Main Icon

باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1197

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ يَشُوْصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

عن حذيفةرضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من اللیل يشوص فاه بالسواك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو دہن مبارک میں مسواک ملتے (یعنی مسواک سے منہ کو صاف فرماتے)۔“

شرح حدیث

مسواک منہ کی صفائی کرتی ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”یعنی (نیند سے بیدار ہونے کے فورًا بعد) وضو بلکہ استنجے سے بھی پہلے (مسواک کرتے) پھر وضو میں اس کے علاوہ کیونکہ مسواک بیدار ہونے کی بھی سنت ہے اور وضو کی بھی۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنَا ابنِ دقیق العیدرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ اس حدیث سے سوکر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے کیونکہ نیند میں معدہ کے بخارات منہ کی طرف بلند ہوتےہیں جس سے منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اور مسواک منہ کی صفائی کا آلہ ہے اس لیے سوکر اُٹھنے کے بعد مسواک کرنا مستحب ہے۔“مگریہ ذہن میں رہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سوکراٹھنے کے بعدمسواک کرنا ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دہن مبارک میں تو ہمیشہ خوشبو ہی خوشبو ہے۔
وہ دَہن جس کی ہر بات وحي خدا
چشمۂ علم و حِکمت پہ لاکھوں سلام

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1197