Main Icon

باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 921

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَامِنْ عَبْدٍ تُصِيْبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُوْلُ: اِنَّا لِلهِ وَاِنَّااِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰهُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِيْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِي خَيْرًامِّنْهَااِلَّااَجَرَهُ اللهُ تَعَالٰی فِیْ مُصِيْبَتِهٖ وَاَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ:فَلَمَّا تُوُفِّيَ اَبُوْ سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْلَفَ اللهُ لِيْ خَيْرًا مِنْهُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عن ام سلمة رضي الله عنها قالت:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:مامن عبد تصيبه مصيبة فيقول: انا لله وانااليه راجعون اللهم اجرنی فی مصيبتی واخلف لي خيرامنهاالااجره الله تعالی فی مصيبته واخلف له خيرا منها قالت:فلما توفي ابو سلمة قلت كما امرنی رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخلف الله لي خيرا منه رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَابَیان کرتی ہیں:میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ جس بندے کو مصیبت پہنچے پھر وہ یہ دُعا پڑھ لے:”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِی فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَایعنی ہماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، اےاللّٰہ!مجھے میری مصیبت میں اَجْرعطا فرمااور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔“تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے اُس مصیبت کا ثواب عطا فرماتا ہے اور اُسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتاہے ۔حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:جب اَبُوسَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا وِصال ہوا تو میں نے وہی دُعاپڑھی جس کارسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے حکم فرمایاتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صُورت میں مجھےاُن سےبہتر بدلہ عطا فرمایا۔

شرح حدیث

مُجَرَّب عمل:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ عمل بڑا مُجرَّب ہے۔فوت شُدہ مَیِّت اورگمشدہ چیز سب پر پڑھا جائے لیکن جس گمی چیز کے ملنے کی اُمید ہو اس پر (اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ)رَاجِعُوْنتک پڑھے اور جس سے مایوسی ہوچکی ہو اس پر پورا (اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِی فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا)پڑھے،مگر ضروری یہ ہے کہ زبان پر اَلفاظ ہوں اور دِل میں صبر۔ (مزید فرماتے ہیں:حضرت سَیِّدُنَا)اَبُوسَلَمہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)حضرت اُمِّ سَلَمہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا) کے پہلے خاوَند تھے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے رَضاعی بھائی تھے اور پھوپھی کے بیٹے بھی۔ آپ نے مع گھر بار پہلے حَبَشَہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینہ پاک کی جانِب، مع گھر بار ہجرت کرنے میں آپ اَوَّل ہیں۔مدنی گلدستہ’’صبر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مصیبت پہنچنے پر حدیثِ پاک میں مذکور دُعا پڑھ لی جائے تو اس کی بَرکت یہ ہوگی کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس مصیبت کا ثواب عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ اس کا نِعْمَ الْبَدَل بھی عطا فرمادے گا۔
(2) جس گمشدہ چیز کے ملنے کی امید ہو اس پر
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ راجِعُوْنَتک پڑھے اور جس سے مایوسی ہوچکی ہو اس پر حدیث میں موجود پوری دعا پڑھے۔
(3) مذکورہ دُعا کے اَلفاظ زبان پر ہونے کے ساتھ دِل میں صبر کاہونا بھی ضروری ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں مصیبت کے وقت صبر کرنے اور دُعائے مسنون پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 921