- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- حدیث نمبر 610
باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 610
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ دُعِيتُ اِلَى كُرَاعٍ اَوْ ذِرَاعٍ لَاَجَبْتُ،وَلَوْ اُهْدِيَ اِلَيَّ ذِرَاعٌ اَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لو دعيت الى كراع او ذراع لاجبت،ولو اهدي الي ذراع او كراع لقبلت.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اگر مجھے بکری کے کُھر یا بازو (کے گوشت)کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے کُھر یا بازو کا تحفہ دیا جائے تو اسے بھی قبول کروں گا۔“
شرح حدیث
کم قیمت تحفے کو حقیر نہ جانو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں ہدیہ دینے، صلہ رحمی کرنے ،دِلوں کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آنے کی ترغیب ہے۔حضورنبیٔ رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کی دعوت یاتحفے کو حقیرنہ جانتے بلکہ قبول فرما لیتے۔یہاں اس بات کی تعلیم ہے کہ کسی مسلمان کے تحفے یا دعوت کو حقیر سمجھ کر رد نہ کیاجائے۔‘‘دعوت میں جانا کب سنت ہے؟صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دعوت میں جانا اس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لغویات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصے میں ہیں جس جگہ کھانا کھلایا جاتا ہے وہاں نہیں ہیں تو وہاں بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے۔ پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو صبر کرے، یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مقتدیٰ و پیشوا ہو، مثلاً علما و مشائخ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں تو وہاں سے چلے آئیں نہ وہاں بیٹھیں نہ کھانا کھائیں اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں یہ چیزیں ہیں تو مقتدیٰ ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں اگرچہ خاص اُس حصہ مکان میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ دوسرے حصہ میں ہوں۔“کس کا ہدیہ قبول کرے؟بہارشریعت میں ہے:”جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اَموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اُس کے قبول کرنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اُس کے یہاں دعوت کھانے کا ہے اور اگر اس کا غالب مال حرام ہے تو نہ ہدیہ قبول کرے اور نہ اس کی دعوت کھائے، جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ یہ چیز جو اُسے پیش کی گئی ہے حلال ہے۔“خُلوص کی دعوت روز قبول کروں:مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ97صفحات پرمشتمل رسالہ’’تکبر‘‘کےصفحہ81پراعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ ٔشمعِ رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکا ایک غریب صاحبزادے کی طرف سے دی گئی پر خلوص دعوت کا واقعہ یوں منقول ہے کہ ایک کمسن صاحبزادے نہایت ہی بے تکلُّفانہ انداز میں سادگی کے ساتھ اعلیٰ حضرت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:میری بُوا (یعنی بوڑھی والدہ)نے تمہاری دعوت کی ہے، کل صبح کوبلایا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے بڑی اپنائیت وشفقت سے اُن سے دریافت فرمایا:مجھے دعوت میں کیا کِھلائیے گا؟اِس پر اُن صاحِبزادے نے اپنے کُرتے کا دامن جو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے پھیلا دیا،جس میں ماش کی دال اور دو چار مرچیں پڑی ہوئی تھیں۔ کہنے لگے:دیکھئے نا! یہ دال لایا ہوں۔ حُضور نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا:اچھّا میں اور (خادِمِ خاص حاجیکفایتُ اللّٰہصا حِبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)یہ کل دس بجے آئیں گےاور حاجی صاحِب سے فرمایا مکان کا پتہ دریافت کر لیجئے۔غرض صاحبزادے مکان کا پتہ بتا کر خوش خوش چلے گئے ۔ دوسرے دن جب وقتِ مقررہ پر اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتعصائے مبارک ہاتھ میں لئے ہوئے باہرتشریف لائے اور حاجی صاحِب سے فرمایا: چلئے۔ (تو)انہوں نے عرض کی: کہاں؟فرمایا:ان صاحبزادے کے یہاں دعوت کا جو وعدہ کیا ہے، آپ کو مکان کا پتہ معلوم ہو گیا ہے یا نہیں؟ عرض کی:ہاں حُضور!ملوک پور میں ہےاور ساتھ ہو لئے۔جس وقت مکان پر پہنچے تو وہ صاحبزادے دروازے پر کھڑے انتظار میں تھے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتکو دیکھتے ہی یہ کہتے ہوئے مکان کے اندر کی طرف بھاگے: مولوی صاحِب آ گئے۔ دروازہ کے باہر ایک چھپّر بنا ہوا تھا ۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہوہاں کھڑے ہو کر انتظار فرمانے لگے۔کچھ دیر بعد ایک بوسیدہ چٹائی آئی اور ڈَھَلیا میں موٹی موٹی باجرہ کی روٹیاں اور مٹّی کی رکابی میں وُہی ماش کی دال جس میں مرچوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے،لا کر رکھ دی گئی اوروہ صاحبزادے کہنے لگے:کھائیے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے فرمایا:بہت اچھا !کھاتا ہوں،ہاتھ دھونے کے لئے پانی لے آئیے۔اُدھر وہ پانی لانے کو گئے اور اِدھر حاجی صاحِب نے کہاکہ حضور!یہ مکان نقّارچی (یعنی نقّارہ بجانے والے)کا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتیہ سن کر کَبیدہ خاطر(یعنی رنجیدہ)ہوئے اور طنزاً فرمایا:ابھی کیوں کہا،کھانا کھانے کے بعد کہا ہوتا!اِتنے میں وہ صاحبزادے پانی لے کر آ گئے۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے دریافت فرمایا:آپ کے والِد صاحب کہاں ہیں اور کیا کام کرتے ہیں؟ دروازہ کے پردے کے پیچھے سے ان صاحبزادے کی والِدہ صاحِبہ نے عرض کی:حضور! میرے شوہر کا انتِقال ہو گیا ،وہ کسی زمانے میں نَوبت (یعنی نقَّارہ)بجاتے تھے،اِس کے بعد توبہ کر لی تھی، اب صرف یہ لڑکا ہے جو راج مزدُوروں کے ساتھ مزدُوری کرتا ہے۔اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے یہ سُن کر دعائے خیر و بَرکت فرمائی۔حاجی صاحب نے حضور کے ہاتھ دُھلوائے اور خود بھی ہاتھ دھو کر شریکِ طعام ہوگئے مگر دل ہی دل میں یہ سوچتے رہے کہ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتکو کھانے میں بہت احتیاط ہے، غذا میں سوجی کے بِسکُٹ کا اِستعمال ہے،یہ روٹی اور وہ بھی باجرے کی اور اِس پر ماش کی دال،کس طرح تناوُل فرمائیں گے؟ مگر قربان اِس اَخلاق اور دلداری کے کہ میزبان کی خوشی کے لئے خوب سیر ہو کر کھایا۔حاجی صاحب کا بیان ہے کہ میں جب تک کھاتا رہا، اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتبھی برابر تناوُل فرماتے رہے وہاں سے واپسی میں پولیس چوکی کے قریب میرے شبہے کو دُور کرنے کے لئے اِرشاد فرمایا:’’اگر ایسی خُلوص کی دعوت روز ہو تو میں روز قبول کروں۔‘‘مدنی گلدستہ’’صدیق ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی دعوت دیتا یا تحفہ پیش کرتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبول فرما لیتے ۔
(2) کسی غریب کی دعوت کو حقیر سمجھ کے ٹھکرانا نہیں چاہیےاور نہ ہی کسی کے تحفے کو کم قیمت سمجھتے ہوئے لوٹا نا چاہیے۔
(3) دعوت میں جانا اُس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات ہیں تو نہ جائے۔
(4) جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اَموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اس کے قبول کرنے میں حرج نہیں ورنہ ہدیہ قبول نہ کرے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 610