Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 610

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ دُعِيتُ اِلَى كُرَاعٍ اَوْ ذِرَاعٍ لَاَجَبْتُ،وَلَوْ اُهْدِيَ اِلَيَّ ذِرَاعٌ اَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لو دعيت الى كراع او ذراع لاجبت،ولو اهدي الي ذراع او كراع لقبلت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اگر مجھے بکری کے کُھر یا بازو (کے گوشت)کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے کُھر یا بازو کا تحفہ دیا جائے تو اسے بھی قبول کروں گا۔“

شرح حدیث

کم قیمت تحفے کو حقیر نہ جانو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں ہدیہ دینے، صلہ رحمی کرنے ،دِلوں کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آنے کی ترغیب ہے۔حضورنبیٔ رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کی دعوت یاتحفے کو حقیرنہ جانتے بلکہ قبول فرما لیتے۔یہاں اس بات کی تعلیم ہے کہ کسی مسلمان کے تحفے یا دعوت کو حقیر سمجھ کر رد نہ کیاجائے۔‘‘دعوت میں جانا کب سنت ہے؟صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دعوت میں جانا اس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لغویات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصے میں ہیں جس جگہ کھانا کھلایا جاتا ہے وہاں نہیں ہیں تو وہاں بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے۔ پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو صبر کرے، یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مقتدیٰ و پیشوا ہو، مثلاً علما و مشائخ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں تو وہاں سے چلے آئیں نہ وہاں بیٹھیں نہ کھانا کھائیں اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں یہ چیزیں ہیں تو مقتدیٰ ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں اگرچہ خاص اُس حصہ مکان میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ دوسرے حصہ میں ہوں۔“کس کا ہدیہ قبول کرے؟بہارشریعت میں ہے:”جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اَموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اُس کے قبول کرنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اُس کے یہاں دعوت کھانے کا ہے اور اگر اس کا غالب مال حرام ہے تو نہ ہدیہ قبول کرے اور نہ اس کی دعوت کھائے، جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ یہ چیز جو اُسے پیش کی گئی ہے حلال ہے۔“خُلوص کی دعوت روز قبول کروں:مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ97صفحات پرمشتمل رسالہ’’تکبر‘‘کےصفحہ81پراعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانہ ٔشمعِ رِسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکا ایک غریب صاحبزادے کی طرف سے دی گئی پر خلوص دعوت کا واقعہ یوں منقول ہے کہ ایک کمسن صاحبزادے نہایت ہی بے تکلُّفانہ انداز میں سادگی کے ساتھ اعلیٰ حضرت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:میری بُوا (یعنی بوڑھی والدہ)نے تمہاری دعوت کی ہے، کل صبح کوبلایا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے بڑی اپنائیت وشفقت سے اُن سے دریافت فرمایا:مجھے دعوت میں کیا کِھلائیے گا؟اِس پر اُن صاحِبزادے نے اپنے کُرتے کا دامن جو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے پھیلا دیا،جس میں ماش کی دال اور دو چار مرچیں پڑی ہوئی تھیں۔ کہنے لگے:دیکھئے نا! یہ دال لایا ہوں۔ حُضور نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا:اچھّا میں اور (خادِمِ خاص حاجیکفایتُ اللّٰہصا حِبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)یہ کل دس بجے آئیں گےاور حاجی صاحِب سے فرمایا مکان کا پتہ دریافت کر لیجئے۔غرض صاحبزادے مکان کا پتہ بتا کر خوش خوش چلے گئے ۔ دوسرے دن جب وقتِ مقررہ پر اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتعصائے مبارک ہاتھ میں لئے ہوئے باہرتشریف لائے اور حاجی صاحِب سے فرمایا: چلئے۔ (تو)انہوں نے عرض کی: کہاں؟فرمایا:ان صاحبزادے کے یہاں دعوت کا جو وعدہ کیا ہے، آپ کو مکان کا پتہ معلوم ہو گیا ہے یا نہیں؟ عرض کی:ہاں حُضور!ملوک پور میں ہےاور ساتھ ہو لئے۔جس وقت مکان پر پہنچے تو وہ صاحبزادے دروازے پر کھڑے انتظار میں تھے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتکو دیکھتے ہی یہ کہتے ہوئے مکان کے اندر کی طرف بھاگے: مولوی صاحِب آ گئے۔ دروازہ کے باہر ایک چھپّر بنا ہوا تھا ۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہوہاں کھڑے ہو کر انتظار فرمانے لگے۔کچھ دیر بعد ایک بوسیدہ چٹائی آئی اور ڈَھَلیا میں موٹی موٹی باجرہ کی روٹیاں اور مٹّی کی رکابی میں وُہی ماش کی دال جس میں مرچوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے،لا کر رکھ دی گئی اوروہ صاحبزادے کہنے لگے:کھائیے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے فرمایا:بہت اچھا !کھاتا ہوں،ہاتھ دھونے کے لئے پانی لے آئیے۔اُدھر وہ پانی لانے کو گئے اور اِدھر حاجی صاحِب نے کہاکہ حضور!یہ مکان نقّارچی (یعنی نقّارہ بجانے والے)کا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتیہ سن کر کَبیدہ خاطر(یعنی رنجیدہ)ہوئے اور طنزاً فرمایا:ابھی کیوں کہا،کھانا کھانے کے بعد کہا ہوتا!اِتنے میں وہ صاحبزادے پانی لے کر آ گئے۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے دریافت فرمایا:آپ کے والِد صاحب کہاں ہیں اور کیا کام کرتے ہیں؟ دروازہ کے پردے کے پیچھے سے ان صاحبزادے کی والِدہ صاحِبہ نے عرض کی:حضور! میرے شوہر کا انتِقال ہو گیا ،وہ کسی زمانے میں نَوبت (یعنی نقَّارہ)بجاتے تھے،اِس کے بعد توبہ کر لی تھی، اب صرف یہ لڑکا ہے جو راج مزدُوروں کے ساتھ مزدُوری کرتا ہے۔اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے یہ سُن کر دعائے خیر و بَرکت فرمائی۔حاجی صاحب نے حضور کے ہاتھ دُھلوائے اور خود بھی ہاتھ دھو کر شریکِ طعام ہوگئے مگر دل ہی دل میں یہ سوچتے رہے کہ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتکو کھانے میں بہت احتیاط ہے، غذا میں سوجی کے بِسکُٹ کا اِستعمال ہے،یہ روٹی اور وہ بھی باجرے کی اور اِس پر ماش کی دال،کس طرح تناوُل فرمائیں گے؟ مگر قربان اِس اَخلاق اور دلداری کے کہ میزبان کی خوشی کے لئے خوب سیر ہو کر کھایا۔حاجی صاحب کا بیان ہے کہ میں جب تک کھاتا رہا، اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتبھی برابر تناوُل فرماتے رہے وہاں سے واپسی میں پولیس چوکی کے قریب میرے شبہے کو دُور کرنے کے لئے اِرشاد فرمایا:’’اگر ایسی خُلوص کی دعوت روز ہو تو میں روز قبول کروں۔‘‘مدنی گلدستہ’’صدیق ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی دعوت دیتا یا تحفہ پیش کرتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبول فرما لیتے ۔
(2) کسی غریب کی دعوت کو حقیر سمجھ کے ٹھکرانا نہیں چاہیےاور نہ ہی کسی کے تحفے کو کم قیمت سمجھتے ہوئے لوٹا نا چاہیے۔
(3) دعوت میں جانا اُس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات ہیں تو نہ جائے۔
(4) جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اَموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اس کے قبول کرنے میں حرج نہیں ورنہ ہدیہ قبول نہ کرے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 610