Main Icon

باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 924

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: اَرْسَلَتْ اِحْدٰى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَيْهِ تَدْعُوْهُ وَتُخْبِرُهُ اَنَّ صَبِيًّا لَهَا اَوْ اِبْنًا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُوْلِ:ارْجِعْ اِلَيْهَا فَاَخْبِرْهَا اَنَّ لِلهِ تَعَالٰی مَا اَخَذَ وَلَهُ مَا اَعْطٰی وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِاَجَلٍ مُسَمًّى فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ.

عن اسامة بن زيد رضي الله عنهما قال: ارسلت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم اليه تدعوه وتخبره ان صبيا لها او ابنا في الموت فقال للرسول:ارجع اليها فاخبرها ان لله تعالی ما اخذ وله ما اعطی وكل شيء عنده باجل مسمى فمرها فلتصبر ولتحتسب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اُسامہ بن زَیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک صاحِبزادی(حضرت سَیِّدَتُنَا زَینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا)نےبارگاہِ رِسالت میں پیغام بھجوایاکہ میرا بچہ موت و حَیات کی کشمکش میں ہےلہٰذاآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائیے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قاصِد سے فرمایا:”جاؤ!اور میری لختِ جِگر سے کہہ دو کہ جو چیز (یعنی اَولاد وغیرہ) خدا نے لے لی وہ بھی اسی کی تھی اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ بھی اسی کی ہے اوراس کے عِلم میں ہرچیزکا ایک وقْت مُقَرَّر ہےلہٰذا ان سے کہو کہ وہ صبر کریں اور ثواب کی اُمید رکھیں۔“

شرح حدیث

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”درست یہی ہے کہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا بچے کا نام علی اِبنِ اَبِی الْعَاص تھا۔اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں :7وفات کے وقت اہلِ فضل کو بلانا چاہیے تاکہ اس کی برکت اور دعا سے اس کو فائدہ ہو۔7موت سے پہلے پسماندگان کو تسلی دینا چاہیے۔7بیمار اگرچہ بچہ یا عام آدمی ہو اہلِ فضل کو اس کی عیادت کرنی چاہیے۔7اہلِ فضل کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے فضل سے کسی کو نااُمید کریں۔7اس حدیث میں مخلوق خدا پر شفقت اور اُن کے لئے رحمت کی ترغیب اور7 قساوتِ قلبی(سخت دلی)سے بچنے کی تلقین ہے۔“سارا جہاناللّٰہکی مِلک ہے:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ حدیث شریف اِسلام کے عظیم قَواعِد و ضَوابِط میں سے ہے اور دِین کےبَہت سے اَہمّ اُصول و فُروع پر مشتمل ہے۔اس میں آداب کی تعلیم،تمام آفات و بَلِیّات پر صبْر اور غم و اَمراض وغیرہ سختیاں برداشت کرنے کی تَلْقِین ہے۔حدیث شریف کے اَلفاظ ’’جو چیز خدا نے لے لی وہ اسی کی تھی “ کا معنیٰ یہ ہے کہ سارےجہاں کا مالکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہےتو اس نے تمہاری کوئی چیز نہیں لی بلکہ اپنی چیز لی ہے جو تمہارے پاس بَطورِ عارِیَّت موجود تھی اور حدیث شریف کے جُملے’’اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ اسی کی ہے۔ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس ذات نے تمہیں عطا کیا ہے وہ اس کی ملکیت سے خارِج نہیں ہوا بلکہ وہ اسی کا ہے وہ جیسے چاہے اس میں تَصَرُّف کرے۔لہذا جَزع فَزع نہ کرو ،جس شخص کی وہ رُوح قبض فرمائے سمجھ لو کہ اس کا وقْت پُوراہوچکا تھا،اس کی موت کا وقْت آگے پیچھے ہوجائےیہ مُحال (یعنی ناممکن) ہے۔جب تمہیں یہ باتیں معلوم ہوگئیں تومَصائِب وآلام پر صبر کرواور اَجْر و ثواب کی اُمید رکھو۔مدنی گلدستہ’’امانت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) قریب الموت شخص کے پاس بُزرگوں کو بُلانا چاہیے تاکہ ان کی دُعا اور ان کی بَرَکت حاصل ہو۔
(2) مَیِّت کے گھر والوں کو صبر و شکر کی تلقین کر نی چاہیے اورانہیں اس بات کا اِحساس دِلانا چاہیے کہ یہ جو کچھ ہے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی کا ہے وہ جو چاہے لے لے اور جو چاہے عطا فرمادے۔موت کا ایک وقت مُقَرَّر ہے جس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
(3) جو چیز بھی
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّبندوں کو عطا فرماتا ہے وہ اسی کی ملکیّت ہوتی ہے اور بندوں کے پاس وہ چیز اَمانت ہوتی ہے لہٰذا جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے لے لے تو واویلا کرنے کے بَجائے صبْر کرنا چاہیےاور ثواب کی اُمید رکھنی چاہئے کیونکہ جو کسی کی اَمانت اسے واپس کرتا ہے وہ چیختا چِلّاتا نہیں ہے۔
(4) کسی کی مصیبت اور رَنج وغم کو دیکھ کر قَساوتِ قلبی(سخت دلی) کا مُظاہَرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مصیبت زَدہ سے ہمدردی کرنی چاہیے۔
(5) بیمار اگرچہ بچہ ہو یا کوئی عام آدمی ہو اس کی بھی عیادت کرنی چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں آفات و بَلِیّات پر صبر کرنے اورسختیاں برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 924