Main Icon

باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 607

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي رِفَاعَةَ تَمِيْمِ بن اُسَيْدٍرَضِي اللهُ عَنْهُ،قَالَ:اِنْتَهَيْتُ اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهَ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ،فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ اللهِ،رَجُلٌ غَريبٌ جَاءَ يَسْاَلُ عَنْ دِينهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ فَاَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهَ وَسَلَّم،وتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتّٰى اِنْتَهٰى اِلَيَّ،فَاُتِيَ بِكُرْسِيٍّ،فَقَعَدَ عَلَيْهِ،وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ اَتٰی خُطْبَتَهُ فَاَتَمَّ اٰخِرَهَا.

عن ابي رفاعة تميم بن اسيدرضي الله عنه،قال:انتهيت الی رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب،فقلت:يا رسول الله،رجل غريب جاء يسال عن دينه لا يدري ما دينه؟ فاقبل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم،وترك خطبته حتى انتهى الي،فاتي بكرسي،فقعد عليه،وجعل يعلمني مما علمه الله، ثم اتی خطبته فاتم اخرها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو رِفَاعہ تمیم بن اُسیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ ارشاد فرما رہے تھے،میں نے عرض کیا:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ایک غریب شخص آیا ہوا ہے جواپنے دِین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے،وہ دِین کے بارے میں کچھ نہیں جانتا؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ میرےقریب آگئے،ایک کرسی لائی گئی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر تشریف فرما ہو ئے اور مجھے وہ چیز سکھائی جس کیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تعلیم فرمائی تھی ،پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخطبہ کے لئے تشریف لے گئے اور اسے مکمل فرمایا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تبلیغِ دِین، کمالِ تواضع ،کمالِ شفقت اورحُسنِ سلوک کابیان ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں اسی دوران ایک شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکردورانِ خطبہ سوال کرتاہے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمناراض ہونے کے بجائے صبر وتحمل اور تواضع کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطبہ چھو ڑ کر اس کے قریب تشریف لا کرانتہائی نرمی و شفقت سے اسے دِین کی تعلیم دیتے ہیں جب وہ مطمئن ہوجاتاہےتو دوبارہ منبرِ اَقدس پرتشریف لا کر خطبہ مکمل فرماتے ہیں ۔سُبْحٰنَ اللّٰہ!
تری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلامِ عاجزانہ مدنی مدینے والے
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکورسے معلوم ہوا کہ سائل کو جلدی جواب دینا چاہیے اور اَہم چیز کو مُقَدَّم رکھنا چاہیے،علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکا اِس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص اِیمان کے بارے میں پوچھنے آئے یا اِسلام میں داخل ہونے آئے تو اُسے فی الفَور اِسلام میں داخل کرنا اور اِسلام کی تعلیم دینا واجب ہے ۔“دورانِ خطبہ دِینِ اِسلام کی تعلیم دینا :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک سےمعلوم ہواکہ واجبات کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہیے۔اس لیے جب حضور نبیٔ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دِین کے بارے میں سوال ہوا توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبہ چھوڑکرفوراً سائل کو جواب دیا،ہوسکتا ہے وہ سائل مسلمان ہونے آیا ہواور اس کا سوال ایمان سے متعلق ہو،اس صورت میں اگر اسے فوراً جواب نہ دیاجاتاتو ہوسکتاہے کہ ایمان لانے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوجاتا اس لئے دورانِ خطبہ ہی اسے فوراً جواب دیا گیا تاکہ ایمان کے معاملے میں تاخیر نہ ہو۔اِس حدیث پاک میں کُرسی پر بیٹھنے کا ثبوت بھی ہے۔“مدنی گلدستہلفظ’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اگرکوئی اہم سوال بے موقع پوچھ لیاجائے تب بھی سائل کو جھڑکنےاوراس پر ناراض ہونےکے بجائے سوال کی اہمیت کےپیشِ نظرسنت پر عمل کی نیت سے اگر جواب آتا ہوتو فوراً جواب دے دیناچاہیے۔
(2) ∞ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ اَہم چیز کو مُقَدَّم رکھا جائے۔(3) ∞ جو مسلمان ہونے آئے ،یا ایمان وکفر سے متعلق سوال کرے تو اسے فوراً جواب دینا چاہیے تاکہ اس کے ایمان کی حفاطت ہو۔
(4) نمایاں جگہ کھڑے ہوکر یا کرسی پر بیٹھ کر تبلیغ کرنی چاہیے تاکہ سامعین کو دیکھنے اورسننے میں آسانی ہو۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حکمتِ عملی کے ساتھ دِین متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 607