Main Icon

امربالمعروف ونہی عن المنکر - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 191

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ فِیْ یَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَہُ فَطَرَحَہُ وَقَالَ : یَعْمِدُ اَحَدُکُمْ اِلٰی جَمْرَۃٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُہَا فِیْ یَدِہِ فقِیْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَہَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذْ خَاتَمَکَ انْتَفِعْ بِہ قَالَ : لَا وَاللّٰہِ لَا اٰخُذُہُ اَبَدًا وَقَدْ طَرَحَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم. ( )

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رای خاتما من ذہب فی ید رجل فنزعہ فطرحہ وقال : یعمد احدکم الی جمرۃ من نار فیجعلہا فی یدہ فقیل للرجل بعدما ذہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : خذ خاتمک انتفع بہ قال : لا واللہ لا اخذہ ابدا وقد طرحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور فرمایا : ’’تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ لینے کا قصد کرتا ہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس سے (کوئی دوسرا) فائدہ حاصل کرلو۔ لیکن اس نے کہا : ’’نہیں ، خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اُٹھاؤں گا کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پھینکاہے۔ ‘‘

شرح حدیث

رسولُ اللہکی عملی تبلیغ:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سونے کی انگوٹھی کو اتار کر پھینک دینا آپ کی عملی تبلیغ کا ایک نمونہ ہے چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ ہے عملی تبلیغ کہ بُرائی کو بہ جبرروک دیا۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )فرماتے ہیں : جو کوئی بُرائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے ، نہ کرسکے تو زبان سے روکے ، یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے بُرا جانے۔ ‘‘( )
مَرد کے لیے سونا پہننا حرام ہے:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان : ’’تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں دوزخ کا انگارہ لینے کا قصد کرتا ہے۔ ‘‘ سونے کی انگوٹھی مرد پر حرام ہونے کی وجہ سے تھا۔ چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد میں اس بات کی صراحت ہے کہ سونے کی انگوٹھی پہننے سے جو منع کیا گیا ہے یہ حرام ہونے کے سبب ہے۔ ‘‘( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سونا پہننے پر جو وعید بیان فرمائی ہے ، اس سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ مرد کے لیے سونا پہننا گناہ کبیرہ ہے۔ ‘‘( )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مسلمان مرد کے لیے سونا پہننا گویا دوزخ کی چنگاری اپنے ہاتھ میں لینا ہے کیونکہ یہ اس کا سبب ہے۔ ‘‘( )مَرد کے لیے سونے کی انگوٹھی:صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : (1)’’مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے ، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے ، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔ (2)انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے ، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے ، مثلاً لوہا ، پیتل ، تانبا ، جست وغیرہا۔ (3)انگوٹھی اُنہی کے لیے مسنون ہے جن کو مہر کرنے کی حاجت ہوتی ہے ، جیسے سلطان و قاضی اور علما جو فتویٰ پر مہر کرتے ہیں ، ان کے سوا دوسروں کے لیے جن کو مہر کرنے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے۔ (4) مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر کی جانب رہے۔ (5) انگوٹھی وہی جائز ہے جو

مَردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو ، مرد کے لیے ناجائز ہے۔ اسی طرح مَردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں ، عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں۔ ‘‘( )
صحابہ کرام کا مشورہ اور صحابی کا جواب:صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو نصیحت کرنے کے بعد جب اللہ1∞کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس مجلس سے تشریف لے گئے تو اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی اٹھالو اور اسے پہننے کے بجائے دیگر جائز امور میں صرف کرلو۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی اسے فروخت کرکے اس کی قیمت سے فائدہ حاصل کرویا کسی کو تحفے میں دےدو یا پھر اسے دےدو جس کے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے یعنی کسی عورت کی ملک کردو۔ ‘‘( )
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مشورہ سن کر وہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بولے : ’’ نہیں خدا کی قسم! میں اسے کبھی نہ اٹھاؤں گا کیونکہاللہ
1∞کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پھینک دیا ہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ ہے مفتی عشق کا فتویٰ کہ اب میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا ، کوئی فقیر اسے اٹھا لے تاکہ یہ صدقہ میرے اس قصور کا کفارہ بن جائے جو میں نے پہلے بے خبری میں کیا کہ سونا پہنا ، اس میں مال کی بربادی نہیں بلکہ اپنا کفارہ اداکرنا ہے۔ ‘‘( )صحابی رسول کا عشق رسول:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس قول میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کی بجا آوری اور جن باتوں سے آپ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرنے میں انتہائی درجے کامبالغہ پایا جا رہا ہے۔ نیز اس شخص نے

تاویلات ضعیفہ کرکے اس انگوٹھی سے نفع حاصل کرنے کو اچھا گمان نہ کیا اور اس نے انگوٹھی فقراء اور دیگر لوگوں کے لیے مباح کرتے ہوئے وہیں چھوڑدی تاکہ ان میں سے جو چاہے اٹھا لے تو اس وقت لوگوں کے لیے وہ انگوٹھی اٹھانا اور اس میں تصرف کرنا جائز ہوگیااور اگر وہ شخص انگوٹھی خود اٹھالیتا تو اس کا یہ اٹھانابھی جائز اور اس میں بیع یا کسی اور طریقے سے تصرف کرنا بھی جائز تھا کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں مطلقاً تصرف کرنے سے منع نہیں فرمایا تھا بلکہ اس کو پہننے سے منع فرمایاتھا۔ پہننے کے علاوہ دیگر تصرفات کرنا ان کے لیے بالکل جائز تھے لیکن انہوں نے اسے اٹھانے سے پرہیز کیا اور اس انگوٹھی سے حاجت مند پر صدقہ کرنے کا قصد کرلیا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
امام’’حُسَین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ
مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی جو ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور ایک نگینہ والی ہو ، اس کے علاوہ ہر قسم کا زیور چاہے وہ سونا ہو یا چاندی یا اور کسی دھات کا حرام ہے۔
(2)مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے۔
(3)مرد سونا پہن نہیں سکتا البتہ سونے کی خریدو فروخت اور کاروبار کرنا مرد کے لیے جائز ہے۔
(4)مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے اور آپ کی پیروی کرنے میں بہت زیادہ شدت کرتے تھے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں برائیوں کے خلاف عملی طور پرتبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مرد حضرات کو سونا پہننے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 191