- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- حدیث نمبر 608
باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 608
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ اِذَا اَكَلَ طَعَامًا،لَعِقَ اَصَابِعَہُ الثَّلَاثَ قَالَ:وَقَالَ: اِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْاَذٰى،وَلْيَاْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطانِ وَاَمَرْنَا اَنْ نُسْلُتَ القَصْعَةَ، قَالَ:فَاِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَ كَةُ.
عن انس رضي الله عنه:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اكل طعاما،لعق اصابعہ الثلاث قال:وقال: اذا سقطت لقمة احدكم فليمط عنها الاذى،ولياكلها ولا يدعها للشيطان وامرنا ان نسلت القصعة، قال:فانكم لا تدرون في اي طعامكم البر كة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ جب نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانا تناوُل فرماتےتو اپنی انگلیوں کو تین بار چاٹتے۔حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کا لُقمہ گِر جائے تو اسے چاہیے کہ گرد و غبار صاف کر کے اسے کھا لے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں پیالہ صاف کرنے کاحکم دیااورفرمایا:”تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔“
شرح حدیث
انگلیاں چاٹنے کا طریقہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہاں کھانے سے مرادوہ کھانا ہے جو انگلیوں سے چمٹ جاتاہے۔چاٹنے کی ابتدادرمیانی انگلی سے کی جائے کہ اس پر زیادہ کھانا لگتا ہے،پھر شہادت کی انگلی اور پھر انگوٹھا چاٹا جائے ۔یہاں ان لوگوں کا رد ہے جو دولت کے نشے میں آکر انگلیاں چاٹنے کو نا پسند کرتے ہیں ایسے لوگ راہِ سنت سے دور ہیں اوراگرسنت سے نفرت کرنے کی وجہ سے انگلیاں چاٹنا پسند نہیں کرتے تو کافر ہیں۔“گِرا ہوا لقمہ شیطان کے لئے مت چھوڑو:امام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:” گِراہوا لقمہ اٹھا کرصاف کرنے کے بعد کھانا سنت ہے جبکہ وہ لقمہ نجاست کی جگہ نہ گِرا ہو اگر نجاست کی جگہ گِر گیا تو اسے جانوروں کو کھلا دیں یونہی شیطان کے لئے نہ چھوڑیں۔”تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ یعنی کھانے میں برکت تو ہے لیکن انسان نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں ہے،جو کھا لیا اس میں ہے،بچے ہوئے میں ہے،انگلیوں پرلگے ہوئے اجزامیں ہے یاگِرنے والے لقمے میں؟ پس انسان کو چاہیے کہ برکت حاصل کرنے کے لئے تمام کھانے کی حفاظت کرے۔“انگلیاں چاٹنے کا حکم تواضع کے لئے ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”منکرین انگلیاں اور رِکابی چاٹنے سے نفرت کرتے ہیں۔تعلیمِ تواضع کے لیے یہ حکم صادر ہوا۔عیسائی اور اُن کی دیکھا دیکھی بعض مغرب زدہ لوگ تو انگلیوں سے کھانا بھی ناپسند کرتے ہیں وہ چُھری کانٹے اور چمچہ وغیرہ سے ہی کھاتے ہیں،عیسائی تو اِس عمل پر مجبور ہیں کیونکہ وہ ناخن کٹواتے نہیں اور ہاتھ دھوتے نہیں،پانی سے استنجا کرتے نہیں کاغذ سے ہی پونچھتے ہیں،اِن وجوہ سے اُن کے ناخن زہریلے بھی ہوتے ہیں اور اُن میں میل بھی بھرا رہتا ہے وہ انگلیوں سے کیسے کھائیں ان کے ناخنوں میں تو نجاست گندگی میل سب کچھ بھرا ہے۔مسلمان یہ عمل کیوں کریں وہ ناخن کٹواتے ہیں،ہر وقت وضو وغیرہ میں ہاتھ دھوتے ہیں،استنجا ڈھیلے پھر پانی سے کرتے ہیں،لمبے ناخن ہوتے ہی نہیں اور پورے زہریلے نہیں،بڑے بڑے ناخنوں کے اندر کا میل نجاست زہریلےہیں۔ہمارے اَسلاف ہمیشہ انگلیوں سے کھاتے رہے نہ (اس سبب سے)فوت ہوئے، نہ بیمار پڑے۔ہم سے زیادہ قوی و توانا تھے اور زیادہ عمر پاتے تھے۔اَوَّلًا آنکھیں کھانا ٹیسٹ کرتی ہیں کہ اِس میں کوڑا کچرا تو نہیں ہے،پھر انگلیاں اُسکی سردی گرمی کا پتہ لگاتی ہیں،پھر ناک اس کی خوشبو بدبو محسوس کرتی ہے،پھر زبان اس کا ذائقہ تازہ باسی ہونا،اچھا بُرا،گلا سڑا ہونا محسوس کرتی ہے،پھر دانت اس کا صاف یا کَرکَرا ہونے کا پتہ لگاتے ہیں،اتنی جگہ کھانا ٹیسٹ ہوکر گلے سے اترتا ہے،چُھری کانٹے چمچے سے کھانے سے دوسری ٹیسٹ ختم ہوجاتی ہے لہٰذا ضَرَر کا اندیشہ ہے اس لیے حتی الامکان انگلیوں سے ہی کھانا چاہیے۔’’تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔‘‘ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس کھانے میں برکت ہو جو انگلیوں یا پیالے میں لگا رہ گیا ہے،اگر انگلیاں ویسے ہی دھو دی گئیں تو ہم برکت سے محروم رہ گئے۔‘‘کھانے کی برکتیں حاصل کرنے کا طریقہ:مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’آداب طعام‘‘کے صفحہ 97پرشیخ طریقت، امیراہلسنّت مولانا ابوبلال محمدالیاس عطارقادری رَضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں :”افسوس صد کروڑ افسوس ! آج کل مسلمانوں کے کھانے کا انداز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بہت کم ہی خوش نصیب ایسے ہوں گے جو سُنّت کے مطابِق کھانا کھاتے اور اُس کی بَرکتیں پاتے ہوں۔بیان کردہ حدیثِ مبارَک میں فرمایا گیا:’’تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں بَرکت ہے۔‘‘ لہٰذا ہمیں کوشِش کرنی چاہیے کہ کھانے کا ایک ذَرّہ بھی ضائِع نہ ہو،ہڈّی وغيرہ کو اِس قَدَر چُوس چاٹ لینا چاہیے کہ اِس پر بوٹی کا کوئی جُزاور کسی قسم کے غذائی اَثْرات باقی نہ رہیں،ضَرورتاً رِکابی میں ہڈّی کو جھاڑ لیجئے تا کہ کوئی دانہ وغيرہ اَٹکا ہو تو باہر آجائے اور کھایا جاسکے، اگر ہو سکے تو کھانے میں پکے ہوئے گرم مَصالحے مَثَلاً اِلائچی، کالی مِرچ، لونگ،دار چینی ،وغیرہ بھی کھالیجئےاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفائدہ ہی ہوگا۔ اگر نہ کھا سکیں تب بھی کوئی گناہ نہیں۔بریانی وغیرہ سے ثابِت ہری مرچیں نکال کر پھینک دینے کے بجائے ممکِن ہوتو کھاناشُروع کرنے سے پہلے ہی انہیں چُن کر محفوظ کرلیجئے اور آئندہ کسی کھانے میں پیس کر ڈالدیجئے ۔ اکثر لوگ مچھلی کی کھال بھی پھینک دیتے ہیں اِس کو بھی کھا لینا چاہئے ۔اَلغَرَض کھانے کے تمام اَجزاء پر غور کرلیا جائے اور اس کی ہر بے ضَرر چیز کھالی جائے ۔ نیز اُنگلیاں اور برتن اِس قَدَر چاٹیں کہ ان میں کھانے کے اَجزاء باقی نہ رہیں۔حُوروں کا مہر:سیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہيں: کہا گیا ہے کہ جو کھانے کا برتن چاٹے اور دھو کر اس کا پانی پئے تو اس کے لئے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے اور گرے ہوئے لقمے اٹھانا حوروں کا مہر ہے ۔مدنی گلدستہجنت کے 8دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) کھانے کے دوران اگر لقمہ گِر جائے تو اُسے صاف کر کے کھا لینا چاہیےکہ اِس سے انسان میں تواضع پیدا ہوتی ہے ۔
(2) انگلیاں چاٹنے میں پہلے درمیان والی انگلی چاٹے پھر شہادت کی انگلی اور پھر انگو ٹھا۔
(3) کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا سنتِ مبارکہ ہے لہٰذانہ تو اِس فعل سے کراہیت کرنی چاہیے اور نہ ہی اس پر عمل کرنے میں عار محسوس کرنی چاہیے۔
(4) سنت سے نفرت کرنے سےمَعَاذَ اللّٰہانسان کافر ہو جاتا ہے۔
(5) اگرلقمہ نجاست کی جگہ گِر جائے تو اسے دھو کر جانورں کو کِھلا دینا چاہیے کہ کسی بھی صورت شیطان کے لئے نہ چھوڑ دیں ۔
(6) معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہےاس لئے کھانے کا کوئی بھی قابلِ استعمال جز ء ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(7) ہاتھ سے کھانا کھانے کے کئی فوائد ہیں چمچ وغیرہ سے کھانے سے یہ فوائدحاصل نہیں ہو سکتے ۔
(8) گِرے ہوئے ٹکڑے اٹھا کر کھا لینے چاہییں کہ یہ ٹکڑے حورں کا مہر ہیں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سنتوں پر عمل کرنے،سنتیں عام کرنے اور سنتوں سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا ایمان سلامت رکھے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 608