- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَاعیاض بن حِماررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے میری طرف وحی فرمائی کہ تَواضُع اختیار کرو،یہاں تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے ۔“
عَنْ عِيَاضِ بنِ حِمَارٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ اللهَ اَوْحٰى اِلَيَّ اَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ وَلَا يَبْغِي اَحَدٌ عَلَى اَحَدٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 602 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور درگُزر کرنے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّعزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے اور جو شخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے تواضع اختیار کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔“
عَنْ اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زادَ اللهُ عَبْدًا بعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا،وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 603 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبچوں کے پاس سے گزر ے تو انہیں سلام کیا اورفرمایا: ’’حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی یوں ہی کیا کرتےتھے ۔‘‘
عَن اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّهُ مَرَّ عَلٰی صِبْيَانٍ،فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ،وَقَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 604 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ”مدینہ منورہ کی کوئی لونڈی حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دست مبارک پکڑ لیتی اور وہ جہاں چاہتی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو (اپنے کام کاج کے لئے) لے جاتی ۔‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: اِن كَانَتِ الْاَمَةُ مِنْ اِمَاءِ الْمَدينَةِ لَتَاْخُذُ بِيَدِ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 605 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَااسود بن یزیدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اُمُّ ا لمومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے پوچھا گیا کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گھر میں کیا مشغولیت ہوتی تھی؟فرمایا:”شہنشاہِ دوعالَم ،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھریلوکاموں میں اپنے اہلِ خانہ کاہاتھ بٹایا کرتےاور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔“
عَنِ الْاَسْوَدِ بن يَز يدَقَالَ:سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللهُ عَنْهَا مَا كَانَ النَّبيُّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟قَالَتْ:كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ اَهْلِهِ ،يَعْنِي:خِدْمَةَ اَهْلِهِ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ،خَرَج اِلَى الصَّلاَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 606 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَاابو رِفَاعہ تمیم بن اُسیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرما رہے تھے،میں نے عرض کیا:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک غریب شخص آیا ہوا ہے جواپنے دِین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے،وہ دِین کے بارے میں کچھ نہیں جانتا؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ میرےقریب آگئے،ایک کرسی لائی گئی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر تشریف فرما ہو ئے اور مجھے وہ چیز سکھائی جس کیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تعلیم فرمائی تھی ،پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ کے لئے تشریف لے گئے اور اسے مکمل فرمایا۔
عَنْ اَبِي رِفَاعَةَ تَمِيْمِ بن اُسَيْدٍرَضِي اللهُ عَنْهُ،قَالَ:اِنْتَهَيْتُ اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهَ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ،فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ اللهِ،رَجُلٌ غَريبٌ جَاءَ يَسْاَلُ عَنْ دِينهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ فَاَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهَ وَسَلَّم،وتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتّٰى اِنْتَهٰى اِلَيَّ،فَاُتِيَ بِكُرْسِيٍّ،فَقَعَدَ عَلَيْهِ،وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ اَتٰی خُطْبَتَهُ فَاَتَمَّ اٰخِرَهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 607 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ جب نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانا تناوُل فرماتےتو اپنی انگلیوں کو تین بار چاٹتے۔حضرت سَیِّدُنَا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کا لُقمہ گِر جائے تو اسے چاہیے کہ گرد و غبار صاف کر کے اسے کھا لے اور شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں پیالہ صاف کرنے کاحکم دیااورفرمایا:”تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ اِذَا اَكَلَ طَعَامًا،لَعِقَ اَصَابِعَہُ الثَّلَاثَ قَالَ:وَقَالَ: اِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْاَذٰى،وَلْيَاْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطانِ وَاَمَرْنَا اَنْ نُسْلُتَ القَصْعَةَ، قَالَ:فَاِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَ كَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 608 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس نے بکریاں چَرائی ہیں۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ؟ فرمایا:ہاں!میں چند قِیراط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چَرایا کرتا تھا ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ:مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا اِلَّا رَعَى الْغَنَمَ قَالَ اَصْحَابُهُ:وَاَنْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ،كُنْتُ اَرْعَاهَا عَلٰی قَرَارِيطَ لِاَهْلِِ مَكَّةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 609 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اگر مجھے بکری کے کُھر یا بازو (کے گوشت)کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے کُھر یا بازو کا تحفہ دیا جائے تو اسے بھی قبول کروں گا۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ دُعِيتُ اِلَى كُرَاعٍ اَوْ ذِرَاعٍ لَاَجَبْتُ،وَلَوْ اُهْدِيَ اِلَيَّ ذِرَاعٌ اَوْ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 610 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عضباء نامی ایک اونٹنی تھی ،کوئی اونٹ اس سے آگے نہیں نکل سکتاتھا،ایک اَعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے نکل گیا،یہ بات صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر گِراں گزری ،حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی یہ حالت دیکھی تو ارشاد فرمایا:اللّٰہتعالیٰ پر حق ہے کہ دنیا کی جوبھی چیز بلند ہوتی ہے اسے پَست فرما دیتا ہے۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ،قَالَ:كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلْعَضْبَاءُ لاَ تُسْبَقُ،اَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ،فَجَاءَ اَعْرَابِيٌّ عَلٰی قَعُوْدٍ لَهُ،فَسَبَقَهَا،فَشَقَّ ذَالِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتّٰى عَرَفَهُ،فَقَالَ:حَقٌّ عَلَى اللهِ اَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا اِلاَّ وَضَعَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 611 ، باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان