Main Icon

باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1201

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيُ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ.

عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وطرف السواك على لسانه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ مسواک کا کنارہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان اَقدس پر تھا۔“

شرح حدیث

اہل خانہ کے ساتھ حُسنِ معاشرت:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر میں تشریف لاکر سب سے پہلےمسواک کرتے تھے، آپ کا یہ عمل شریف طبع مبارک کی کمال پاکیزگی اور اہل خانہ کے ساتھ حُسن معاشرت کی بنا پر ہوتا تھا، یہ عمل درحقیقت اُمَّت کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حُسنِ معاشرت کی تعلیم ہےکہ اپنے گھر کے ماحول میں بھی نہایت پاکیزگی وطہارت میں رہیں اور بچوں اور عورتوں سے ملنے کے دوران بھی نظافت وصفائی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ بعض علما فرماتے ہیں کہ مسواک سے ابتدا کرنے سے نمازِ نفل ادا کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی جب آپ گھر میں تشریف لاتےتو سب سے پہلے نفل نماز ادا کرنے کے لیے وضو کرتے اور اس میں مسواک فرماتے۔“مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے:حضرت سَیِّدُنا شریح بن ہانیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکی حدیث کے تحت مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”معلوم ہوا کہ مسواک وضو کے علاوہ بھی کرنی چاہیئے، مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ مسواک کے ستر فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1201