Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 606

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْاَسْوَدِ بن يَز يدَقَالَ:سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللهُ عَنْهَا مَا كَانَ النَّبيُّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟قَالَتْ:كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ اَهْلِهِ ،يَعْنِي:خِدْمَةَ اَهْلِهِ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ،خَرَج اِلَى الصَّلاَةِ.

عن الاسود بن يز يدقال:سئلت عائشة رضي الله عنها ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في بيته ؟قالت:كان يكون في مهنة اهله ،يعني:خدمة اهله فاذا حضرت الصلاة،خرج الى الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَااسود بن یزیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اُمُّ ا لمومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے پوچھا گیا کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گھر میں کیا مشغولیت ہوتی تھی؟فرمایا:”شہنشاہِ دوعالَم ،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھریلوکاموں میں اپنے اہلِ خانہ کاہاتھ بٹایا کرتےاور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔“

شرح حدیث

کمالِ تواضع :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر کے کام کاج میں اہلِ خانہ کا ساتھ دیا کرتے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کپڑے خود دھولیتے، کپڑوں اور جوتوں کو پیوند لگالیتے،اونٹ کو باندھتے، بکریوں کا دودھ دوہتے، خا دموں کے ساتھ کھانا تناول فرماتےاور بازار سےاپنا سامان خود اٹھا کر لاتے۔یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فضل اور کمالِ تواضع ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِن اُمور میں اُس وقت مشغول ہوتے جب اُن سے اہم کوئی اور کام نہ ہوتا، اگر اُن سے اہم کوئی اور کام ہوتا تو اسے انجام دیتےاور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ “حضورعَلَیْہِ السَّلَاماپنا کام خود کیا کرتے :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے کام خود کر لیا کرتے تھے،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ کبھی کسی غلام پر ہاتھ اٹھا یا اور نہ کسی زوجہ پر ۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں تواضع اختیار کرنے،تکبر سے بچنے اور اپنے اہل وعیال کی خدمت کرنے کی ترغیب ہے۔“نماز کے لئے ہر حال میں تیار رہو:”گھر کے کاروبار(کام کاج)میں مشغولیت ترکِ جماعت کے لئے عذر نہیں ،جب نماز کا وقت ہو جائے تو گھر کے کاروبار چھوڑدے مگر جب کھانا موجو د ہو اور نفس اس کی طرف مائل بھی ہو اور نماز کے لئے اِقامت ہو جائے تو اگر نماز کے فوت ہونے کا خطرہ نہ ہو تو کھانا کھا کر نماز پڑھے ،اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حال میں آدمی نماز کے لئے تیار رہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آئمہ ٔکرام اپنے کام خود کریں اور یہ صالحین کی عادت ہے۔“گھر کا کام کرنا صالحین کا طریقہ ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات (یعنی صحابہ وتابعین کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)حضور ِانور کی بیرونی اور اندرونی زندگی کے حافظ ہونا چاہتے تھے اور اُمَّت تک پہنچانا چاہتے تھے اس لیے بیرونی زندگی شریف صحابہ ٔکرام سے پوچھتے تھے اور اندرونی زندگی اَزواجِ پاک سے خصوصًا اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا)سے۔حضورِاَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اپنے گھر کے کسی کام میں تکلف نہیں کرتے تھے،بکری دوھ لیتے،اپنے کپڑے دھولیتے تھے،پھٹے کپڑے، پھٹی نعلین شریف میں پیوند لگالیتے تھے۔معلوم ہوا کہ گھر میں کام کرلینا صالحین کا طریقہ ہے کسی جائز کام میں تکلف نہیں چاہیئے۔( جب نماز کا وقت ہوتا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے لئے تشریف لے جاتے) یعنی جب نمازِ جماعت کا وقت آتا تو سارے کام چھوڑ دیتے گھر بار سے منہ موڑ لیتے جیسے کسی کو جانتے ہی نہیں اور مسجد تشریف لے جاتے یہ ہی سنت ہے،اللّٰہایسی زندگی نصیب فرمائے۔شعر:
اپنے کپڑے خود دھو لینا خاک کے بستر پر سو لینا
سادہ سادہ نیک طبیعت
صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم*امیر المؤمنین سَیِّدُنامولاعلی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:”اگر کوئی کامل شخص اپنے گھر والوں کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لے جائے تو اِس سے اُس کے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی ۔‘‘*ایک رات امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن عبد العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزنے خود اٹھ کر اپنے چراغ میں تیل بھر کر اسے روشن کردیا اور فرمایا: ’’میں جب اس کام کے لئے گیا تب بھی عمر تھا ور جب واپس لوٹا ہوں تو اب بھی عمر ہی ہوں، میرے اس کام سے میرے مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگوں میں سے بہتر ین وہ ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں عاجزی کرنے والا ہو۔‘‘*”ایک بزرگ فرماتے ہیں میں نے امیر المؤمنین، حضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دیکھا کہ آپکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دِرہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا،میں نے عرض کی:امیر المؤمنین !میں اٹھا کر لے جاتا ہوں۔ فرمایا: ’’نہیں ، عِیال دار آدمی کو اپنا سامان خود اُٹھانا مناسِب ہے۔“*صدر الشریعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہگھر کے کام کاج سے عار محسوس نہ فرماتے،گھر میں ترکاریاں چھیلتے، کاٹتے اور دوسرے کام بھی کردیا کرتے تھے۔“اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان سب پر رحمت ہو اور ان کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’شیرِ خدا ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماز روئے تواضع گھر کے کام کاج میں مصروف رہتے ، گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے ۔
(2) تواضُع ،اِنکساری اور خدمت کرنے سے مقام و مرتبہ کم نہیں ہوتا بلکہ عزت میں اضافہ ہوتاہے ۔
(3) اپنے کام خود کر لینا اور گھریلو کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد کرنا یہ صالحین کا معمول رہاہے۔
(4) صحابہ وتابعینِ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ بھر پور کوشش ہوتی تھی کہ وہ نبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اندرونی وبیرونی معمولات سے باخبر رہیں تاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر ادا کی پیروی کی جاسکے۔
(5) وہ لوگ کہ جنہیں معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے تکبر ختم ہوتا اور عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے ۔
(6) کام کے دوران نماز کا وقت آجا ئے تو سارے کام كاج چھوڑ کر نماز کے لئے جانا سنتِ مبارکہ ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تواضع و اِنکساری،خدمتِ خلق اور نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 606