باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مکہ سے مدینہ جانے کے لیے نکلے ،جب ہم مقامِ عزورا کے قریب پہنچے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری سے نیچے تشریف لائے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر کچھ دیراﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کی پھر سجدے میں چلے گئے،کافی دیر سجدہ کیا،پھر کھڑے ہو ئے اور اپنے مبارک ہاتھوں کو کچھ دیر کے لئے اٹھایاپھر سجدے میں چلے گئے ،تین مرتبہ اسی طرح کیاپھر ارشاد فر مایا:میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے میری امت کا تیسرا حصہ مجھے عطا فرمادیا،میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔پھر میں نے سر اٹھایااور اپنی امت کے لئے سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے امت کے تیسرے حصے کے متعلق میری شفاعت قبول فرمائی تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا پھر میں نے سر اٹھایا اور اپنی امت کے متعلق سوال کیا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے میری امت کا بقیہ تیسرا حصہ بھی عطا فرما دیاپس میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ادا کیا۔

عَنْ سَعْدِ بنِ اَبي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنْ مَكَّةَ نُرِيْدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيْبًا مِن عَزْوَرَا نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيْلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا¬ فَعَلَهُ ثَلَاثًا¬ وَقَالَ:اِنِّيْ سَاَلْتُ رَبِّيْ وَشَفَعْتُ لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلُثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيْ ثُلَثَ اُمَّتِيْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَاْسِيْ فَسَاَلْتُ رَبِّي لِاُمَّتِيْ فَاَعْطَانِيَ الثُّلُثَ الْآخَرَفَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّيْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1159 ، باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان