حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَاعْفُوا اللِّحَى.
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: احفوا الشوارب واعفوا اللحى.
حدیث ترجمہ
”حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“
شرح حدیث
فطرت سے مراد:مذکورہ احادیث میں فطری خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفطرت کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں:”فطرت کے لغوی معنیٰ ہیں پیدائش،رب فرماتا ہے:﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-﴾(پ۲۵،الشوری:۱۱)(ترجمۂ کنزالایمان:آسمانوں اور زمین کا بنانے والا۔)مگر اصطلاح میں ان سنتِ انبیاکو فطرت کہا جاتا ہے جن پر ہمارے حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بھی عامل رہے۔“(1)ختنہ کرنا:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیختنہ کے متعلق فرماتے ہیں: ”ختنہ سنت ہے اور یہ شعار اسلام میں ہے کہ مسلم وغیرمسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرف عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں۔ ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال کی عمر تک ہے اور بعض علما نے یہ فرمایا کہ ولادت سے ساتویں دن کے بعد ختنہ کرنا جائز ہے۔“(2)مونچھیں کترنا:مونچھوں کو کم کرنا سنت ہے اتنی کم کرے کہ ابرو کی مثل ہوجائیں یعنی اتنی کم ہوں کہ اوپر والے ہونٹ کے بالائی حصہ سے نہ لٹکیں۔
علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”مستحب یہ ہے کہ مونچھوں کے بال کتروائے حتّٰی کہ ہونٹوں کے کنارے ظاہر ہوجائیں۔ امام نووی(رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے کہا: مونچھیں کتروانا سنت ہے۔ مستحب یہ ہے کہ پہلے دائیں طرف سے کتروانا شروع کرے خود کترے یا کسی سے کتروائے۔“(3)داڑھی بڑھانا:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیداڑھی بڑھانے کے متعلق فرماتے ہیں: ”داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے۔ مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے، ہاں ایک مشت سے زائد ہو جائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں۔ داڑھی چڑھانا یا اس میں گرہ لگانا جس طرح سکھ وغیرہ کرتے ہیں ناجائز ہے، اس زمانہ میں داڑھی مونچھ میں طرح طرح کی تراش خراش کی جاتی ہے، بعض داڑھی مونچھ کا بالکل صفایا کرا دیتے ہیں، بعض لوگ مونچھوں کی دونوں جانب مونڈ کر بیچ میں ذرا سی باقی رکھتے ہیں جیسے معلوم ہوتا ہے کہ ناک کے نیچے دومکھیاں بیٹھی ہیں، کسی کی داڑھی فرنچ کٹ اور کسی کی کرزن فیشن ہوتی ہے،یہ جو کچھ ہورہا ہے سب نصاریٰ کے اتباع و تقلید میں ہورہا ہے۔“ایک مشت داڑھی واجب ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانداڑھی بڑھانے کے متعلق فرماتے ہیں:”چار انگشت (یعنی ایک مشت) واجب اس سے قدرے زیادہ جائز ہے، بہت زیادہ (بڑھانا) مکروہ، چار انگشت سے کم کرنا سخت منع اور منڈانا حرام نیز ہندوؤں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے، اگر عورت کے داڑھی نکل آئے تو اسے منڈادے، خیال رہے کہ ٹھوڑی کے نیچے والے بال ایک مشت کے بعد کٹوائے اور اس کے آس پاس اسی مناسبت سے کہ بالوں کا حلقہ بن جائے جیسا کہ سَیِّدُنا ابنِ عمر (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)کا طریقہ تھا (بخاری شریف) قرآن حکیم فرماتا ہے:﴿لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ﴾(پ۱۶، طہ:۹۴) (ترجمہ کنزالایمان: نہ میری داڑھی پکڑو) معلوم ہوا کہ ایک مشت داڑھی سنتِ انبیا ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہے۔“ایک مشت داڑھی کو سنت کہنے سے مراد:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ایک مشت داڑھی رکھنا واجب وضروری ہے اور ایک مشت داڑھی کے لئے جو سنت کالفظ مشہور ہے تو اس سنت سے دین کا طریقہ مراد ہے یعنی ایک مشت داڑھی رکھنا دِینِ اسلام کا بتا یا ہوا طریقہ ہے یا اس وجہ سے داڑھی کو سنت کہا گیا ہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا سنت سے ثابت ہے جیسے نماز عید کو سنت کہا گیا ہے۔‘‘(4)مسواک کرنا:مسواک کرنے کے بارے میں تفصیلی بیان باب کی ابتدائی احادیث میں گزر چکا ہے۔(5)ناک میں پانی ڈالنا:ناک میں پانی چڑھانے سے مراد وضو کرتے ہوئے ناک صاف کرنے کے لئےاس میں پانی چڑھانا ہے۔(6)ناخن کاٹنا:جمعہ کے دن ناخن کاٹنامستحب ہے۔ ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے۔ منقول ہے: ”جو جمعہ کے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے)اﷲتعالیٰ اُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔“ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے تو رحمت آئیگی اور گُناہ جائیں گے۔ ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخلاصہ یہ ہے کہ پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سمیت ناخن کاٹیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے، اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا سے شروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سمیت ناخن کاٹ لیجئے، اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹے جائیں۔ پاؤں کے ناخُن کاٹنے میں بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤں کی چھنگلیاسے شروع کر کے تر تیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤں کے انگو ٹھے سے شرو ع کر کے چھنگلیاں سمیت ناخن کاٹ لیجئے۔ دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے اور اس سے برص یعنی کوڑھ کے مرض کا اندیشہ ہے۔ جَنابت کی حالت (یعنی غُسل فرض ہونے کی صورت ) میں ناخُن کاٹنامکروہ ہے۔ہرجمعہ کو اگر ناخن نہ ترشوائے تو پندرھویں دن ترشوائے اور اس کی انتہائی مدت چالیس (40) دن ہے اس کے بعد نہ ترشوانا ممنوع ہے۔ یہی حکم مونچھیں ترشوانے اور موئے زیر ِ ناف دور کرنے اور بغل کے بال صاف کرنے کا ہے کہ چالیس دن سے زیادہ ہونا منع ہے۔”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”ناخُن کاٹنے کے بعد ان کو دَفن کر دیجئے اور اگر ان کو پھینک دیں تو بھی حَرَج نہیں ۔ کٹے ہوئے ناخن بیتُ الْخَلاء یا غسل خانے میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے ۔“
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے سوال کیا گیا کہ ایک حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت آئی اور دوسری حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت آئی،ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا؟ اس کے جواب میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:’’ناخن کاٹنے سے متعلق کسی دن کوئی ممانعت نہیں، اس ليے کہ دن کی تعیین میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں، البتہ بعض ضعیف حدیثوں میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت ہے، لہٰذا اگر بدھ کا دن وجوب کا دن آجائے، مثلاً انتالیس دن سے نہیں تراشے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے، اگر آج نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے، تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہ تحریمی ہے اور اگرمذکورہ صورت نہ ہو تو بدھ کے علاوہ کسی اور دن تراشنا مناسب کہ جانبِ منع کو ترجیح رہتی ہے۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد(7)اُنگلیوں کے جوڑ دھونا:ساتویں چیز اُنگلیوں کے جوڑ دھونا اور انہیں پاک کرنا خصوصًا ان کی سلوٹیں جن میں میل کچیل جم جاتی ہے، ان لوگوں کے لیے خصوصًا یہ حکم ہے جن کی انگلیاں کام کاج کے سبب کھردری ہوجاتی ہیں نیز بدن کے وہ حصے اور جوڑ جن میں میل کچیل جمع ہوجانے کا گمان ہوتا ہے (جیسے ناف، کان اور بغل وغیرہ) ان کا بھی یہی حکم ہے (کہ ان کے دھونے میں خاص احتیاط کی جائے)۔“(8)بغل کے بال اُکھیڑنا:آٹھویں خصلت بغل کے بال اکھیڑنا ہے، انہیں مونڈنا اور مخصوص پاؤڈر سے دور کرنا بھی جائز ہے اور جن لوگوں نے اکھیڑنے کی عادت بنا رکھی ہو ان کے لیے اکھیڑنا ہی زیادہ بہتر و مناسب ہے، خصوصیت سے بغل کے بال اکھیڑنے کا حکم اس وجہ سے ہے کہ اس جگہ بالوں کے مسام بند رہنے سے بخارات جمع رہتے ہیں جس سے یہاں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور اکھیڑنے سے بالوں کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں جس سے مسام مکمل کھل جاتے ہیں اور بدبو جاتی رہتی ہے اس کے برعکس مونڈنے سے بالوں کی جڑیں اور مضبوط ہوتی ہیں۔ بغل کے بالوں کا اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا بھی جائز ہے۔(9)موئے زیر ناف دور کرنا:موئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیر ناف دور کرنا مستحب ہے اور بہتر جمعہ کا دن ہے اور پندرھویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس روز سے زائد گزار دینا مکروہ و ممنوع، موئے زیر ناف استرے سے مونڈنا چاہیے اور اس کو ناف کے نیچے سے شروع کرنا چاہیے اور اگر مونڈنے کی جگہ ہرتال چونا یا اس زمانہ میں بال اڑانے کا صابون چلا ہے(یونہیHair Remove Cream یعنی بال صاف کرنے والی کریم)، اس سے دور کرے یہ بھی جائز ہے، عورت کو یہ بال اکھیڑ ڈالنا سنت ہے۔(10)استنجا کرنا:پیشاب پاخانہ کا استنجا پانی سے کرنا سنت ہے اور اگر نجاست روپے (درہم) بھر سے زیادہ ہو تو فرض۔مدنی گلدستہ’’شعارِ اسلام‘‘کے9حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) اِن سنتِ انبیاکو فطرت کہا جاتا ہے جن پر حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی عمل کیا۔
(2) ختنہ سنت اور شعارِ اسلام میں سے ہے کہ اس سے مسلمان اورغیرمسلم کے درمیان امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرف عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں۔
(3) مونچھیں کتروانا سنت ہے، مونچھوں کے بال کتروائے یہاں تک کہ ہونٹوں کے کنارے ظاہر ہو جائیں۔
(4) داڑھی بڑھانا گزشتہ انبیا کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت ہے اور مونڈانا یا ایک مٹھی سے کم کرنا حرام ہے۔
(5) جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مستحب ہے اور اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے۔
(6) بغلوں کے بال اکھیڑنا سنت ہے اور مونڈنا بھی جائز ہے۔
(7) مُوئے زیر ناف دور کرنا سنت ہے، ہر ہفتہ میں نہانا، بدن کو صاف ستھرا رکھنا اور مُوئے زیر ناف دور کرنا مستحب ہے اور بہتر جمعہ کا دن ہے۔
(8) بغل کے بال اکھیڑ نا اور موئے زیر ناف استرے سے مونڈنا بہتر ہے۔
(9) ناخن، مونچھیں، بغل کے بال اور موئے زیرِ ناف چالیس دن سے زیادہ نہ کاٹنا ممنوع ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں فطری خصلتوں پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1205