Main Icon

باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 923

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَقُوْلُ اللهُ تَعَالٰی:مَا لِعَبْدِيْ الْمُؤْمِنِ عِنْدِيْ جَزَاءٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ اِلَّا الْجَنَّةَ.

عن ابی هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:يقول الله تعالی:ما لعبدي المؤمن عندي جزاء اذا قبضت صفيه من اهل الدنيا ثم احتسبه الا الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَبُو ہُرَیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَرْوی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:جب میں اپنے مومن بندے سےاس کی کوئی دُنیوی محبوب چیز لے لوں پھروہ ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے صبْر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنّت کے سِوااور کچھ نہیں۔‘‘

شرح حدیث

مُفَسِّرِ شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ حدیث ہر پیاری چیزکو عام ہے، ماں باپ،بیوی اولاد حتّٰی کہ فوت شُدہ تندرستی وغیرہ جس پربھی صبْرکرے گااِنْ شَآءَ اللّٰہجنّت پائے گا لہٰذا یہ حدیث بڑی بِشارت کی ہے۔سب سے بڑی جزا:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حدیثِ پاک میں پیاری چیز کو دنیوی چیز کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی دُنیوی چیز کے فوت ہونے پر صبر کیا تو اس کی جزا جنت ہے۔یہ اس لئے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اگر کسی اُخرَوی چیز(یعنی جن چیزوں کی وجہ سے آخرت بہتر بنتی ہے جیسے دینی دوست ، دینی استاذ ، پیر ومرشد وغیرہ )کے فوت ہوجانے پر صبرکیا تو اس کی جزا جنت سے بھی زیادہ ہے یعنی’’اللّٰہکی رضا ‘‘اور یہ سب سے بڑی جزا ہے ۔ ‘‘
سدا کیلئے ہو جا راضی خُدایا
ہمیشہ ہو لطف و کرم یاالٰہی
اس حدیث کی مزید شرح کےلئے فیضانِ ریاض الصالحین جلد 1،باب نمبر3،حدیث نمبر 32کا مطالعہ کیجیے۔
مدنی گلدستہ’’ثواب‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیاِس باب کے تحت یہ حدیثِ مُبارَکہ لائے اِس سے پتا چلا کہ مَیِّت کے گھر والوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اس مضمون کی اَحادیثِ مُبارَکہ سنانی چاہیے۔
(2) اولاد یا اس جیسی محبوب شے کے فوت ہوجانے پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لیے ثواب کی اُمیدپرصبرکرنا چاہیے کہ اس صبرپر جنّت کی بِشارت ہے۔
(3)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز لے لے اور بندہ اس مصیبت پر ثواب کی نیّت سے صبر کرے تو اس کو جزا میں جنّت عطا فرماتا ہے۔
(4) اُخروی چیز کے فوت ہوجانے پر صبرکرنے کی جزا
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ پیاری چیز کے فوت ہو جانے پر ہمیں صبر کا حوصَلہ عطا فرمائے اور اس موقع پرشِکوہ شِکایت زبان پر لانے کے بَجائے کلماتِ خیر کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 923