Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 611

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ،قَالَ:كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلْعَضْبَاءُ لاَ تُسْبَقُ،اَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ،فَجَاءَ اَعْرَابِيٌّ عَلٰی قَعُوْدٍ لَهُ،فَسَبَقَهَا،فَشَقَّ ذَالِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتّٰى عَرَفَهُ،فَقَالَ:حَقٌّ عَلَى اللهِ اَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا اِلاَّ وَضَعَهُ.

عن انس رضي الله عنه،قال:كانت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم العضباء لا تسبق،او لا تكاد تسبق،فجاء اعرابي علی قعود له،فسبقها،فشق ذالك على المسلمين حتى عرفه،فقال:حق على الله ان لا يرتفع شيء من الدنيا الا وضعه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عضباء نامی ایک اونٹنی تھی ،کوئی اونٹ اس سے آگے نہیں نکل سکتاتھا،ایک اَعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے نکل گیا،یہ بات صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر گِراں گزری ،حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی یہ حالت دیکھی تو ارشاد فرمایا:اللّٰہتعالیٰ پر حق ہے کہ دنیا کی جوبھی چیز بلند ہوتی ہے اسے پَست فرما دیتا ہے۔“

شرح حدیث

حُسنِ خُلق وتواضع کی ترغیب:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں سواری کے لئےاونٹ لینے اور اس پر دوڑ کا مقابلہ کرنے کی دلیل ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز بلندی کے بعد پستی کا شکار ہوتی ہے،نیز اس حدیثِ پاک میں تواضع کی بھی ترغیب ہے اورحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُسنِ خُلق،تواضع اورصحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے دِلوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت کا ذکر ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جب اعرابی کا اونٹ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اونٹنی سے آگے نکل گیا تو یہ بات صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر گِراں گزری، حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجان گئے کہ صحابہ ٔکرام کو یہ بات ناگوارگزری ہےتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کے اس غم و غصہ کو دور کرنے کے لئے ارشا د فرمایا:اَعرابی کے اُونٹ کا جیت جانا قضائے الٰہی سے تھا کہ دنیا کی جو بھی چیز بلند ہوتی ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے گرا دیتا ہے یعنیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدنیا کی جو بھی چیز مال،عزت یا کوئی اوردُنیوی آسائش اور ہر وہ چیز جس کی طرف انسان کی نظر اٹھتی ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے نیچا فرمادیتا ہے۔ حدیثِ پاک میں دنیا کی آسائش و زیبائش سےنفرت اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دلائی گئی ہے۔عضباء کے پیچھے رہنے کی وجہ :مرآۃ المناجیح میں ہے:’’حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللّٰہتعالیٰ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بلند ہوتی ہے اسے پست فرما دیتا ہے۔‘‘ یعنیاللّٰہتعالیٰ کی عادتِ کریمہ یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں ہمیشہ سب سے اونچی رہتی ہو اسے کبھی کسی سے نیچا بھی کرادے تاکہ فخر ٹوٹ جائے رب تعالیٰ کی کِبریائی پر نظر رہے اسی قانون کے مطابق یہ اونٹنی آج پیچھے رہ گئی اس پر رنج نہ کرو۔“مروی ہے کہ آپ کی اونٹنی ’’عضباء‘‘ نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور وفات پا گئی اور بعض روایتوں میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِامیدانِ محشر میں تشریف لائیں گی۔مدنی گلدستہ’’فاروق ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) دنیا میں بلند ہونے والی ہرچیز کو رب تعالیٰ کبھی نہ کبھی پست فرما دیتا ہے تا کہ انسان متکبر نہ ہوجائے اور اس کی نظر رب تعالیٰ کی کبریائی پرہی رہے۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس قدر محبت کرتے تھے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اونٹنی کا دوڑمیں پیچھے رہ جانا صحابہ کرام پر شاق گزرا۔
(3) رسولُ
اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اونٹنی کے پیچھے رہ جانے پر غم و غصہ کا اظہار نہ فرمایا بلکہ اِس موقع پر صحابہ کرام کو تواضع ، اِنکساری اور دنیا سے بے رغبتی کا درس دیا۔
(4) آپ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال مبارک کے بعد آپ کی عضباء نامی اونٹنی نے آپ کی جدائی کے غم میں کھانا پینا چھوڑدیا۔
(5) خاتونِ جنت،بی بی فاطمہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِابروزِمحشر حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عضباء نامی اونٹنی پر سوار ہوکر میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تکبر سے بچنے ،تواضع اختیار کرنے اور دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے سرفراز فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 611