- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1036
باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1036
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ اَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتّٰى لَا يَسْمَعَ التَّاْذِيْنَ فَاِذَا قُضِىَ النِّدَاءُ اَقْبَلَ حَتّٰى اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ اَدْبَرَ حَتّٰى اِذَا قُضِىَ التَّثْوِيْبُ اَقْبَلَ حَتّٰى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ:اُذْكُرْ كَذَا وَاذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَبْلُ حَتّٰى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى.
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا نودي بالصلاة ادبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التاذين فاذا قضى النداء اقبل حتى اذا ثوب للصلاة ادبر حتى اذا قضى التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول:اذكر كذا واذكر كذا لما لم يذكر من قبل حتى يظل الرجل ما يدري كم صلى.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیرکر بھاگتا ہے یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔پھر جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہےاور بندے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے اوراس کی بھولی ہوئی باتوں کے بارے میں کہتا ہے :فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر حتّٰی کہ آدمی کویاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی پڑھی۔“
شرح حدیث
شیطان اذان سے کیوں بھاگتا ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں: اس حدیث میں اذان کی بڑی فضیلت کا بیان ہے ۔شیطان کو اذان سے اتنی نفرت ہے جتنی کسی اور ذکر سے نہیں۔دیکھو شیطان تلاوتِ قرآن کے وقت توموجود رہتا ہے لیکن اذان کے وقت الٹے پاؤں بھاگ جاتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب تمہیں شیطان بہکائے تو اذان دو۔“حدیث شریف میں ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے وہاں تک ہر سننے والی شے قیامت میں اس کی گواہ بن جاتی ہے ۔شیطان اذان کے وقت گوز مارتا ہوا اس لئے بھاگتا ہے کہ وہ اذان نہ سنے تاکہ اسے توحید کی گواہی دینی نہ پڑے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہاں بھاگنے کے ظاہری معنیٰ ہی مرادہیں اوراذان میں دفع شیطان کی تاثیر ہے اسی لیے طاعون پھیلنے پر اذان کہلواتے ہیں کہ یہ وباجنات کے اثرسے ہے۔بچے کے کان میں اذان دیتے ہیں کہ اس کی پیدائش پر شیطان موجودہوتاہے جس کی مار سے بچہ روتا ہے۔دفن کے بعدقبر کے سرہانے اذان دی جاتی ہے کیونکہ وہ میت کے امتحان اورشیطان کے بہکانے کا وقت ہے،اس کی برکت سے شیطان بھاگے گا،نیز میت کے دل کو سکون ہو گا،نئے گھر میں دل لگ جائے گا،نکیرین کے سوالات کے جوابات یاد آجائیں گے۔“گوز مارنے کا مطلب:حدیث میں ”ضُرَاطٌ“(گوز مارنے) کا لفظ آیا ہے اس کا معنیٰ ہے(آواز کے ساتھ) ریح خارج کرنا۔ شیطان پر اذان بھاری ہوتی ہے اس لیے وہ ریح خارج کرتا ہے جیسے گدھا بوجھ کی وجہ سے کرتا ہے۔ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ شیطان اپنے آپ کو اذان کی آواز سے غافل کرنے اور خود کو مشغول کرنے کے لیے ایک آواز نکالتا ہے جسے ضراط سے تشبیہ دی گئی ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے :گوز مارنے سے مراد اس کی انتہائی ذلت اورخوف ہے کہ ایسی حالت میں ڈرنے والاگوزمارتاہوا ہی بھاگاکرتاہے۔اذان دینے کے فضائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:اِس حدیث میں اذان کی فضیلت کا بیان ہے اسی طرح اس بات کا بھی بیان ہے کہ مؤذن کے لیے بہت بڑا اجر ہے جبکہ وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے ثواب کی امید پر اذان دے۔صحیح ابنِ خُزیْمہ کی روایت میں ہے کہ مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے ہر خشک و تر چیز استغفار کرتی ہےاور نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اُس کے دو نمازوں کے درمیان کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ تین آدمی قیامت کے دن مشک کے ٹیلے پرہوں گے اُن کو قیامت کی ہولناکی خوف زدہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان کا حساب ہوگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اذان دے اور لوگوں کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف بلائے۔ایک حدیث میں ہے کہ جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے پانچ وقت کی اذان دی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن انبیا اور شہدا کے بعد سب سے پہلے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاور صالح مؤذنین کو جنتی حُلّہ پہنایا جائے گا۔
¥اذان دینے کے مستحب مواقع:فرض نمازوں اور جمعہ کی جماعتوں کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی اذان کہی جاسکتی ہے۔ جیسے پیدا ہونے والے بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت۔ اسی طرح مغموم (غمزدہ) کے کان میں، مرگی والےاورغصبناک اوربدمزاج آدمی اور جانور کے کان میں،جنگ اور آگ لگنے کے وقت، جنوں اور شیطانوں کی سرکشی کے وقت، جنگل میں راستہ نہ ملنے کے وقت،میت کے دفن کرنے کے بعد ان صورتوں میں اذان پڑھنا مستحب ہے۔مدنی گلدستہ’’اذان‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اذان کے وقت شیطان ریح خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے۔
(2) شیطان توحید کی گواہی دینے سے بچنے کے لئے اذان کے وقت بھاگتا ہے۔
(3) مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
(4) فرض نمازوں اور جمعہ کے علاوہ بھی کئی مواقع پر اذان دینا مستحب ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شیطان کے وسوسوں سے بچائےاوراذان کے فضائل سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1036