Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 609

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ:مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا اِلَّا رَعَى الْغَنَمَ قَالَ اَصْحَابُهُ:وَاَنْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ،كُنْتُ اَرْعَاهَا عَلٰی قَرَارِيطَ لِاَهْلِِ مَكَّةَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم،قال:ما بعث الله نبيا الا رعى الغنم قال اصحابه:وانت؟ فقال: نعم،كنت ارعاها علی قراريط لاهل مكة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس نے بکریاں چَرائی ہیں۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ؟ فرمایا:ہاں!میں چند قِیراط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چَرایا کرتا تھا ۔“

شرح حدیث

انبیاء کی تواضع واِنکساری:حدیثِ مذکور میں انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور امامُ الانبیاء محمد مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بکریاں چَرانے اور ان کی نگہبانی کرنے کا ذِکر ہے،اس میں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور امام الانبیاءصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حد درجہ تواضع و انکساری ہے کہ دونوں جہاں کے مالک و مختار ہونے کے با وجود آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بکریاں چرائیں،گویا کہ ہمیں یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ دنیا میں چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پرفائزہو مگرتواضع و انکساری کا دامن نہ چھوڑنا ۔بکریاں چَرانے کی حکمتیں:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:بکریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے، انہیں چراگاہ میں جمع کرنے اور درندوں سے ان کی حفاظت کرنے سے انسان کے حِلْم میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی لئے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکو اعلان ِنبوت سے قبل بکریاں چَرانے کا حکم دیا گیا تا کہ مختلف طبیعتوں کے لوگوں تک دین پہنچانے کی انہیں جو ذمہ داری دی گئی ہے اسکی اچھی طرح سے مشق ہوجائے اورتبلیغ کرنے میں آسانی ہو ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”بکریاں چَرانے سے طبیعت میں حِلم و بُردباری،محنت کا شوق،ملکی انتظام کی قابلیت اور رِعایا پروری پیدا ہوتی ہے کہ بکریاں ہر وقت محافِظ کی حاجت مند ہوتی ہیں اور ان میں انتظام نہیں ہوتا،ہر ایک جِدھر منہ اُٹھا چل دیتی ہے،جو انہیں سنبھال لے گا،وہاِنْ شَآءَاللّٰہ تعالٰیرِعایا کو بھی سنبھال لے گا،تبلیغ خوب کرسکے گا،عام طور پر رِعایا کو بکریوں سے اور بادشاہ کو چرواہے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔“نبّوت تواضع کرنے والوں کو عطا کی گئی :شیخ عبد الحق محد ث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیعلامہ خطابیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں: ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے نبوت بادشاہوں اورامیروں میں نہ رکھی بلکہ بکریوں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور تواضع کرنے والوں کو عطا فرمائی۔حضرت ایوبعَلَیْہِ السَّلَامسلائی کا کام اورحضرت زَکَرِیَّاعَلَیْہِ السَّلَاملکڑی کا کام کرتے تھے ۔“مدنی گلدستہ’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بکریاں چَرانا بہت مبارک عمل ہے،تمام انبیا ءِ کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامنےاورخود امامُ الانبیاء محمد مصطفٰےصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےبھی بکریاں چَرائیں ۔
(2) بکریاں چَرانے سے طبیعت میں حِلم و بُردباری،محنت کا شوق،ملکی انتظام کی قابلیت اور رِعایا پروری کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
(3) نبوت امیروں اور بادشاہوں میں نہ رکھی گئی بلکہ تواضع اختیار کرنے والوں میں رکھی گئی۔
(4) انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکو اعلان ِنبوت سے قبل بکریاں چَرانے کا حکم دیا گیا تا کہ مختلف طبیعتوں کے لوگوں تک دِین پہنچانے کی اچھی طرح سے مشق ہوجائے اورتبلیغِ دِین میں آسانی ہو ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سچی عاجزی و اِنکساری اپنانے کی توفیق عطافرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 609