Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1036

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ اَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتّٰى لَا يَسْمَعَ التَّاْذِيْنَ فَاِذَا قُضِىَ النِّدَاءُ اَقْبَلَ حَتّٰى اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ اَدْبَرَ حَتّٰى اِذَا قُضِىَ التَّثْوِيْبُ اَقْبَلَ حَتّٰى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ:اُذْكُرْ كَذَا وَاذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَبْلُ حَتّٰى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا نودي بالصلاة ادبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التاذين فاذا قضى النداء اقبل حتى اذا ثوب للصلاة ادبر حتى اذا قضى التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول:اذكر كذا واذكر كذا لما لم يذكر من قبل حتى يظل الرجل ما يدري كم صلى.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیرکر بھاگتا ہے یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔پھر جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہےاور بندے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے اوراس کی بھولی ہوئی باتوں کے بارے میں کہتا ہے :فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر حتّٰی کہ آدمی کویاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی پڑھی۔“

شرح حدیث

شیطان اذان سے کیوں بھاگتا ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں: اس حدیث میں اذان کی بڑی فضیلت کا بیان ہے ۔شیطان کو اذان سے اتنی نفرت ہے جتنی کسی اور ذکر سے نہیں۔دیکھو شیطان تلاوتِ قرآن کے وقت توموجود رہتا ہے لیکن اذان کے وقت الٹے پاؤں بھاگ جاتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب تمہیں شیطان بہکائے تو اذان دو۔“حدیث شریف میں ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے وہاں تک ہر سننے والی شے قیامت میں اس کی گواہ بن جاتی ہے ۔شیطان اذان کے وقت گوز مارتا ہوا اس لئے بھاگتا ہے کہ وہ اذان نہ سنے تاکہ اسے توحید کی گواہی دینی نہ پڑے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہاں بھاگنے کے ظاہری معنیٰ ہی مرادہیں اوراذان میں دفع شیطان کی تاثیر ہے اسی لیے طاعون پھیلنے پر اذان کہلواتے ہیں کہ یہ وباجنات کے اثرسے ہے۔بچے کے کان میں اذان دیتے ہیں کہ اس کی پیدائش پر شیطان موجودہوتاہے جس کی مار سے بچہ روتا ہے۔دفن کے بعدقبر کے سرہانے اذان دی جاتی ہے کیونکہ وہ میت کے امتحان اورشیطان کے بہکانے کا وقت ہے،اس کی برکت سے شیطان بھاگے گا،نیز میت کے دل کو سکون ہو گا،نئے گھر میں دل لگ جائے گا،نکیرین کے سوالات کے جوابات یاد آجائیں گے۔“گوز مارنے کا مطلب:حدیث میں ”ضُرَاطٌ“(گوز مارنے) کا لفظ آیا ہے اس کا معنیٰ ہے(آواز کے ساتھ) ریح خارج کرنا۔ شیطان پر اذان بھاری ہوتی ہے اس لیے وہ ریح خارج کرتا ہے جیسے گدھا بوجھ کی وجہ سے کرتا ہے۔ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ شیطان اپنے آپ کو اذان کی آواز سے غافل کرنے اور خود کو مشغول کرنے کے لیے ایک آواز نکالتا ہے جسے ضراط سے تشبیہ دی گئی ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے :گوز مارنے سے مراد اس کی انتہائی ذلت اورخوف ہے کہ ایسی حالت میں ڈرنے والاگوزمارتاہوا ہی بھاگاکرتاہے۔اذان دینے کے فضائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:اِس حدیث میں اذان کی فضیلت کا بیان ہے اسی طرح اس بات کا بھی بیان ہے کہ مؤذن کے لیے بہت بڑا اجر ہے جبکہ وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے ثواب کی امید پر اذان دے۔صحیح ابنِ خُزیْمہ کی روایت میں ہے کہ مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے ہر خشک و تر چیز استغفار کرتی ہےاور نماز کے لیے حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اُس کے دو نمازوں کے درمیان کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ تین آدمی قیامت کے دن مشک کے ٹیلے پرہوں گے اُن کو قیامت کی ہولناکی خوف زدہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان کا حساب ہوگا ان میں سے ایک وہ شخص ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اذان دے اور لوگوں کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف بلائے۔ایک حدیث میں ہے کہ جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے پانچ وقت کی اذان دی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن انبیا اور شہدا کے بعد سب سے پہلے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاور صالح مؤذنین کو جنتی حُلّہ پہنایا جائے گا۔
¥اذان دینے کے مستحب مواقع:
فرض نمازوں اور جمعہ کی جماعتوں کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی اذان کہی جاسکتی ہے۔ جیسے پیدا ہونے والے بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت۔ اسی طرح مغموم (غمزدہ) کے کان میں، مرگی والےاورغصبناک اوربدمزاج آدمی اور جانور کے کان میں،جنگ اور آگ لگنے کے وقت، جنوں اور شیطانوں کی سرکشی کے وقت، جنگل میں راستہ نہ ملنے کے وقت،میت کے دفن کرنے کے بعد ان صورتوں میں اذان پڑھنا مستحب ہے۔مدنی گلدستہ’’اذان‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اذان کے وقت شیطان ریح خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے۔
(2) شیطان توحید کی گواہی دینے سے بچنے کے لئے اذان کے وقت بھاگتا ہے۔
(3) مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
(4) فرض نمازوں اور جمعہ کے علاوہ بھی کئی مواقع پر اذان دینا مستحب ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شیطان کے وسوسوں سے بچائےاوراذان کے فضائل سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1036