Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 605

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: اِن كَانَتِ الْاَمَةُ مِنْ اِمَاءِ الْمَدينَةِ لَتَاْخُذُ بِيَدِ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ.

عن انس رضي الله عنه قال: ان كانت الامة من اماء المدينة لتاخذ بيد النبي صلى الله عليه وسلم،فتنطلق به حيث شاءت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ”مدینہ منورہ کی کوئی لونڈی حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دست مبارک پکڑ لیتی اور وہ جہاں چاہتی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو (اپنے کام کاج کے لئے) لے جاتی ۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو:حدیثِ مذکور میں حضور نبیٔ رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاقِ کریمانہ کا بیا ن ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دونوں جہاں کی بادشاہی سے نوازا اس کے باوجودآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس قدر تواضع پسند اورمُنکسرُ المزاج تھے کہ اگر کوئی لونڈی یعنی معمولی سے معمولی انسان بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کسی کام کا کہتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانکار نہ فرماتے بلکہ اس کی حاجت روائی فرماتے۔حد درجہ تواضع:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خُلقِ عظیم کا یہ مرتبہ تھا کہ اگر کسی لونڈی کو مدینہ طیبہ کی کسی بھی جگہ کوئی حاجت پیش آتی اور اس حاجت کو پورا کرنے کے لئے کسی کی مد ددرکار ہوتی اور وہ بارگاہِ رسالت میں حاجت روائی کی درخواست کرتی تو حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی وہ حاجت پوری فرمادیتے ۔مدینہ طیبہ کی لونڈیوں میں سے کوئی بھی لونڈی آتی اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہاتھ پکڑتی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے یہاں تک کہ وہ لونڈی جہاں چاہتی(کام کاج کے لئے)آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو لے جاتی۔ یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حد درجہ تواضع اور تکبر کی تمام اَقسام سے براءت کی دلیل ہے۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ہاتھ پکڑنے سےمراد ہے اپنی حاجت براری کے لیے عرض کرنا یا کہیں لے جانا اور اگر ظاہری معنی مراد ہوں تب بھی مضائقہ نہیں کہ ساری اُمَّت حضور کی اولاد ہے،حضور انور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اُمَّت کے باپ ہیں مہربان باپ کا ہاتھ اولاد پکڑ لیتی ہے۔ یعنی اگر معمولی سے معمولی آدمی حتی کہ مدینہ کی لونڈی بھی کچھ التجا کے لیے حضور کا ہاتھ پکڑ لیتی تو حضور اس سے ہاتھ چھڑاتے نہ تھے بلکہ اس کی حاجت روائی کردیتے تھے۔ خواہ اپنے گھر لے جاتی یا کسی اور جگہ حضور ِاَنور منع نہ فرماتے تھے۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اَخلاقِ حسنہ :مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ758صفحات پرمشتمل کتاب ’’سیرتِ رسولِ عربی ‘‘ کے صفحہ 340 تا 341 پر ہے :آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اَہلِ خانہ وخُدَّام اور اَصحاب سے نہایت تو اضع سے پیش آیا کرتے، اپنے دولت خانہ میں اَہلِ خانہ کے کا روبار (کام )کیا کر تے،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی کھانے کو عیب نہ لگایا، خواہش ہو تی توکھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ حضرت اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے دس سال تک آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کی اس عرصہ میں آپ نے کبھی اُن کواُ ف نہ کہا اور نہ یوں فرمایا کہ فلاں کا م کیوں کیا اور فلاں کیوں نہ کیا۔ جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِ فجر سے فارغ ہو تے تو اہلِ مدینہ کے خادم پانی کے برتن لے کر حاضرہو تے،آپ ان میں اپنا دستِ مبارک ڈبو دیتےتا کہ اُن کو شفاء اور بر کت ہو۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلتے اور ان کی حاجت بر آری فرماتے۔ اہل مدینہ کی لونڈیاں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہاتھ مبارک پکڑ تیں اور اپنے کاموں کے لئے جہاں چاہتیں لے جاتیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیماروں کی عیادت فرماتے،جنازے کے پیچھے چلتے،غلاموں کی دعوت قبول فرماتے، دراز گوش پر سوار ہوتے اور اپنے پیچھے اَور وں کو بٹھا لیتے۔ چنانچہ بنی قُرَیظہ کی لڑائی کے دن آپ در از گوش پر سوار تھے جس کی مہار(نکیل) اور پالان(گدّی) پوستِ خُرما (کھجور کی چھال )کا تھا۔ حجۃ الوداع میں جس کجاوے پر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوار تھے جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو اَزروئے تواضُع سر مبارک کو اِس قدر جھکا لیا کہ کجاوے سے آلگا۔اِنکساری اور اچھے اَخلاق:عدی بن حاتم طائی پہلے عیسا ئی تھے جو اپنی قوم کے سردار تھے اور غنیمت میں سے حسبِ قاعدۂ جاہلیت چوتھا حصہ لیا کر تے تھے،جب اُن کو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بِعثت کی خبر پہنچی تو وہ بھاگ کر ملکِ شام کو چلے گئے۔ ان کی بہن پیچھے رہ گئی اور گر فتار ہو کر بار گاہِ رسالت میں آئی، اس نے عرض کیا کہ آپ مجھ پر اِحسان کیجئے خدا تعالیٰ آپ پر احسان کر ے گا۔ چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے خور اک وپو شاک اور سواری دے کر اس کی قوم کے ایک قافلہ کے ساتھ روانہ فرما دیا۔ وہ شام میں اپنے بھائی عدی بن حاتم کے پاس پہنچ گئی۔ عدی کو شک تھا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبادشاہ ہیں یا پیغمبر،بہن نے مشورہ دیا کہ تم خود حاضرِ خدمت ہوکر دیکھ آؤ۔ چنانچہ عدی یوں بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف رکھتے تھے، میں نے سلام عرض کیا۔ آپ نے پو چھا کہ تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں عدی بن حاتم طائی ہوں۔یہ سن کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے چلے۔اچانک ایک مسکین بڑھیاکسی حاجت کے لئے حاضرِ خدمت ہو ئی وہ کہنے لگی:ٹھہرئیے! چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھہر گئے اور وہ دیر تک کچھ عرض کرتی رہی، یہ دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بادشاہ نہیں ہیں، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے اپنے گھر لے گئے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک تکیہ جو کھجور کی چھال سے بھر اہوا تھامیری طرف پھینکااور فرمایا کہ اس پر بیٹھ جاؤ!میں نے کہا: نہیں آپ اس پر تشریف رکھئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ہی اس پر بیٹھو۔ چنانچہ حسب الارشاد میں اس پر بیٹھ گیا اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزمین پر بیٹھ گئے یہ دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ باد شاہ کا یہ حال نہیں ہوا کر تا۔ پھر آپ نے فرمایا: عدی بن حاتم! کیا تم رَکو سی(نصارٰی اور صائبین کے درمیان ایک فرقہ یا قوم)نہیں ہو؟ میں نے عرض کی کہ ہاں۔پھر فرمایا: کیا تم غنیمت کا چوتھا حصہ نہیں لیتے؟ میں نے عرض کی کہ ہاں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ یہ تمہارے دِین میں جائز نہیں۔ میں اس سے پہچان گیا کہ آپ پیغمبرِمُرسُل ہیں۔ اس کے بعد آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ عدی ! شاید تم اس لئے دِینِ اسلام میں داخل نہیں ہو تے کہ مسلمان غریب اور تعداد میں تھوڑے ہیں اور ان کے دشمن بہت اور صاحبِ ملک وسلطنت ہیں،مگر عنقریب مسلمانوں میں مال کی وہ کثرت ہو گی کہ کوئی صدقہ لینے والا نہ ملے گا اور تم عنقریب سن لو گے کہ ایک عورت اونٹ پر سوار ہو کر قادسیہ سے مکہ میں پہنچ کربیتُ اللّٰہکا حج کیا کرے گی اور اسے کسی کا ڈر نہ ہوگااور تم عنقریب سر زمینِ بابِل میں سفید محلات پر مسلمانوں کے قبضہ کی خبر سن لو گے۔ یہ سن کر میں اسلام لا یا۔ حضرت عدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرمایا کر تے تھے کہ ان تین پیشگو ئیوں میں سے دوسری اور تیسری پوری ہو چکی ہے اور پہلی بھی پوری ہو کر رہے گی۔“مدنی گلدستہ’’بقیع ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضو ر
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِس قدر تواضع پسند اورمُنْکَسِرُالْمِزَاجتھے کہ اگر کوئی معمولی انسان بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کسی کام کا کہتا تو آپ اِنکار نہ فرماتے۔
(2) آپ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اَہلِ خانہ ،خُدَّ ام و اَصحاب سے نہایت تو اضُع سے پیش آیا کرتے۔
(3) حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ سے ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ مسلمان کو اچھے اَخلاق والاہونا چاہیے اورجہاں تک ممکن ہواچھائی میں دوسروں کے کام آئے ۔
(4) جب کوئی بڑا عہدہ یا منصب ملے تو اس پر اِترانے اور تکبر میں مبتلا ہونے کے بجائے عاجزی و اِنکساری اور شگر گزاری سے کام لینا چاہیے کہ یہ اُس نعمت کو زوال سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی حضور نبیٔ رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ کے صدقے اخلاقِ حسنہ کی دولت نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 605