتباع کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 185