Main Icon

باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1198

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُوْلِاللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُوْرَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ اَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوضَّاُ وَيُصَلِّي.

عن عائشةرضي الله عنها قالت:كنا نعد لرسولالله صلى الله عليه وسلم سواكه وطهوره فيبعثه الله ما شاء ان يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضا ويصلي.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، رات میں جس وقتاﷲ عَزَّ وَجَلَّچاہتا آپ بیدار ہوتے، مسواک کرتے اور وضو کرکے نماز پڑھتے۔“

شرح حدیث

مسواک سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”یعنی ہم حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی مسواک اور وضو کا پانی آپ کے سرہانے اول رات ہی میں رکھ دیتے تھے، معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1198