Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1035

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ صَعْصَعَةَ اَنَّ اَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ: اِنِّي اَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَاِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ اَوْ بَادِيَـتِكَ فَاَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَاِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ اِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ اِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ اَبُو سَعِيْدٍ:سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عن عبد اﷲ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعة ان ابا سعيد الخدري رضي الله عنه قال له: اني اراك تحب الغنم والبادية فاذا كنت في غنمك او باديـتك فاذنت بالصلاة فارفع صوتك بالنداء فانه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا انس ولا شيء الا شهد له يوم القيامة قال ابو سعيد:سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت عبداﷲبن عبد الرحمٰن بن ابو صعصعہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ اُنہیں حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا:میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم بکریوں اور جنگل کو پسند کرتے ہو لہٰذا جب تم اپنی بکریوں کے پاس ہو یا جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان کہو تو اپنی آواز کو بلند کرکے اذان دینا کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان یا کوئی اور شے اذان سنے گی وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔حضرت ابو سعید خُدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔

شرح حدیث

بلند آواز سے اذان دینی چاہیے:اِس حدیث میں بلند آواز سے اذان دینے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ دور دور تک کی چیزیں سن سکیں اور اُس اذان دینے والے کے لیے قیامت کے دن زیادہ سے زیادہ گواہ بن سکیں۔حدیثِ پاک میں ہے کہ ”جو چیز بھی اذان کی آواز سنے گی قیامت کے دِن اُس کے لیے گواہی دے گی۔“بعض علما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہر شے ہے خواہ وہ جمادات ہوں یا اس کے علاوہ کوئی چیز ہو جو سننے کی طاقت نہیں رکھتی وہ بھی اس معنیٰ میں شامل ہے یعنی قیامت کے دن گواہی دے گی۔بعض علما فرماتے ہیں کہ اس سےمراد وہ مخلوق ہے جو سننے کی طاقت رکھتی ہے جیسے انسان،جن ،ملائکہ اور تمام حیوانات۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تنہا شخص کو اذان دینا مستحب ہے۔حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مروی ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”جس نے بیابان میں اذان دی اور اکیلے نماز قائم کی اس کے پیچھے فرشتوں کی جماعت نماز پڑھتی ہے۔“بلند مکان پر اذان دینی چاہیے:اذان دیتے وقت آواز کو بلند کرنا مستحب ہے تاکہ اذان پر گواہی دینے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔ مؤذن کو چاہیے کہ کسی بلند مکان پر اذان دے تاکہ دور تک آواز جاسکے۔ حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبنی نجار کی ایک عورت کے مکان پر اذان دیتے تھے کیونکہ اس کا مکان مسجد کے اطراف کے سب مکانوں سے اونچا تھا۔ تنہا شخص کو اذان کہنا مستحب ہے اگرچہ اس کے ساتھ نماز پڑھنے کوئی نہ آئے لیکن جہاں تک آواز جائے گی وہاں تک کی اشیاء اور حیوانات وغیرہ اس کے گواہ ہوجائیں گے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ جنات بھی انسانوں کی آواز سنتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’شہادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے وہاں تک جن و اِنس، حیوانات اور جمادات اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دیں گے۔
(2) اذان بلند آواز سے دینی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ مخلوق گواہی دے۔
(3) بلند مقام پر اذان دینی چاہیے کیونکہ بلند مقام سے آواز دور تک جاتی ہے۔
(4) حضرت بلال
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبنی نجار کی ایک عورت کے مکان پر چڑھ کر اذان دیا کرتے تھے کیونکہ اس عورت کا گھر سب سے اونچا تھا۔
(5) تنہا شخص کو اذان دینا مستحب ہے اگر چہ وہاں کوئی اور نماز پڑھنے والا نہ ہو ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نماز کی پابندی کے ساتھ اذان کہنے کی بھی سعادت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1035