- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- حدیث نمبر 606
باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 606
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ الْاَسْوَدِ بن يَز يدَقَالَ:سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللهُ عَنْهَا مَا كَانَ النَّبيُّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟قَالَتْ:كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ اَهْلِهِ ،يَعْنِي:خِدْمَةَ اَهْلِهِ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ،خَرَج اِلَى الصَّلاَةِ.
عن الاسود بن يز يدقال:سئلت عائشة رضي الله عنها ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في بيته ؟قالت:كان يكون في مهنة اهله ،يعني:خدمة اهله فاذا حضرت الصلاة،خرج الى الصلاة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَااسود بن یزیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اُمُّ ا لمومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے پوچھا گیا کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گھر میں کیا مشغولیت ہوتی تھی؟فرمایا:”شہنشاہِ دوعالَم ،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھریلوکاموں میں اپنے اہلِ خانہ کاہاتھ بٹایا کرتےاور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔“
شرح حدیث
کمالِ تواضع :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر کے کام کاج میں اہلِ خانہ کا ساتھ دیا کرتے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کپڑے خود دھولیتے، کپڑوں اور جوتوں کو پیوند لگالیتے،اونٹ کو باندھتے، بکریوں کا دودھ دوہتے، خا دموں کے ساتھ کھانا تناول فرماتےاور بازار سےاپنا سامان خود اٹھا کر لاتے۔یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فضل اور کمالِ تواضع ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِن اُمور میں اُس وقت مشغول ہوتے جب اُن سے اہم کوئی اور کام نہ ہوتا، اگر اُن سے اہم کوئی اور کام ہوتا تو اسے انجام دیتےاور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ “حضورعَلَیْہِ السَّلَاماپنا کام خود کیا کرتے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کام خود کر لیا کرتے تھے،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کبھی کسی غلام پر ہاتھ اٹھا یا اور نہ کسی زوجہ پر ۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں تواضع اختیار کرنے،تکبر سے بچنے اور اپنے اہل وعیال کی خدمت کرنے کی ترغیب ہے۔“نماز کے لئے ہر حال میں تیار رہو:”گھر کے کاروبار(کام کاج)میں مشغولیت ترکِ جماعت کے لئے عذر نہیں ،جب نماز کا وقت ہو جائے تو گھر کے کاروبار چھوڑدے مگر جب کھانا موجو د ہو اور نفس اس کی طرف مائل بھی ہو اور نماز کے لئے اِقامت ہو جائے تو اگر نماز کے فوت ہونے کا خطرہ نہ ہو تو کھانا کھا کر نماز پڑھے ،اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حال میں آدمی نماز کے لئے تیار رہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آئمہ ٔکرام اپنے کام خود کریں اور یہ صالحین کی عادت ہے۔“گھر کا کام کرنا صالحین کا طریقہ ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات (یعنی صحابہ وتابعین کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)حضور ِانور کی بیرونی اور اندرونی زندگی کے حافظ ہونا چاہتے تھے اور اُمَّت تک پہنچانا چاہتے تھے اس لیے بیرونی زندگی شریف صحابہ ٔکرام سے پوچھتے تھے اور اندرونی زندگی اَزواجِ پاک سے خصوصًا اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا)سے۔حضورِاَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اپنے گھر کے کسی کام میں تکلف نہیں کرتے تھے،بکری دوھ لیتے،اپنے کپڑے دھولیتے تھے،پھٹے کپڑے، پھٹی نعلین شریف میں پیوند لگالیتے تھے۔معلوم ہوا کہ گھر میں کام کرلینا صالحین کا طریقہ ہے کسی جائز کام میں تکلف نہیں چاہیئے۔( جب نماز کا وقت ہوتا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے لئے تشریف لے جاتے) یعنی جب نمازِ جماعت کا وقت آتا تو سارے کام چھوڑ دیتے گھر بار سے منہ موڑ لیتے جیسے کسی کو جانتے ہی نہیں اور مسجد تشریف لے جاتے یہ ہی سنت ہے،اللّٰہایسی زندگی نصیب فرمائے۔شعر:
اپنے کپڑے خود دھو لینا خاک کے بستر پر سو لینا
سادہ سادہ نیک طبیعتصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم*امیر المؤمنین سَیِّدُنامولاعلی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:”اگر کوئی کامل شخص اپنے گھر والوں کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے تو اِس سے اُس کے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی ۔‘‘*ایک رات امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن عبد العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزنے خود اٹھ کر اپنے چراغ میں تیل بھر کر اسے روشن کردیا اور فرمایا: ’’میں جب اس کام کے لئے گیا تب بھی عمر تھا ور جب واپس لوٹا ہوں تو اب بھی عمر ہی ہوں، میرے اس کام سے میرے مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں میں سے بہتر ین وہ ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں عاجزی کرنے والا ہو۔‘‘*”ایک بزرگ فرماتے ہیں میں نے امیر المؤمنین، حضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دیکھا کہ آپکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دِرہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا،میں نے عرض کی:امیر المؤمنین !میں اٹھا کر لے جاتا ہوں۔ فرمایا: ’’نہیں ، عِیال دار آدمی کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسِب ہے۔“*صدر الشریعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہگھر کے کام کاج سے عار محسوس نہ فرماتے،گھر میں ترکاریاں چھیلتے، کاٹتے اور دوسرے کام بھی کردیا کرتے تھے۔“اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان سب پر رحمت ہو اور ان کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’شیرِ خدا ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماز روئے تواضع گھر کے کام کاج میں مصروف رہتے ، گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے ۔
(2) تواضُع ،اِنکساری اور خدمت کرنے سے مقام و مرتبہ کم نہیں ہوتا بلکہ عزت میں اضافہ ہوتاہے ۔
(3) اپنے کام خود کر لینا اور گھریلو کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد کرنا یہ صالحین کا معمول رہاہے۔
(4) صحابہ وتابعینِ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ بھر پور کوشش ہوتی تھی کہ وہ نبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اندرونی وبیرونی معمولات سے باخبر رہیں تاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر ادا کی پیروی کی جاسکے۔
(5) وہ لوگ کہ جنہیں معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے تکبر ختم ہوتا اور عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے ۔
(6) کام کے دوران نماز کا وقت آجا ئے تو سارے کام كاج چھوڑ کر نماز کے لئے جانا سنتِ مبارکہ ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تواضع و اِنکساری،خدمتِ خلق اور نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 606