Main Icon

باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1227

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الْيَقظانِ عَمَّارِ بْن يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصٰى اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.

عن ابی اليقظان عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال: من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى ابا القاسم صلی اﷲ علیہ وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو یقظان عَمار بن یاسررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ ”جس نےیومِ شک کا روزہ رکھا اس نے ابو القاسمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نا فرمانی کی ۔‘‘

شرح حدیث

یوم شک کی وضاحت:اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ” جس نے یومِ شک کا روزہ رکھا اس نےنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نافرمانی کی۔“یومِ شک سے مرادتیس شعبان کا دن ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس نافرمانی کی تین صورتیں ہیں:*ایک یہ کہ سارے شعبان میں کبھی روزے نہ رکھے صرف شک کے دن بِلاوجہ نفلی روزہ رکھے۔*دوسرےیہ کہ شک کے دن رمضان کی نیت سے فرضی روزہ رکھے۔*تیسرے یہ کہ اس روزہ میں مُترَدِّد نیت کرے کہ آج اگررمضان کی پہلی ہے تو یہ روزہ فرضی ہے اوراگرشعبان کی تیسویں ہے تو یہ روزہ نفلی ہے، یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں،دوسری صورت زیادہ بُری کہ اس میں اہلِ کتاب سے مشابہت ہے۔“صد رُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیبہارِ شریعت میں فرماتے ہیں:*"یومُ الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفلِ خالص کی نیّت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اورنفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مُطلق روزہ کی نیّت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی، خواہ نیّت معیّن کی کِی ہو یا تَرَدُّد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔پھر اگر رمضان کی نیّت ہے تو مکروہِ تحریمی ہے، ورنہ مقیم کے لئے تنزیہی، اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیّت کی تو کراہت نہیں۔ پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو مقیم کے لیے بہرحال رمضان کا روزہ ہے اوراگر یہ ظاہر ہو کہ وہ شعبان کا دن تھا اور نیّت کسی واجب کی کی تھی تو جس واجب کی نیّت تھی وہ ہوا اور اگر کچھ حال نہ کُھلا تو واجب کی نیّت بے کار گئی اور مسافر نے جس کی نیّت کی بہرصورت وہی ہوا۔*اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اُسے روزہ رکھناافضل ہے، مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا ہے اور تیسویں اسی دن پڑی تو رکھنا افضل ہے۔ یوہیں اگر چند روز پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یومُ الشک میں کراہت نہیں۔ کراہت اُسی صورت میں ہے کہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھا جائے یعنی صرف تیس شعبان کو یا انتیس اورتیس کو اوراگر نہ تو اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا نہ کئی روز پہلے سے روزے رکھے تو اب خاص لوگ روزہ رکھیں اور عوام نہ رکھیں۔ خواص سے مراد یہاں علما ہی نہیں بلکہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ یوم الشک میں اس طرح روزہ رکھا جاتا ہے وہ خواص میں ہے ورنہ عوام میں۔“یومِ شک میں روزے کی ممانعت کی وجہ:تفہیم البخاری میں ہے:”بعض علمانے شعبان کےآخر میں ایک دوروزے رکھنے کومکروہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ آدمی کورمضان سے پہلے آرام کرنا چاہیے تاکہ اس کو رمضان کے روزے رکھنے کی قوت حاصل ہو جائے اور اسے بوجھ نہ ہو۔بعض علمایہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ شعبان کے آخرکے روزے رکھنے نفل ہیں اور یہ روزے رکھنے سے فرض اورنفل خلط ملط ہوگا اس سے لوگوں میں شک پیدا ہونے کاامکان ہے ،نیز سیدِ عالَمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے روزہ رکھنے کاحکم فرمایا اور اس کورؤیتِ ہلال سے مُقَیَّد کیا گویا کہ رؤیتِ ہلال کورمضان کےروزہ کی علت قرار دیا اورجس نے ایک دودن پہلے روزہ رکھا اس نے علت میں طعن کی اوریہ سخت مکروہے۔“مدنی گلدستہ’’صدیق ‘‘کے4حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) پورا شعبا ن روزہ نہ رکھنا صرف یومِ شک یعنی تیسویں شعبان کوبِلاوجہ نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
(2) اگرتیسویں شعبان اس دن ہوجس میں وہ روزہ رکھنے کا عادی ہے تو اب اس دن کا روزہ رکھنا افضل ہے۔
(3) نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجس چیز سے منع فرمائیں اس سے باز رہناعبادت ہے ۔
(4) ایسی نفلی عبادت جوفرائض وواجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے شرعاً ممنوع ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے مطابق روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1227