- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- حدیث نمبر 185
امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 185
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّہَا تَخْلُفُ مِنْ
بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِیَدِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِلِسَانِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاہَدَہُمْ بِقَلْبِہِ فَہُوَ مُؤْمِنٌ وَلَیْسَ وَرَاء َ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ. ( )
عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ما من نبی بعثہ اللہ فی امۃ قبلی الا کان لہ من امتہ حواریون واصحاب یاخذون بسنتہ ویقتدون بامرہ ثم انہا تخلف من
بعدہم خلوف یقولون ما لا یفعلون ویفعلون ما لا یؤمرون فمن جاہدہم بیدہ فہو مؤمن ومن جاہدہم بلسانہ فہو مؤمن ومن جاہدہم بقلبہ فہو مؤمن ولیس وراء ذلک من الایمان حبۃ خردل. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اس کی اُمّت میں مبعوث فرمایا ، اس کے اس اُمّت میں سےایسے حواری(یعنی مددگار) اور رفیق ہوئے ، جواس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے طریقے پرعمل کرتے اور اس کے حکم کی اِتباع کرتے۔ پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئے جوایسی بات کہتے جس پر خودعمل نہ کرتے اور ایسے کام کرتے جن کاانہیں حکم نہیں دیاگیا۔ پس جس شخص نےان کے ساتھ ہاتھ سے جہادکیا وہ مؤمن ہے ، جس نے اُن کے ساتھ زبان سے جہادکیا وہ بھی مؤمن ہے اور جس نے اُن کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ بھی مؤمن ہے۔ اوراس سے نیچے رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ ‘‘
شرح حدیث
انبیائے کرام اور اُن کے حواری:(1)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ یہاں شریعت اورتبلیغ والے نبی مراد ہیں جن کی باقاعدہ اُمّت تھیں اور یہ اصحاب حواریوں کے علاوہ جماعت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت پیغمبرکو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عام صحابہ بھی بخشے اور خاص صاحب اسراربھی۔ ایسے ہی ہمارے حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے صحابہ ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ، جن میں بعض خاص صاحب اسرار ہیں ، جیسے خلفائے راشدین وغیرہم۔ ‘‘( )
(2) عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : “ حواری اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَامکے طریقے پر عمل کرتےیعنی اس کی دی ہوئی ہدایت وسیرت پر چلتے ہیں ، اس کے حکم کی اِتباع کرتے یعنی جن باتوں کا وہ حکم دیتا ہےاس پر عمل کرتے اور جن سے منع کرتا ہے ان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ ‘‘( )
(3) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ’’پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان صحابہ کے بعد بدعقیدہ اور بدعمل لوگ پیدا ہوتے تھے ، ایسے ہی میرے صحابہ کے بعد بھی ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ کے فضل سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ بدعملی اور بدعقیدگی سے پاک رہے۔ ‘‘( )امربالمعروف ونہی عن المنکر کے تین طریقے:اس مذکورہ حدیث پاک میں دراصل امر بالمعروف یعنی نیکی کی دعوت دینےا ور نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کے تین طریقوں کو بیان فرمایا اسے جہاد سے موسوم فرمایا گیا ہے ، نیز اس کے عامل کو مؤمن فرمایا گیا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اور ان کے ظلم و فساد کو دَرہم برہم کردیتا اور بدل کر رکھ دیتا ہے وہ کامل مؤمن ہے اور جو اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرتا ہے کہ انہیں منع کرتا ، بُرابھلاکہتا اور زبان سے انہیں نصیحت کرتاہےتو وہ بھی مؤمن ہے ، ایمانِ کامل سے اسے بھی حصہ ملتا ہے اور جو شخص اپنے دل سے ان کے ساتھ جہاد کرتا ہے کہ دل سے انہیں بُراجانتا ہے اور ان کے افعال و حالات کے مشاہدہ سے غم و الم اور دل میں اضطراب و بے چینی محسوس کرتا ہے وہ بھی مؤمن ہے ، اگرچہ بالکل نچلے درجے کا مؤمن ہے اور اس نچلے درجے کے بعد ایمان کی مقدار رائی کا ایک دانہ بھی نہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ (دل میں برا جاننا)ایمان کے مراتب میں سب سے نچلا درجہ ہے۔ ‘‘( )تین جماعتیں تین طرح اصلاح کریں:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بدعقیدہ اور بدعمل لوگوں کی اصلاح تین جماعتیں تین طرح کریں : حکام طاقت سے کہ مجرموں کو سزائیں
دیں۔ اہل علم زبان سے کہ انہیں وعظ کریں۔ عوام مؤمن دل سے کہ ان سے نفرت کریں اور دور رہیں۔ تا قیامت یہ احکام جاری رہیں۔ جو انہیں دل سے برا بھی نہ جانے ان کے عقیدوں سے راضی ہو وہ انہیں کی طرح بے ایمان ہے۔ اسی لیے علماء پر فرض ہے کہ اپنی زبان اورقلم سے مسلمانوں کو بےدینوں سے نفرت دلائیں ، ان کے عقائد بتائیں اور تردید کریں۔ ‘‘( )ایمان کے تین مراتب:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یہاں ایمان کے تین مرتبے بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا ایمان کے کامل ہونےپر اور آخری ایمان کے ناقص (کم) ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ایمان کے یہ ہی تین درجے ہیں ، اگر کوئی شخص ان تین درجوں میں سے کسی میں بھی نہ ہو یعنی وہ ہاتھ یا زبان سے برائی کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتااور اس برائی کو دل میں بھی برا نہیں جانتا تووہ ایمان کے دائرے سے نکل گیا اور ان لوگوں میں داخل ہوگیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال جانتے ہیں اور اُس کے اَحکامات کوباطل اِعتقاد کرتے ہیں۔ ‘‘( ) مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ ضعیف ایمان کو رائی کے دانے سے مثال دینا بیانِ کیفیت کے لیے ہے ، نہ کہ بیان مقدار کے لیے ، کیونکہ ایمان باعتبار مقدار کم زیادہ نہیں ہوتا ، ہر مؤمن پورا مسلمان ہے آدھا اور چوتھائی مسلمان نہیں۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’حواری‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کے قوی ہونے کی دلیل ہے اور برائی دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا اور فقط دل میں برا جاننا ایمان کے کمزور ہو نے کی علامت ہے۔
(2)ہر انسان کے لیے اس کی طاقت کے مطابق بُرائی کو دور کرنا ضروری ہے اور ہر شخص سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔
(3)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بدعقیدگی اور بدعملی سے پاک وصاف ہیں۔
(4)نیک لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیاگیا ہے۔
(5)جیسے جیسے زمانہ گزرتا ہے نئے آنے والے لوگ گزشتہ لوگوں سے نیک اعمال میں پیچھے اور برائیوں میں آگے ہوتے جاتے ہیں ، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح سے برائیوں کےخلاف جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کی اتباع کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 185