Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 608

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ اِذَا اَكَلَ طَعَامًا،لَعِقَ اَصَابِعَہُ الثَّلَاثَ قَالَ:وَقَالَ: اِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْاَذٰى،وَلْيَاْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطانِ وَاَمَرْنَا اَنْ نُسْلُتَ القَصْعَةَ، قَالَ:فَاِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَ كَةُ.

عن انس رضي الله عنه:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اكل طعاما،لعق اصابعہ الثلاث قال:وقال: اذا سقطت لقمة احدكم فليمط عنها الاذى،ولياكلها ولا يدعها للشيطان وامرنا ان نسلت القصعة، قال:فانكم لا تدرون في اي طعامكم البر كة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ جب نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانا تناوُل فرماتےتو اپنی انگلیوں کو تین بار چاٹتے۔حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کا لُقمہ گِر جائے تو اسے چاہیے کہ گرد و غبار صاف کر کے اسے کھا لے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں پیالہ صاف کرنے کاحکم دیااورفرمایا:”تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔“

شرح حدیث

انگلیاں چاٹنے کا طریقہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہاں کھانے سے مرادوہ کھانا ہے جو انگلیوں سے چمٹ جاتاہے۔چاٹنے کی ابتدادرمیانی انگلی سے کی جائے کہ اس پر زیادہ کھانا لگتا ہے،پھر شہادت کی انگلی اور پھر انگوٹھا چاٹا جائے ۔یہاں ان لوگوں کا رد ہے جو دولت کے نشے میں آکر انگلیاں چاٹنے کو نا پسند کرتے ہیں ایسے لوگ راہِ سنت سے دور ہیں اوراگرسنت سے نفرت کرنے کی وجہ سے انگلیاں چاٹنا پسند نہیں کرتے تو کافر ہیں۔“گِرا ہوا لقمہ شیطان کے لئے مت چھوڑو:امام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:” گِراہوا لقمہ اٹھا کرصاف کرنے کے بعد کھانا سنت ہے جبکہ وہ لقمہ نجاست کی جگہ نہ گِرا ہو اگر نجاست کی جگہ گِر گیا تو اسے جانوروں کو کھلا دیں یونہی شیطان کے لئے نہ چھوڑیں۔”تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ یعنی کھانے میں برکت تو ہے لیکن انسان نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں ہے،جو کھا لیا اس میں ہے،بچے ہوئے میں ہے،انگلیوں پرلگے ہوئے اجزامیں ہے یاگِرنے والے لقمے میں؟ پس انسان کو چاہیے کہ برکت حاصل کرنے کے لئے تمام کھانے کی حفاظت کرے۔“انگلیاں چاٹنے کا حکم تواضع کے لئے ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”منکرین انگلیاں اور رِکابی چاٹنے سے نفرت کرتے ہیں۔تعلیمِ تواضع کے لیے یہ حکم صادر ہوا۔عیسائی اور اُن کی دیکھا دیکھی بعض مغرب زدہ لوگ تو انگلیوں سے کھانا بھی ناپسند کرتے ہیں وہ چُھری کانٹے اور چمچہ وغیرہ سے ہی کھاتے ہیں،عیسائی تو اِس عمل پر مجبور ہیں کیونکہ وہ ناخن کٹواتے نہیں اور ہاتھ دھوتے نہیں،پانی سے استنجا کرتے نہیں کاغذ سے ہی پونچھتے ہیں،اِن وجوہ سے اُن کے ناخن زہریلے بھی ہوتے ہیں اور اُن میں میل بھی بھرا رہتا ہے وہ انگلیوں سے کیسے کھائیں ان کے ناخنوں میں تو نجاست گندگی میل سب کچھ بھرا ہے۔مسلمان یہ عمل کیوں کریں وہ ناخن کٹواتے ہیں،ہر وقت وضو وغیرہ میں ہاتھ دھوتے ہیں،استنجا ڈھیلے پھر پانی سے کرتے ہیں،لمبے ناخن ہوتے ہی نہیں اور پورے زہریلے نہیں،بڑے بڑے ناخنوں کے اندر کا میل نجاست زہریلےہیں۔ہمارے اَسلاف ہمیشہ انگلیوں سے کھاتے رہے نہ (اس سبب سے)فوت ہوئے، نہ بیمار پڑے۔ہم سے زیادہ قوی و توانا تھے اور زیادہ عمر پاتے تھے۔اَوَّلًا آنکھیں کھانا ٹیسٹ کرتی ہیں کہ اِس میں کوڑا کچرا تو نہیں ہے،پھر انگلیاں اُسکی سردی گرمی کا پتہ لگاتی ہیں،پھر ناک اس کی خوشبو بدبو محسوس کرتی ہے،پھر زبان اس کا ذائقہ تازہ باسی ہونا،اچھا بُرا،گلا سڑا ہونا محسوس کرتی ہے،پھر دانت اس کا صاف یا کَرکَرا ہونے کا پتہ لگاتے ہیں،اتنی جگہ کھانا ٹیسٹ ہوکر گلے سے اترتا ہے،چُھری کانٹے چمچے سے کھانے سے دوسری ٹیسٹ ختم ہوجاتی ہے لہٰذا ضَرَر کا اندیشہ ہے اس لیے حتی الامکان انگلیوں سے ہی کھانا چاہیے۔’’تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس کھانے میں برکت ہو جو انگلیوں یا پیالے میں لگا رہ گیا ہے،اگر انگلیاں ویسے ہی دھو دی گئیں تو ہم برکت سے محروم رہ گئے۔‘‘کھانے کی برکتیں حاصل کرنے کا طریقہ:مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’آداب طعام‘‘کے صفحہ 97پرشیخ طریقت، امیراہلسنّت مولانا ابوبلال محمدالیاس عطارقادری رَضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں :”افسوس صد کروڑ افسوس ! آج کل مسلمانوں کے کھانے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بہت کم ہی خوش نصیب ایسے ہوں گے جو سُنّت کے مطابِق کھانا کھاتے اور اُس کی بَرکتیں پاتے ہوں۔بیان کردہ حدیثِ مبارَک میں فرمایا گیا:’’تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں بَرکت ہے۔‘‘ لہٰذا ہمیں کوشِش کرنی چاہیے کہ کھانے کا ایک ذَرّہ بھی ضائِع نہ ہو،ہڈّی وغيرہ کو اِس قَدَر چُوس چاٹ لینا چاہیے کہ اِس پر بوٹی کا کوئی جُزاور کسی قسم کے غذائی اَثْرات باقی نہ رہیں،ضَرورتاً رِکابی میں ہڈّی کو جھاڑ لیجئے تا کہ کوئی دانہ وغيرہ اَٹکا ہو تو باہر آجائے اور کھایا جاسکے، اگر ہو سکے تو کھانے میں پکے ہوئے گرم مَصالحے مَثَلاً اِلائچی، کالی مِرچ، لونگ،دار چینی ،وغیرہ بھی کھالیجئےاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفائدہ ہی ہوگا۔ اگر نہ کھا سکیں تب بھی کوئی گناہ نہیں۔بریانی وغیرہ سے ثابِت ہری مرچیں نکال کر پھینک دینے کے بجائے ممکِن ہوتو کھاناشُروع کرنے سے پہلے ہی انہیں چُن کر محفوظ کرلیجئے اور آئندہ کسی کھانے میں پیس کر ڈالدیجئے ۔ اکثر لوگ مچھلی کی کھال بھی پھینک دیتے ہیں اِس کو بھی کھا لینا چاہئے ۔اَلغَرَض کھانے کے تمام اَجزاء پر غور کرلیا جائے اور اس کی ہر بے ضَرر چیز کھالی جائے ۔ نیز اُنگلیاں اور برتن اِس قَدَر چاٹیں کہ ان میں کھانے کے اَجزاء باقی نہ رہیں۔حُوروں کا مہر:سیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہيں: کہا گیا ہے کہ جو کھانے کا برتن چاٹے اور دھو کر اس کا پانی پئے تو اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے اور گرے ہوئے لقمے اٹھانا حوروں کا مہر ہے ۔مدنی گلدستہجنت کے 8دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) کھانے کے دوران اگر لقمہ گِر جائے تو اُسے صاف کر کے کھا لینا چاہیےکہ اِس سے انسان میں تواضع پیدا ہوتی ہے ۔
(2) انگلیاں چاٹنے میں پہلے درمیان والی انگلی چاٹے پھر شہادت کی انگلی اور پھر انگو ٹھا۔
(3) کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا سنتِ مبارکہ ہے لہٰذانہ تو اِس فعل سے کراہیت کرنی چاہیے اور نہ ہی اس پر عمل کرنے میں عار محسوس کرنی چاہیے۔
(4) سنت سے نفرت کرنے سے
مَعَاذَ اللّٰہانسان کافر ہو جاتا ہے۔
(5) اگرلقمہ نجاست کی جگہ گِر جائے تو اسے دھو کر جانورں کو کِھلا دینا چاہیے کہ کسی بھی صورت شیطان کے لئے نہ چھوڑ دیں ۔
(6) معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہےاس لئے کھانے کا کوئی بھی قابلِ استعمال جز ء ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(7) ہاتھ سے کھانا کھانے کے کئی فوائد ہیں چمچ وغیرہ سے کھانے سے یہ فوائدحاصل نہیں ہو سکتے ۔
(8) گِرے ہوئے ٹکڑے اٹھا کر کھا لینے چاہییں کہ یہ ٹکڑے حورں کا مہر ہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سنتوں پر عمل کرنے،سنتیں عام کرنے اور سنتوں سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا ایمان سلامت رکھے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 608