Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 190

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِ یَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ فِیْ الطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْہَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَاذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہُ قَالُوْا : وَمَا حَقُّ الطَّریْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الاَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہیُ عَنِ الْمُنْکَرِ. ( )

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ا یاکم والجلوس فی الطرقات. فقالوا : یا رسول اللہ! ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فیہا. فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : فاذا ابیتم الا المجلس فاعطوا الطریق حقہ قالوا : وما حق الطریق یا رسول اللہ؟ قال : غض البصر وکف الاذی ورد السلام والامر بالمعروف والنہی عن المنکر. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !بعض اوقات ہمارے لیے ان مجالس میں بیٹھناضروری ہوتا ہے ، ہم وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے ہیں۔ ‘‘رسولِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اگر تمہیں وہاں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کاحق ادا کرو۔ ‘‘عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! راستے کا حق کیا ہے؟ ‘‘فرمایا : ’’نگاہیں نیچی رکھنا ، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ ‘‘

شرح حدیث

راستے میں بیٹھنے کی ممانعت استحبابی ہے:حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے راستوں میں نہ بیٹھنے کا جو حکم دیا وہ بطور وجوب نہ تھا بلکہ استحبابی حکم تھا۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں یہ دلیل ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو یہ حکم دینا وجوب کے لیے نہ تھا بلکہ بطریق ترغیب اور اولیٰ چیز کو اختیار کرنے پر ابھار نے کے لیے تھا۔ کیونکہ اگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس حکم کو واجب سمجھتے تو مزید وضاحت طلب نہ کرتے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو یہ امید ہو کہ ہے تو یہ واجب لیکن شاید اس میں تخفیف ہو جائے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس حکم کو منسوخ فرما دیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی حاجت آپ کی خدمت میں عرض کردی۔ ‘‘( )راستے میں بیٹھنے کی ممانعت کی حکمتیں:(1)راستوں میں باتیں کرنے کے لیے بیٹھنا مکروہ ہے۔ اس سے انسان فتنہ میں مبتلاہوتاہے کیونکہ راستے سے اجنبی عورتیں گزرتی ہیں تو کبھی انسان ان کی نسوانیت یا ان کے حسن وجمال سے مسحور ہوکر ان کو دیکھنے لگتاہے یاان کے متعلق غوروفکر کرتاہے اور انہیں دیکھ کر شہوت انگیزخیالات آتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے دروازے کے آگے بیٹھ گیا تو اسے آنے جانے میں دقت ہوگی۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر راستے میں بیٹھنے کی ممانعت آئی ہے۔ ‘‘( ) (2) راستے میں بیٹھنے سے راستہ تنگ ہوگا یا گزر نے والوں کو حقیر

جانے گا اور ان کی غیبت کرے گا یا ان سے بدگمانی رکھے گا۔ نیز ضروریات زندگی کے لیے جو عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں تو ایسے میں اگر مرد راستوں میں بیٹھے ہوں گے تو ان عورتوں کو دشواری ہوگی یا پھر وہ لوگوں کے ان حالات پر مطلع ہوگا جن پر اطلاع پانے کو وہ برا سمجھتے ہیں۔ ‘‘ ( )(3) راستوں پر بیٹھنا نظر اوپر اٹھانے کا ذریعہ ہے اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں کمی کاباعث ہے ۔ ( ) (4) چونکہ راستے سے عورتیں بچے گزرتے رہتے ہیں ، نیز وہاں سے لوگوں کے مال سواریاں گزرتی ہیں ، اس لیے وہاں بیٹھنا خطرناک بدنظری کا اندیشہ ہے۔ ( ) (5) راستوں میں دوست ، دشمن سبھی چلتے ہیں کسی معاملے پر اشتعال بھی ہوسکتا ہے اس لیے بیٹھنے سے منع فرمایا گیا۔ ( )
صحابہ کرام کی ضروریات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کی کہ ہم ضرورت کی بناپر راستوں میں بیٹھنے کے محتاج ہیں اور ہماری ضرورت یہ ہے کہ ہم وہا ں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں یعنی جب ہم لوگ راستے میں ملتے ہیں تو وہیں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دینی ودنیوی امور کے بارے میں باہم مشورہ اور مذاکرات کرتے ہیں ، اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تواس کے لیے علاج معالجہ تجویز کرتے ہیں ، اگر آپس میں کوئی رنجش وعنادہوتاہے تو صلح وصفائی کرتے ہیں اور اپنے معاملات کو طے کرنے کی تدبیر پر غورکرتے ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جب تم مجبوری کی بناپر اپنی ضروریات کے پیش نظر کامل طور پر ان مجالس کو ترک نہیں کرسکتےاور اس بات کا دعوی ٰکرتے ہوکہ ضرورت اس بات پر داعی ہے کہ تم راستے میں بیٹھوتوپھر تم پرلازم ہےکہ راستے کاحق بھی اداکرو۔ ‘‘( )
راستے میں بیٹھنے کے آداب:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینےراستے میں بیٹھنے کےیہ (14)حقوق و آداب بیان فرمائے ہیں : (1)سلام عام کرنا۔ (2)اچھے انداز میں گفتگو کرنا۔ (3)جو شخص چھینک کر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہُ کہنا۔ (4)سلام کرنا۔ (5)سلام کا جواب دینا۔ (6)سواری پر سامان لاد نے میں مدد کرنا۔ (7)مظلوم کی مدد کرنا۔ (8)راستہ بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا۔ (9)مصیبت زدہ کی مدد کرنا۔ (10)نیکی کاحکم دینا۔ (11)برائی سے منع کرنا۔ (12)راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ (13)نگاہیں نیچی (14)زیادہ سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنا۔ ( )
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے چند مزیدآداب بھی بیان فرمائے ہیں : (1)کمزور کی مدد کرے۔ (2)سوال کرنے والے کو کچھ نہ کچھ عطا کرے۔ (3)اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔ (4)شفقت اور نرمی کے ساتھ نیکی کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے پھر اگرکوئی گناہ پر اصرار کرے تو اسے ڈرائے اور اس پر سختی کرے۔ (5)بغیر ثبوت کے کسی چغل خورکی باتوں پر دھیان نہ دے۔ (6) کسی کی ٹوہ میں نہ پڑے اور (7) لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھے۔ ( )
حدیث پاک سے ماخوذ چند اہم مسائل:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے اور اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور اس کے احکام بالکل ظاہر ہیں۔ ( )حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل یہ ہیں : (1) ہر مومن مرد اور مومنہ عورت کی شرمگاہ دیکھنے اور تمام محرمات کو دیکھنے سے نظریں نیچی رکھنی چاہئیں اور ہر اس چیز کو دیکھنے سے احتراز کرنا چاہیے جس کو دیکھنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو۔ (2) گھروں میں رہنا مستحب ہے تاکہ آدمی ان چیزوں کو دیکھنے سے محفوظ رہے جن کو دیکھنا ممنوع ہے اور ان چیزوں کو

سننے سے بچارہے جن کا سننا مکروہ یا ممنوع ہے۔ ( ) (3) بازاروں ، گلیوں ، کو چوں ، دوکانوں کے تھڑوں پربیٹھنا مناسب نہیں ہے اور آج کل نوجوان لڑکے جس انداز سے ان مقامات پر مجلس جماتے ہیں اس کے ناجائزوحرام اور گناہ ہونے میں شک نہیں یعنی تاش ، شطرنج کھیلتے ہیں ، بدزبانی کرتے ہیں ، فضول و لغو امور میں منہمک ہوتے ہیں ، راہ چلتی مستورات پر آواز کستے اور انہیں تنگ کرتے ہیں ، کام کاج اور تعلیم سے جی چراکر فضول اور بیکار بیٹھے رہتے ہیں ، بعض اوباش نوجوانوں کے ساتھ مجلس کرتے ہیں اور برائیوں کے اختیار کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ، یہ کام خود بھی ناجائز ہیں اور اس مقصد سے مجلس جمانا بھی گناہ اور حرام ہے۔ اسی طرح بچے بلکہ بعض اوقات بڑے بھی سڑکوں ، گلیوں میں کرکٹ ، فٹبال وغیرہ کھیلتے ہیں جس سے ہمسایوں اور راہگیروں کو تکلیف ہوتی ہے یہ بھی ناجائز ہے۔ البتہ کسی جائز ضرورت کے لیے ان مقامات پر بیٹھنا پڑے تو پھر راستے کا حق بھی ادا کرنا چاہیے۔ ( )(4) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو بیٹھنے کے لیے وہ مجالس اختیار کرنی چاہئیں جہاں مکروہ اُمور نہ دیکھیں اوروہ باتیں نہ سننے پائیں جن کا شرع میں سنناحرام ہے۔ لہٰذا گھروں میں ریڈیو وغیرہ گانے سننے اور مکروہ ڈرامے سننے کے لیے رکھنا حرام ہے۔ ہاں اگر ریڈیو میں صرف نعت خوانی سننا اور ملکی اخبار پر اطلاع حاصل ہونا مطلوب ہو تو شرعی حدود کے تحت جائز ہوگا بشرطیکہ اُصولِ شرع کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ‘‘( ) (5)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ (حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرمایا : ’’اگر تمہیں راستے میں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کو اس کا حق ادا کرو۔ ‘‘)یعنی راستے میں بیٹھ کر وہ نیکیاں کرو جس کی برکت سے وہاں کے تمام گناہوں سے بچے رہو اور ثواب کمالو ۔ یہاں حق بمعنی استحقاق ہے کہ راستہ ان اعمال کا مستحق ہے۔ (صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم راستے کا حق کیا ہے؟‘‘ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ’’نگاہیں نیچی رکھنا ، راہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع

کرنا۔ ‘‘) یعنی راستوں پر بیٹھ کر یہ پانچ نیکیاں یا ان میں سے جس قدر بن پڑیں کیا کرو۔ نگاہیں نیچی رکھو تاکہ اجنبی عورتوں پر نہ پڑیں ، راستے سے کانٹا ، اینٹ ، پتھر الگ کردیا کرو تاکہ کسی راہ گیر کو نہ چبھے ، نہ ٹھوکر لگے۔ جو راستے سے گزرنے والا تمہیں سلام کرتا ہوا گزرے اس کا جواب دو ۔ اگر تم راستے میں کسی کو کوئی بُرا کام کرتے دیکھو تو اس سے روکو ، اُس کے عوض اسے اچھے کام کرنے کا مشورہ دو ، اس صورت میں تمہارا وہاں بیٹھنا بھی عبادت ہے ۔ سُبْحَانَ اللہ! کیمیا پیتل ، تانبے کو سونا کردیتی ہے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیم گناہوں کو ثواب بنادیتی ہے ۔ ‘‘( )
ترے کرم کا رسالت مآب کیا کہنا
ثواب ہوگئے سارے عقاب کیا کہنا
راستوں، گلی محلوں میں بیٹھنے سے گریز کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے والے کونہ صر ف دنیا کی برکتیں نصیب ہوں گی بلکہ وہ آخرت میں بھی سُرخرو ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتاچلاجارہاہے برائیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں ۔ رَذائل اَخلاق معاشرے کی اساس کو دیمک کی طرح چاٹتے چلے جارہے ہیں ۔ ایک طرف جھوٹ غیبت ، حسد ، کینہ ، بغض و عناد جیسے امراض پروان چڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب فحاشی و عریانی کا بازار گرم ہے ۔ رات گئے راستوں میں بیٹھے نوجوان ، گلی ، محلوں ا ور راہوں میں خواتین پر آوازیں کستے یہ غافل لوگ دنیا کی عارضی و فانی محبت میں مست ، سراسر خسارے کی جانب بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ایسے پر فتن حالات میں فٹ پاتھ ، بازاروں ، گلی ، کوچوں اور راستوں پر بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہاں جو شخص ان جگہوں پر بیٹھ کر ان کے حقوق ادا کرسکتا ہے تو اس کے لیے رخصت ہے۔ جیساکہ عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اہل علم اور اہل فضل کو راستوں اور بازاروں میں بیٹھنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ راستے کے

حقوق اد ا کر سکتے ہیں۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’مَسْجِدِ قُبَا ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)بُرائی کا خاتمہ کرنے کے لیے ان تمام چیزوں پر بھی پابندی عائد کرنی چاہیے جو اس برائی کا ذریعہ ہیں۔
(2)راستے میں مجلس لگانے کی شرائط بہت کڑی ہیں ان پر پورا اترنا آسان نہیں لہذا سرِراہ مجلس لگانے سے بچنا چاہیےالبتہ جو شخص راستے کے حقوق و آداب کا خیال رکھنے پر قادِر ہے اسے اجازت ہے۔
(3)راستوں ، بازاروں ، گلی ، کوچوں اور ہوٹلوں وغیرہ پر بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیےکہ ان جگہوں پر بیٹھنے سے بدنگاہی ، غفلت اور کئی طرح کے گناہوں میں ملوث ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
(4)راستے میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کے سلام کا جواب دینا راستے کا حق ہے لہٰذا ایسی صورت میں جب بھی کوئی سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب ضرور دیں۔
(5)راستے میں بیٹھا ہواشخص لوگوں کو نیکی دعو ت دے اور بُرائی سے منع کرےاورہر اس کام سے بچے جس کی وجہ سے گناہ میں پڑنے کا خدشہ ہو۔
(6)ہر اس مجلس سے بچنا چاہیے جس میں غیبت ، بدگمانی ، دِین سے دُوری اور غفلت میں پڑ نے کااندیشہ ہو۔
(7)راستے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگر راستے میں کوئی گندگی یا غلاظت پڑی ہوئی ہے تو اسے صاف کردیا جائے ، پتھر ، کانٹے ، شیشے کے ٹکڑے یا کوئی ایسی شے جو گزرنے والوں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے اسے بھی راستے سے دُور کردینا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بلا ضرورت وبلا حاجت گلی ، کوچوں اور شاہراؤں کی زینت بننے سے محفوظ فرمائے اور حاجت کے پیش نظر راستوں کے حقوق ادا کرنے ، نیکی کی دعوت عام کرنے اور بُرائیوں

سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 190