باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَابَیان کرتی ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم بیمار یا مَیِّت کے پاس آؤ تو اچھی بات بولو(یعنی دُعا کرو)اس لئے کہ فرشتے تمہاری دُعاؤں پرآمین کہتے ہیں۔حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:جب(میرے شوہر)اَبُو سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاِنتقال کرگئے تو میں حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضِر ہوئی اورعَرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اَبُو سَلَمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: یوں کہو:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَلَهُ وَاَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبٰى حَسَنَةً(اےاللّٰہ! میری اور اَبُو سَلَمہ کی مغفرت فرما اورمجھے اس کا اچھا بدلہ عطا فرما)تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صُورت میں مجھےاَبُو سَلَمہ سےبہتر بدلہ عطا فرمایا۔

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ اَوِ الْمَيِّتَ فَقُوْلُوْاخَيْرًافَاِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ قَالَتْ:فَلَمَّا مَاتَ اَبُوْ سَلَمَةَ اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:يَارَسُوْلَ اللهِ اِنَّ اَبَاسَلَمَةَ قَدْ مَاتَ قَالَ:قُوْلِي:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلَہُ وَاَعْقِبْنِيْ مِنْهُ عُقْبٰى حَسَنَةً فَقُلْتُ فَاَعْقَبَنِيَ اللهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِيْ مِنْهُ مُحَمَّدًاصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 920 ، باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَابَیان کرتی ہیں:میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ جس بندے کو مصیبت پہنچے پھر وہ یہ دُعا پڑھ لے:”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِی فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَایعنی ہماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، اےاللّٰہ!مجھے میری مصیبت میں اَجْرعطا فرمااور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔“تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے اُس مصیبت کا ثواب عطا فرماتا ہے اور اُسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتاہے ۔حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:جب اَبُوسَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا وِصال ہوا تو میں نے وہی دُعاپڑھی جس کارسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے حکم فرمایاتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صُورت میں مجھےاُن سےبہتر بدلہ عطا فرمایا۔

عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَامِنْ عَبْدٍ تُصِيْبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُوْلُ: اِنَّا لِلهِ وَاِنَّااِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰهُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِيْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِي خَيْرًامِّنْهَااِلَّااَجَرَهُ اللهُ تَعَالٰی فِیْ مُصِيْبَتِهٖ وَاَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ:فَلَمَّا تُوُفِّيَ اَبُوْ سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْلَفَ اللهُ لِيْ خَيْرًا مِنْهُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 921 ، باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان

حضرت سَیِّدُنااَبُو مُوسیٰ اَشْعَرِیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب کسی آدَمی کے بچے کا اِنتقال ہوجاتاہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فرشتوں سے فرماتاہے: کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی رُوح قَبض کرلی ؟فرشتے عَرض کرتے ہیں: ہاں! تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے: کیا تم نے اس کے دِل کا ٹکڑا لے لیا؟فرشتے عَرْض کرتے ہیں:ہاں! تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ فَرِشتے عَرْض کرتے ہیں:اس نے تیری حَمْد کی اوراِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنپڑھا۔ تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے:” میرے اس بندے کے لئے جنّت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نامبَیْتُ الْحَمْدرکھو۔“

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللهُ تَعَالٰی لِمَلَائِكَتِهٖ:قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟فَيَقُوْلُوْنَ:نَعَمْ.فَيَقُوْلُ:قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهٖ؟فَيَقْوْلُوْنَ:نَعَمْ فَيَقُوْلُ: فَمَاذَا قَالَ عَبْدِيْ؟فَيَقُوْلُوْنَ:حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ فَيَقُوْلُ اللهُ تَعَالَی:ابْنُوْا لِعَبْدِيْ بَيْتًافِيْ الْجَنَّةِ وَسَمُّوْهُ بَيْتَ الْحَمْدِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 922 ، باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اَبُو ہُرَیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَرْوی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:جب میں اپنے مومن بندے سےاس کی کوئی دُنیوی محبوب چیز لے لوں پھروہ ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے صبْر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنّت کے سِوااور کچھ نہیں۔‘‘

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَقُوْلُ اللهُ تَعَالٰی:مَا لِعَبْدِيْ الْمُؤْمِنِ عِنْدِيْ جَزَاءٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ اِلَّا الْجَنَّةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 923 ، باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اُسامہ بن زَیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک صاحِبزادی(حضرت سَیِّدَتُنَا زَینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا)نےبارگاہِ رِسالت میں پیغام بھجوایاکہ میرا بچہ موت و حَیات کی کشمکش میں ہےلہٰذاآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائیے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قاصِد سے فرمایا:”جاؤ!اور میری لختِ جِگر سے کہہ دو کہ جو چیز (یعنی اَولاد وغیرہ) خدا نے لے لی وہ بھی اسی کی تھی اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ بھی اسی کی ہے اوراس کے عِلم میں ہرچیزکا ایک وقْت مُقَرَّر ہےلہٰذا ان سے کہو کہ وہ صبر کریں اور ثواب کی اُمید رکھیں۔“

عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: اَرْسَلَتْ اِحْدٰى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَيْهِ تَدْعُوْهُ وَتُخْبِرُهُ اَنَّ صَبِيًّا لَهَا اَوْ اِبْنًا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُوْلِ:ارْجِعْ اِلَيْهَا فَاَخْبِرْهَا اَنَّ لِلهِ تَعَالٰی مَا اَخَذَ وَلَهُ مَا اَعْطٰی وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِاَجَلٍ مُسَمًّى فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 924 ، باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان