- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1051
حدیث مبارکہ
عَنْ جَرِيْرٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا عِنْدَالنَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ اِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِفَقَالَ:اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُوْنَ في رُؤْیَتِهِ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوا.وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَنَظَرَ اِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ اَرْبَعَ عَشْرَةَ .
عن جرير بن عبد الله البجلي رضی اﷲ عنہ قال:كنا عندالنبي صلی اﷲ علیہ وسلم فنظر الى القمر ليلة البدرفقال:انكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر لا تضامون في رؤیته فان استطعتم ان لا تغلبوا علی صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها فافعلوا.وفي رواية: فنظر الى القمر ليلة اربع عشرة .
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا جریر بن عبداﷲبَجلیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چودھویں کےچاند کی طرف دیکھ کر ہم سے فرمایا:”تم یقیناًاپنے ربّ تعالیٰ کادیدارکرو گےجس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہوکہ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت نہیں ہورہی ۔اگر تم سےہوسکے تو طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے قبل کی نماز میں ہر گز مغلوب نہ ہونا(یعنی فجر و عصر کی نمازہر گز ترک نہ کرنا)۔
شرح حدیث
فجر وعصرمیں سسُتی سےبچنا:لَمعَات شرح مشکوٰۃ میں ہے:” تم فجر وعصر کی نماز میں مغلوب نہ ہونا یعنی سُستی و آرام طلبی تم پر اس طرح غالب نہ آئے کہ یہ دونوں نمازیں ہی چھوڑ دو۔فجر وعصر کی تخصیص ان کی افضیلت کی بنا پر ہے ، ورنہ تمام نمازوں کا یہی حکم ہےکہ ان میں سے کسی میں بھی سستی نہ کی جائے۔“ان دو نمازوں کو خصوصیت سے ذکرکرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ دیدارِ الٰہی ان ہی اوقات میں ہوگا۔ان دو نمازوں پر پابندی اس دیدار کی لیاقت و قابلیت پیدا کرے گی ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمؤمن کے لئے سب سے بڑی نعمت :علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت شرح ریاض الصالحین میں فرماتے ہیں:”آخرت میں اہلِ ایمان کو دیدارِ الٰہی ہوگا اس پر تمام اہل ِسنت کا اِجماع ہے ۔بدعتیوں میں سے معتزلہ،خوارج اور بعض مرجیہ فرقوں نےآخرت میں دیدارِ الٰہی کو عقلی طور پر ناممکن قرار دے کراس کا انکار کیاہے۔ان کا یہ کہنا صریح غلطی اور بہت بڑی جہالت ہےکیونکہ قرآن وسنت،اِجماعِ صحابہ اور سلف صالحین سے یہ بات ثابت ہے کہ مؤمنین کو آخرت میں دیدارِ الٰہی ہوگا۔بیس صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے اس بارے میں احادیث مروی ہیں اور آیاتِ قرآنیہ تو اس بارے میں مشہور ہیں۔بدعتیوں نےآخرت میں دیدارِ الٰہی کے حوالے سے جو اعتراضات اٹھائے ہیں اس کے جوابات اہلِ سنت کے علمائے متکلمین کی کتب میں موجود ہیں۔“مُحقِّق عَلَی الْاِطْلَاقشیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:تما م اہلِ حق کااس بات پر اجماع ہے کہ آخرت میں اہلِ ایمان کودیدار ِ الٰہی کی دولت نصیب ہوگی۔انسان ، ملائکہ، جِنَّات،مرد، عورتیں سبھی اس نعمت سے مشرّف ہوں گے۔دنیا میں بھی دیدارِالٰہی ممکن ہے لیکن اس کا وقوع نہیں۔ البتہ سید دو عالَم ،نبی مکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معراج کی شب دیدار ِالٰہی نصیب ہوا۔ دیدارِالٰہی کی نعمت سے صرف جنّتی ہی مشرف ہوا کریں گے،البتہ میدانِ محشر میں سب دیکھیں گے کیا مؤمن کیا کافر سب کو دیدارہو گاپھر کفار ہمیشہ کے لئے دورومحروم ہوجائیں گے،اوردائمی حسرت وندامت ان کا مقدر ہوگی۔نمازوں کی پابندی سے دیدارِ الٰہی کی لیاقت پیدا ہوتی ہے۔دیدارِالٰہی کےوقت ایسا نہیں ہوگاکہ بعض دیکھیں اوربعض نہ دیکھیں بلکہ جس طرح چودھویں کا چاند نہایت ہی واضح اورظاہر ہوتاہے کثیر مجمع بھی بغیرمشقت کے دیکھ لیتاہے اسی طرح باری تعالیٰ کا دیدار بھی نہایت ہی ظاہرو کامل ہوگا وہاں ہجوم ومجمع کی وجہ سےکسی کو دیکھنے میں مشقت و رکاوٹ نہ ہوگی۔حدیثِ مذکور میں موجود تشبیہ کی وضاحت:حدیثِ پاک میں ہے: ’’تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاندکو دیکھ رہے ہو۔‘‘یعنی آخرت میںاﷲتعالیٰ کادیداراس طرح شک وشبہ سےبالاترہوگاجیسےچاندکادیکھناشک وشبہ سے بالا تر ہوتا ہے۔ (اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی ذات سمت وجہت اور حدود سے پاک ہے اس لئے یہاں تشبیہ سے )یہ ہر گز مراد نہیں کہ جس طرح چاند ایک مخصوص جہت وحد میں سامنےنظر آتا ہےاسی طرحاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی ذات بھی ہوگی۔فجروعصر کا اجرِعظیم:فیوضُ الباری میں ہے:قیامت کے دن ہر مسلمان کو دیدار ِباری تعالیٰ ہوگا اور خدا کادیدارایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک نہایت آسانی کےساتھ اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے کہ ایک کا دیکھنا دوسرے کےلئے مانع نہیں ہوتا ۔ اب رہی یہ بات کہ یہ دیدار کیسے ہوگا، اس کی کیفیت کیا ہوگی ،ذات کا دیدار ہوگا یا تجلّی کی رُویت ہوگی ؟ تو اس کے متعلق ایک مسلم کےلئے بس اتنا جاننا اورماننا کافی ہے کہ دیدار ہوگا۔ رہی اس کی حقیقت وماہیت وکیفیت تو یہ نہ بیان ہوسکتی ہے اورنہ بیان کی جاسکتی ہے اورنہ اس کی تہہ تک پہنچنے کاہمیں مکَلَّف بنایا گیا ہے ۔ دیدارِباری حق ہے، کتاب وسنت واجماع ِ صحابہ سے ثابت ہے، احادیث تو اس باب میں بہت ہیں ۔قرآن مجید میں بھی اس کی تصریح ہے۔ رُویت ِالٰہی(دیدارِ الہی)کے ذکر کےوقت فجر وعصر کے ذِکر کی مناسبت یہ ہے کہ نماز افضل عبادات سے ہے اور عصر وفجر کی اہمیت وعظمت بہت زیادہ ہے ،کیونکہ یہ وقت فرشتوں کے اجتماع واعمال کے اٹھنے کا ہے ،لہٰذا ایسے افضل واعلیٰ عمل کا ثواب بھی افضل ہونا چاہیے اور وہ ہے دیدارِ الٰہی جو تمام اُخروی نعمتوں سے افضل واکمل اعلیٰ وارفع ہے۔ہر مومن دیدارِ الٰہی سے مُشَرَّف ہوگا:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:دنیا میں بندےاﷲتعالیٰ کو بصیرت یعنی نورِقلبی سے دیکھتے ہیں اسے جانتے پہچانتے ہیں،آخرت میں اسے بصارت یعنی نورِ نگاہ سے دیکھیں گےکہ وہاں بصارت میں بصیرت ہوگی۔دنیا میں خواب میں دیدارِالٰہی ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ ہمارے امامِ اعظم نے ایک سوبارربّ کوخواب میں دیکھا۔امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنےخواب میںاﷲعَزَّوَجَلَّکودیکھاتوپوچھا:الٰہی!کون سی عبادت افضل ہے؟ فرمایا:تلاوتِ قرآن، دوسری بار پھردیکھا،پوچھا: الٰہی!معنیٰ سمجھ کرتلاوت افضل ہے یا بغیر سمجھے بھی؟فرمایا :ہر طرح افضل ہے۔یہ حدیث عامۃ المسلمین کی دلیل ہے کہ مومن ربّ تعالیٰ کو محشر میں بھی آنکھوں سے دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیکھا کریں گے۔خیال رہے کہ یہ دیدار بغیر کسی جہت و سمت کے ہوگا کیونکہاﷲتعالیٰ جہت و سمت سے پاک ہے۔یہ دیدارقیامت میں تو ہوگا ہی جنت میں ہمیشہ ہوا کرے گا کسی کو جلد جلد کسی کو دیرسے۔ایک عاشقِ رسول کاعشق بھر اانداز:حدیثِ پاک میں ہے:”تاجدارِرِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چودھویں کے چاند کو دیکھا“چانددیکھنے کی اس کیفیت کوایک عاشقِ رسول نے کس عشق بھرے انداز میں بیان کیا ہے،ملاحظہ فرمائیے: چنانچہ مُفَسِّرِشَہِیر مُحدّث کَبِیْرعاشقِ صادِق مفتی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں : (نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چودھویں کے چاند کو دیکھا) یعنی رحمٰن کے چاندنے آسمان کے چاند کو دیکھا۔ ڈوبنے والے گہنے چاند کو اس چاند نے دیکھا جو نہ غروب ہو نہ گہنے۔ظاہر کے چمکانے والے چاند کو اس چاندنے دیکھا جو دل و جان، رُوح و ایمان کو چمکاتا ہے۔رات میں چمکنے والے چاند کو اُس چاند نے دیکھا جو ابدُالآباد تک ہر وقت دن رات چمکتا ہے اور چمکے گا ،میں کیا کہوں مجھے الفاظ بھی نہیں ملتےاَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّم وَبَارِكْ عَلٰی بَدْرِ النُّبُوَّۃِ وَشَمْسِ الرِّسَالَۃِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔یوں کہہ لو کہ اُس چاند کو جو سورج سے چمکتا ہےاس چاند نے دیکھا جو سورج کو چمکاتا ہے جو دِلوں پر دن نکال دیتا ہے۔
¥مدنی گلدستہ’’دیدارِ اِلٰہِی‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) اہلِ سنت کااس بات پر اتفاق ہے کہ آخرت میں مسلمانوں کودیدار ِ الٰہی نصیب ہوگا۔
(2) انسان ، ملائکہ اورجِنَّات کو بھی آخرت میں دیدارِ الٰہی نصیب ہوگا۔
(3) دیدارِالٰہی بغیر کسی جہت و سمت کے ہوگا کیونکہاﷲتعالیٰ جہت و سمت سے پاک ہے۔
(4) دیدارِالٰہی کےوقت ایسا نہیں ہوگاکہ بعض دیکھیں اوربعض نہ دیکھیں بلکہ جس طرح چودھویں کا چاند نہایت ہی واضح اورظاہر ہوتاہے کثیر مجمع بھی بغیرمشقت کے دیکھ لیتاہے اسی طرح باری تعالیٰ کا دیدار بھی نہایت ہی ظاہرو کامل ہوگا۔
(5) دیدارِالٰہی کی نعمت سے صرف جنّتی ہی مشرف ہوا کریں گے،البتہ میدانِ محشر میں سب دیکھیں گے کیا مؤمن کیا کافر سب کو دیدارہو گاپھر کفار ہمیشہ کے لئے دورومحروم ہوجائیں گے۔
(6) بدعتیوں نےآخرت میں دیدارِ الٰہی کے حوالے سے جو اعتراضات اُٹھائے ہیں اس کے جوابات اہلِ سنت کے علمائے متکلمین نے اپنی کتب میں دیئے ہیں۔
(7) دنیا میں بھی دیدارِ الٰہی ممکن ہے لیکن اس کا وقوع نہیں۔ہاں سیدِ دو عالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معراج کی شب دیدار ِالٰہی نصیب ہوا۔
(8) نمازوں کی پابندی سےدیدارِ الٰہی کی لیاقت پیدا ہوتی ہے۔
(9) خواب میں دیدارِ الٰہی ممکن بلکہ اس کا وقوع ثابت ہے چنانچہ امامِ اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہایک سو بار خواب میں رب تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں آخرت میں دیدارِ الٰہی کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1051