حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ رَاٰنِيْ فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانيِْ فِي الْيَقَظَةِ اَوْ كَاَنَّمَا رَاٰنِيْ فِي الْيَقَظَةِلَايَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِیْ.
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من راني في المنام فسيراني في اليقظة او كانما راني في اليقظةلايتمثل الشيطان بی.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے مجھے خواب میں دیکھا عنقریب وہ مجھے بیداری میں بھی دیکھےگا۔“یا فرمایا:” گو یا اس نے مجھے بیداری کی حالت میں دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔“
شرح حدیث
بیداری میں زیارت سے مراد:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں خواب میں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت کرنے کا ذکر ہےاور جس نے خواب میں دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی زیارت کرے گا۔ بیداری میں زیارت کرنے سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس حدیث کے بھی چند معنیٰ کیے گئے: ایک یہ کہ جس صحابی نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔دوسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔تیسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے اپنی زندگی ہی میں بیداری میں دیکھے گا۔ خواص اولیاء تو ظاہر ظہور دیکھیں گے ہم جیسے عوام جن میں ضبط(برداشت) کا مادہ نہیں راز چھپا نہیں سکتے وہ مرتے وقت جب زبان بند ہوجائے گی تب پہلے مجھے دیکھیں گے بعد میں وفات پائیں گے تاکہ وہ راز ظاہر نہ کرسکیں۔چنانچہ حضرتعبداللّٰہابنِ عباس (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَا)نے ایک بار حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو خواب میں دیکھا بیدار ہوکر اس حدیث میں غور کیا اور سوچا کہ اب میں حضورِ انور کو بیداری میں کیونکر دیکھوں گا،آپ اپنی خالہ اُمّ المؤمنین میمونہرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَاکے گھر تشریف لائے حضرت میمونہ نے حضور کا آئینہ آپ کو دیا جس میں حضورِ انور اپنا چہرہ انور دیکھا کرتے تھے حضرت ابنِ عباس نے جب آئینہ دیکھا تو اس میں بجائے اپنی صورت کے حضور کی صورت شریف نظر آئی اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی۔چوتھے یہ کہ میرے زمانہ ٔحیات شریف میں جو مسلمان مجھ تک نہ پہنچ سکا اس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہاِنْ شَآءَ اللّٰہعنقریب مجھ تک پہنچ جائے گا اور میری زیارت کرلے گا مگر تیسرے معنیٰ بہت قوی ہیں اور یہ بشارت عام مسلمانوں کے لیے ہے۔اَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتمیں ہے :جہاں تک نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس دنىا سے رخصت ہونے کے بعد بىدارى مىں زىارت کرنے کی بات ہے تو بعض محدثىن نے کہا : ىہ کسى صحابى ىا تابعى سے منقول نہىں ہے۔ انہوں نے ىہ بھى کہا:حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جُدائی مىں چھ مہىنے تک سخت غمگىن رہىں، ىہاں تک کہ جان جانِ آفرىن کے سپرد کردى۔وہ روضہ مبارکہ کے قرىب ہى رہتى تھىں، کسى نے نقل نہىں کىا کہ اس مدت مىں حضرت فاطمہ زہرارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے بىدارى مىں نبى کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى زىارت کى ہو۔ہاں اس سلسلے مىں بعض اولىائے کرام کے واقعات مَروى ہىں اور درجۂ صحت کو پہنچے ہوئے ہىں۔ مشائخِ کرام کے اس قسم کے واقعات بہت ہىں اور حدِّ تواتُر کے قرىب پہنچے ہوئے ہىں۔ اس حال کا منکر اولىائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکى کرامات کو مانتا ہے ىا نہىں، اگر نہىں مانتا تو وہ اس لائق ہى نہىں کہ اس کے ساتھ بحث کى جائے کىونکہ وہ اىسى چىز کا منکر ہے جو کتاب و سنت سے ثابت ہے اور اگر مانتا ہے توىہ زىارت بھى از قبىلِ کرامات ہے تو انکار کىوں؟حُجَّةُ الْاِسْلَامامام محمد غزالىقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاپنى تصنىف ”اَلْمُنْقِذمِنَ الضَّلَال“ مىں فرماتے ہىں کہ اربابِ قُلوب بىدارى مىں فرشتوں اور اَرواحِ انبىا کا مشاہدہ کرتے ہىں ان کى آوازىں اور ان کے کلمات سنتے ہىں اور ان سے فوائد حاصل کرتے ہىں۔مواہبِ لَدُنىہ مىں ہے کہ حضرت ابنِ منصوررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے رسالے مىں لکھا کہ حضرت شىخ ابوالعباس قسطلانىعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى خدمت مىں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے لىے دعا کى اور فرماىا:”احمد!اللّٰہتعالىٰ تمہارا ہاتھ پکڑے۔حضرت شىخ ابوالمسعودرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے مىں بىان کىا کہ وہ ہر نماز کے بعد نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مصافحہ کىا کرتے تھے۔قطبِ وقت حضرت سَیِّدُنَا ابوالحسن شاذلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکے بارے مىں بىان کىا کہ مجھے نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دىکھا تو فرماىا:”على اپنے کپڑوں کو مىل کچىل سے پاک کرو۔“ حضرت سىد نور الدىن ىحىىٰرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ انہوں نے قبر شرىف کے اندر سے جواب سنا:” تم پر سلام ہو مىرے بىٹے!“حضرت شىخ ابوالعباس مرسىرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے نقل ہے کہ اگر اىک لمحے کے لىے سىد المرسلىنصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جمال مجھ سے پوشىدہ ہوجائےتو اپنے آپ کو مسلمان شمار نہ کروں۔
صاحبِبَہْجَةُ الْاَسْرَاراپنى سند سے رواىت کرتے ہىں جس مىں صرف دو واسطے ہىں کہ اىک دن حضورغوث اعظم شىخ محى الدىن عبدالقادررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکرسى پر بىٹھےہوئے وعظ کہہ رہے تھے، تقرىباً دس ہزار افراد مجلسِ وعظ مىں حاضر تھے۔حضرت شىخ على بن ہىتىرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہحضور غوث پاک کى کرسى کے پائے کے پاس بىٹھے ہوئے تھے۔ شىخ على بن ہىتى کو نىند آگئى، حضرت غوث اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حاضرىن کو خاموشى کا حکم دىا۔ سب لوگ خاموش ہوگئے، حالت ىہ تھى سانس لىنے کى آوازوں کے علاوہ کچھ سنائى نہ دىتا تھا۔حضورسَیِّدُناغوث اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکرسى سے نىچے اترے اور شىخ على بن ہىتى کے سامنے با ادب کھڑے ہو کر ان کى طر ف دىکھنے لگے۔شىخ على بىدار ہوئے تو حضور غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا: کیاتمہىں خواب مىں نبى پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى زىارت ہوئى ہے؟ انہوں نے عرض کى: ہاں۔ فرماىا:اسى لىے مىں تمہارے سامنے بااد ب کھڑا تھا۔تمہىں نبى کریم نے کىا نصىحت کى ؟ کہنے لگے کہ آپ کى مجلس مىں باقاعدہ حاضرى دىا کروں۔شىخ علىرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا کہ جو کچھ مىں نے خواب مىں دىکھا تھا حضور غوث پاکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے بىدارى مىں دىکھا۔حق باطل سے مُشتبہ نہ ہو جائے:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان کہ”شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔ ‘‘اس کی شرح میں مرآۃ المناجیح میں ہے:یہ حضور کا وہ معجزہ ہے جو تاقیامت باقی ہے کہ جیسے شیطان زندگی شریف میں آپ کی شکل اختیار نہیں کرسکتا تھا یوں ہی تاقیامت کسی کے خواب میں حضور کی شکل میں نہیں آسکتا حضور انور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے سوا اور تمام کی شکلوں میں آجاتا ہے،خواب میں باتیں کرجاتا ہے مرد یا عورت کو احتلام اس کی مہربانی سے ہوتا ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں: شیطان نہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مثالی صورت میں آسکتا ہےاور نہ ہی مُشابہ صورت میں۔ علمائے کرام نے فرمایا:”جس طرحاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے بیداری میں شیطان کو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صورت میں آنے سے روک دیاہے اسی طرح خواب میں بھی شیطان کو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صورت میں آنے سے روک رکھا ہے تا کہ حق باطل کے ساتھ مشتبہ نہ ہو جائے ۔“
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:” جس شخص نے نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خواب مىں دىکھا اس نے برحق دىکھا اور آپ ہى کو دىکھا، آپ کے دربارِ عزت و حقانىت کے گرد جھوٹ اور باطل کا گزر نہىں ہے۔ شىطان جو خواب اور بىدارى مىں مختلف صورتوں مىں ظاہر ہونے پر قادر ہے اس بات کى طاقت نہىں رکھتا کہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى صورت مىں نمودار ہو، اىسا نہىں ہوسکتا کہ وہ کسى صورت مىں ظاہر ہو اور یہ جھوٹی بات دىکھنے والے کے خىال مىں ڈالے کہ ىہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہىں۔اللّٰہتعالىٰ کى عادتِ کرىمہ اسى طرح جارى ہے۔ علما ء نے اسے نبى پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى خصوصىات مىں شمار کىا ہے۔خواب میں دیدار کی صورتیں:خواب میں دیدار کی کئی صُورتیں ہوتی ہیں ،ہر ایک زائر (یعنی زِیارت کرنے والا )اپنی اپنی ایمانی حیثیت کے مُطابق زِیارت کرتا ہے،عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جس شخص نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِنَبُوَّت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خَواب میں زِیارت کی اور کوئی ناپسندیدہ بات نہیں تھی (یعنی سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمناراض نہیں تھے) تو وہ ہمیشہ عُمدہ حال میں رہے گا۔ اگر ویران جگہ میں دیدار کیا تو وہ ویرانہ سبزہ زار میں بدل جائے گا۔اگر مظلوم قوم کی سرزمین میں دیکھا تو اُن مظلوموں کی مَدد کی جائے گی ۔ اگر مَغموم ( غمزَدہ ) نے زِیارت کی تو اس کا غم جاتا رہے گا ۔اگر مَقروض تھا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے قرض کو ادا فرمائے گا۔اگر مَغلوب تھا تو اس کی مَددکی جائے گی۔اگر قید تھا تو رہائی پائے گا اور اگر غلام تھا تو آزادی پائے گا۔اگر غائب تھا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّصحیح وسلامت اُسے گھرلوٹا دے گا۔ اگر تنگدَست تھا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے رِزق میں کُشادَگی عطا فرمائے گااور اگر مریض تھا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُسے شفا عطا فرمائے گا ۔مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بیداری میں حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت کےمتعلق مشائخِ کرام سے بہت سے واقعات منقول ہیں اور حدِّ تَواتُر ے کے قرىب پہنچے ہوئے ہىں۔
(2) اربابِ قُلوب بىدارى مىں فرشتوں اور اَرواحِ انبىا کا مشاہدہ کرتے ہىں ان کى آوازىں اور ان کے کلمات سنتے ہىں۔
(3) بزرگانِ دِین میں سے بعض وہ ہیں جنہیں قبرِ اَنور سے سلام کا جواب ملا،بعض وہ ہیں جن سے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مصافحہ فرمایا اور بعض نیک بخت وہ ہیں جن سےسىد المرسلىنصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جمال ایک لمحے کے لئے غائب نہیں ہوتا۔
(4) جس طرح شیطان زندگی شریف میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شکل اختیار نہیں کرسکتا تھا یوں ہی تاقیامت کسی کے خواب میں حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شکل میں نہیں آسکتا۔
(5) جس شخص نے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خَواب میں زِیارت کی اورآپ کو ناراض نہ دیکھا تو وہ ہمیشہ عُمدہ حال میں رہے گا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت ،قبرمیں ان کی پہچان اور آخرت میں ان کا پڑوس عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 840